کیا اپوزیشن ملک میں انارکی پھیلانا چاہتی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستانی سیاست کا المناک پہلو یہ ہے کہ ہمارے سیاست دانوں کو اسلامی معاشرے میں رہتے ہوئے اسلامی تعلیمات کے ساتھ ساتھ دنیا کی چالبازیوں کو بھی ذہن میں رکھنا پڑتا ہے اس دوہرے معیار نے قوم کو نمونے ہی دیے ہیں جو دلوں میں بغض، پیٹ میں حرام اور کعبہ کا طواف پر طواف۔ کعبہ خود چکر میں ہے کہ یہ لوگ کس چکر میں ہیں اور یوں چند دنوں میں ہی ان اچھے انسانوں کی اخلاقی قدریں اور انسانیت کا درد، سیاسی رنگ بازیوں کی نذر ہو جاتا ہے۔

سجدہ خالق کو بھی، ابلیس سے یارانہ بھی
حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟

جو سچ کہوں تو برا لگے، جو دلیل دوں تو ذلیل ہوں۔ یاد رہے یہ سماج جہل کی زد میں ہے، یہاں حق بات کرنا حرام ہے۔ منافقت کا بازار سجاہے، بکنے کو سب تیار کھڑے ہیں۔ اقتدار کے پرانے کھلاڑی چال عمدہ چل چکے ہیں اب دانہ ڈال کر پنچھیوں کا انتظار ہے۔ کیا چال سامنے سے آتی ہے، بات ادھر ہی اٹکی ہے۔

چچا چھکن کی بیماری کی طرح اس کھیل کے سب کھلاڑیوں نے اپنی اپنی پٹاریاں چھپا رکھی ہیں۔ ضمنی انتخابات کے نتائج کو جس خوفناک انداز میں پیش کیا جا رہا ہے اور ٹی وی ٹاک شوز میں حکومتی موقف پر اپوزیشن کا بیانیہ جس طرح غالب آ رہا ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ نون لیگ پاکستان میں سیاست کے مناظر کو اپنی مرضی کے رنگ دینے کی ماہر ہے۔

کوئی مقابل نہیں دور دور تک۔ ڈسکہ کے الیکشن کے ساتھ ملک میں ہونے والے دیگر ضمنی انتخابات میں اگرچہ مجموعی طور پر پی ٹی آئی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا مگر کسی جگہ پر بھی اپوزیشن کو اعتراض نہیں سوائے ڈسکہ کے۔ وجہ آپ خود جانتے ہیں کہ اس بار حکومتی امیدوار بہتر منصوبہ بندی سے میدان میں اترا تھا جبکہ نون لیگ اپنی آبائی سیٹ پر شکست کا لیبل اپنی پیشانی پر سجانے کو تیار نہ تھی۔ اقتدارکا نشہ، چیز ہی ایسی ہے کہ نہیں چھٹتی ظالم منہ کو لگی ہوئی۔

مسند اقتدار پر آسمانوں کی بلندیاں بھی پست نظر آنے لگتی ہیں، پہاڑ بھی بونے دکھائی دینے لگتے ہیں، راحت و سرور کی زندگی میں مخملی لباس بھی چبھنے لگتے ہیں چنانچہ منصوبہ بندی سے ڈسکہ کے ضمنی انتخاب میں کچھ ایسا ڈرامہ رچایا گیا کہ ہر طرف سے حکومت پر آوازیں اٹھنا شروع ہو گئیں۔ اس شور سے لگتا ہے کہ ایک کمزور سیاسی حکومت کے قدم ڈولنا شروع ہو گئے ہیں۔ پی ٹی آئی کی سیاسی اور تنظیمی کمزوریاں اندر ہی اند ر جڑیں پکڑنے لگیں ہیں جو اچھا شگون نہیں ہے۔

چند دن پہلے وزیر اعظم کے پختون خوا دورے پر پندرہ سے زائد ارکان اسمبلی کا شرکت نہ کرنا، بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ مختلف صوبائی قیادتوں کا سینیٹ کے نامزد ناموں پر اعتراضات، پارٹی ارکان کا ٹی وی ٹاک شوز میں ایک دوسرے پر الزامات، نوشہرہ کا انتخاب اور فارورڈ بلاک جیسی تلخ حقیقتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اب عمران خان کو ریگستان پر نخلستان کا گمان کرنا، خود فریبی کا شکار ہونا، خود ستائشی کا نشہ اور ظل سبحانی کی اکڑ کو ختم کرنا ہو گا کیونکہ اس بار اپوزیشن کی یلغار کو روکنا آسان کام نہیں۔

وہ سب اپنے مال و آل کی حفاظت کی قسم کھا کر میدان میں اترے ہیں۔ آہ! کیا حرص ہے اس انسان کی، اس کی اپنی کوئی حیثیت بھی نہیں ہوتی مگر پھر بھی؟ پل کا پتا نہیں اور صدیوں کا سامان اکٹھا کرتا پھرتا ہے۔ موجودہ اپوزیشن کو اپنی کرپشن ثابت ہونے پر بڑا خطرہ پابند سلاسل ہونے کا ہے کیونکہ جرائم کی ایک لمبی فہرست ہے۔ زندگی بچانے کے جتن شروع ہو چکے ہیں ، ہاتھ پاؤں مارے جا رہے ہیں مگر راہ کوئی نہیں دکھ رہی۔

بھاری بھر کم بریف کیس اسلام آباد پہنچ چکے ہیں ، اسلام آباد کی غلام گردشوں کے مکین سینیٹ انتخابات کی سرکس کے گُرو پھونک پھونک کر قدم اٹھا رہے ہیں ، مبادا کہ ققت سے پہلے پرچہ آؤٹ نہ ہو جائے۔ سنا ہے کہ اس بار ارکان اسمبلی کی جو قیمت لگے گی وہ تاریخی ریکارڈ ہو گا۔ سپریم کورٹ کا سینیٹ الیکشن کے حوالے سے فیصلہ بھی اس الیکشن میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اگرچہ معزز عدالت نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ میثاق جمہوریت میں اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتیں سینیٹ میں اوپن رائے شماری کے حق میں لکھ چکی ہیں۔

اب دیکھیں یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟ نون لیگ نے ڈسکہ کے انتخاب پر ابتدائی طور پر 23 حلقوں پر اعتراضات اٹھائے تھے جس پر الیکشن کمیشن نے تحقیقات کرنے کے بعد اپنا فیصلہ سنا دیا۔ الیکشن کمیشن کی سفارشات کے مطابق چودہ حلقوں میں دوبارہ پولنگ ہونی چاہیے مگر اب نون لیگ نے پینترا بدلا اور اپنی ممکنہ شکست سے بچنے کے لیے مطالبہ کر دیا ہے کہ پورے حلقے میں دوبارہ انتخاب کروایا جائے۔ یہ ہے ملک میں انارکی پھیلانے کا نون لیگ کا خطرناک منصوبہ جس میں اداروں کو ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کرنا مقصود ہے۔

کو بہ کوپھیل گئی بات شناسائی کی
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

دوسری طرف اپوزیشن کی متحرک لیڈر محترمہ مریم نواز کو بھی کسی ارسطو نے مشورہ دیا ہے کہ ان کی بیماری کا علاج بہت ضروری ہے ورنہ ہو جائے گی بہت کمزوری۔ لگتا ہے اب مریم بی بی بھی اس آل بچاؤ اور مال بچاؤ جنگ سے تنگ آ چکی ہیں ، ان کی شدید خواہش لگتی ہے کہ کچھ ایسا چکر چلایا جائے اور زنجیر جہانگیری کو اس طرح سے ہلایا جائے کہ ان کا ملک سے باہر جانا ممکن ہو سکے۔ مگر کاتب تقدیر دور کھڑا مسکرا کر بول رہا ہے ”تیری آہوں پہ مسیحا کو ہنسی آتی ہے“ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *