ہٹلر کا طرز حکومت اور پاکستانی معاشرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب جرمنی میں ہٹلر کی حکومت مستحکم ہو گئی تو اس نے ریاست کا درجہ گھٹا کر نازی پارٹی کو ملک کا سب سے مضبوط ادارہ بنا دیا۔ اب پارٹی کا مقصد ریاست کی خدمت کرنا نہیں بلکہ ریاست کا کام تھا کہ وہ پارٹی کے مفاد کے لئے کام کرے۔ لہٰذا پارٹی کے نظریات اور مفادات کی خلاف ورزی غداری کے مترادف تھی۔

ہٹلر نے پارٹی کو مقبول عام بنانے اور لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے جو طریقے اپنائے ان میں جلسے و جلوس، نوجوان، عورتوں اور بچوں کی جماعتیں، موسیقی، گیت اور جوشیلی تقاریر تھیں کہ جنہوں نے پوری جرمن قوم میں قوم پرستی اور شخصیت پرستی کے جذبات کو ابھارا۔ اس طرح ہٹلر ایک ایسی بھرپور شخصیت کے روپ میں ابھرا جو جرمن قوم کا نجات دہندہ اور مسیحا تھا۔ نازی پارٹی نے پروپیگنڈے کے نئے طریقوں کو اپنایا، یک طرفہ بیانیے اور دلائل نے پوری قوم کی سوچ کو ایک ہی دھارے پر ڈال دیا۔

ایک مرتبہ جب مخالفین غدار اور قوم کے دشمن بن گئے تو پھر انہیں جیلوں میں ڈالنا، اذیت دینا اور قتل کرنا سب جائز ہو گیا۔ خاص طور سے نازی پارٹی کا نشانہ وہ دانشور تھے جنہوں نے پارٹی کے اغراض و مقاصد سے انحراف کیا۔ وہ دانشور جو خاموش رہے یا جنہوں نے حالات سے سمجھوتہ کر لیا ، انہیں پارٹی نے باقی رہنے دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ منحرف دانشوروں کو جرمنی چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں پناہ لینا پڑی۔ اس وسیع پیمانہ پر ہجرت کی وجہ سے جرمنی کے سماجی و ثقافتی ادارے اور یونیورسٹیاں بنجر ہو گئیں۔ علم و ادب کا ایک ہی مقصد رہ گیا کہ پارٹی کے مفادات کے لئے کام کیا جائے۔

جن معاشروں میں شخصیتیں چھا جاتی ہیں وہاں لوگوں کی تخلیقی صلاحیتیں دب جاتی ہیں۔ جس طرح ایک سایہ دار درخت کے نیچے اور کوئی پودا یا درخت سرسبز نہیں رہتا۔ یہی صورت حال جعلی اور مصنوعی عظیم شخصیتوں کی تشکیل سے ہوتی ہے اور یہی شخضیتیں قوموں کو پس ماندگی کی طرف لے جاتی ہیں۔

پاکستانی معاشرہ بھی ابتدا ہی سے جمہوری سازشوں اور بیوروکریسی کے چنگل سے نکل کر فوجی آمریت کی گرفت میں آ گیا تھا۔ لیکن جب یہاں جمہورری حکومتیں قائم بھی ہوئیں تو انہوں نے فاشزم کے انہی ہتھکنڈوں کو استعمال کیا جو فوجی آمروں کے محبوب ہتھیار تھے۔ مثلاً شخصیت پرستی، اظہار رائے پر پابندی، ریاستی پروپیگنڈا اور مخالفین کو غدار بنانے کا کام جمہوری ادوار میں بھی ہوتا رہا۔

اس وقت پاکستانی معاشرہ جس صورت حال سے دوچار ہے وہ یہ ہے کہ ریاستی پروپیگنڈے اور ذرائع ابلاغ نے یک طرفہ نظریاتی سچائی کو قائم کر دیا ہے۔ جب بھی کسی معاشرے میں صرف ایک سچائی ہو تو اس صورت میں دوسری سچائیوں کو تلاش کرنے کے تمام راستے بند ہو جاتے ہیں۔ ایک سچائی ہمیشہ کے لئے نہیں ہوتی۔ یہ وقت اور حالات میں بدلتی رہتی ہے لہٰذا ذہنی انقلاب کے لئے ضروری ہے کہ سچائیوں کی جستجو جاری رہے۔ صرف ایک سچائی کا غلبہ معاشرے کو ایک جگہ جما دیتا ہے جس کی وجہ سے اس کی تمام تخلیقی صلاحیتیں ختم ہو جاتی ہیں۔

جب معاشرہ ایک ہی جگہ منجمد رہتا ہے تو اس میں حکمران طبقے بھی نہیں بدلتے۔ یہ مراعات یافتہ طبقے روایات کے سہارے خود کو مستحکم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لئے جو بھی اس نظام کے خلاف بات کرتا ہے تو وہ ان کے نزدیک غدار ہو جاتا ہے۔ اس لیے مخالف کو ختم کرنے کے لئے ان کے پاس ایک ہی راستہ ہوتا ہے، وہ ہے تشدد کا۔ چونکہ مخالف، دشمن اور غدار ہے اس لئے اسے سختی کے ساتھ کچل کر تباہ و برباد کر دیا جائے یا اسے اس حالت میں لایا جائے، جہاں وہ ان کی مرضی کے مطابق رہنے پر تیار ہو جائے۔

پاکستان میں یہ امید کی جاتی تھی کہ جب جمہوریت آئے گی تو وہ آمرانہ حکومت کی نشانیوں کو ہٹا کر جمہوری اداروں کو مضبوط کرے گی، مگر ہوا یہ کہ ان جمہوری حکومتوں نے نہ صرف آمرانہ نشانیوں اور علامتوں کو باقی رکھا بلکہ انہیں اپنے مفادات کے لئے استعمال بھی کیا۔ شخصیت پرستی نے خوشامدیوں اور چاپلوسی درباریوں کو پیدا کیا۔ اظہار رائے اور تنقید پر پابندیاں لگیں، مخالفوں کو غدار کہا گیا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ دانشوروں کو خریدا گیا اور انہیں پارٹی اور شخصیت کا امیج بنانے کے لئے استعمال کیا گیا۔ فاشزم کی پارٹی اور پارٹی کی لیڈر شپ ریاست سے بڑھ  گئی۔ ایک مرتبہ جب ریاست کمزور ہو گئی تو پھر اس کے تمام ادارے پارٹی کی ذاتی ملکیت بن گئے۔ اس طرح ہمارے ہاں جمہوریت نے بھی فاشزم کی صورت اختیار کر لی۔

ہمارا معاشرہ ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں دکھ، تکلیف، اذیت اور محرومی ہر ایک کو اپنی گرفت میں لئے ہوئے ہے۔ ہم دکھ کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے تھک چکے ہیں۔ اس لئے اگر سمجھوتے کے بعد ہمارے سامنے آسائشیں اور سہولتیں آئیں تو ان سے انکار مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی کچھ حال ہمارے دانشوروں کا ہے جو سمجھوتہ کر کے اپنے دکھوں اور اپنی محرومیوں کا علاج ڈھونڈ لیتے ہیں۔ خاص طور سے اگر حکومت پر جمہورریت کا ٹھپا ہو تو سمجھوتہ کرنے میں اور آسانی ہو جاتی ہے۔ جب دانشور معاشرے کے مفادات سے منہ موڑ کر اپنے مفادات کو ترجیح دینے لگیں تو پھر معاشرے سے علم و ادب کی عزت ہی ختم ہو جاتی ہے، یہی وہ صورت حال ہے جس سے آج ہم دوچار ہیں۔

جہاں بھوک اور افلاس ہو ، ایک ایسے ملک میں وطن کے وقار اور دفاع کی بات کرنا باعث شرم ہوتا ہے، جہاں لوگوں کو کھانے کو نہ ملے، وہاں کام کے لئے کہنا کہاں کی شرافت ہے؟ یہ کتنی بڑی ستم ظریفی ہے کہ ایسے معاشرے میں بھوکوں کو کہا جائے کہ تم پیٹو ہو اپنے اخراجات کم کرو اور ستم در ستم یہ بات ایک ایسا حکومتی وزیر کر رہا ہو جس کے پاس اطلاعات کا قلمدان ہو، اس کی اپنی تنخواہ اور مراعات لاکھوں میں ہوں لیکن وہ حقائق سے اس قدر لاعلم ہو۔

جن میں زندہ رہنے تک کی طاقت نہ ہو انہیں بزدل اور سازشی کہا جائے، جو اپنی محنت کا معاوضہ چاہتے ہیں، انہیں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جائے۔ ایسی حکومتوں میں فکر، پستی کی آخری حدیں چھو لیتی ہے اور فکر کی اس پستی کے ساتھ معاشرے کی ہر قدر اور خوبی پست ہوجاتی ہے۔

حکمران طبقے ہمیشہ سے تبدیلی کے زبردست مخالف رہے ہیں، ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ہر چیز ہزاروں سال تک اپنی جگہ پر برقرار ہے۔ چاند اسی طرح ساکت رہے اور سورج ذرا بھی اپنی جگہ سے نہ کھسکے تاکہ نہ تو کسی کو بھوک لگے اور نہ کوئی شام کا کھانا کھانے کی خواہش کرے۔ وہ چاہتے ہیں کہ اپنے ہر مخالف کو ختم کر دیں اور ان کی گولی آخری گولی ہو۔ اس لئے تبدیلی کی بات کرنا آمرانہ حکومتوں کے لئے خطرناک سوچ ہوتی ہے۔

ہمارے عہد میں بربریت، نا انصافی اور ظلم کا دور دورہ ہے، نجی جائیداد اور ذرائع پیداوار پر طاقت اور قوت کے ذریعہ قبضہ کیا جا رہا ہے اور جب ہم جرأت کے ساتھ اس سچائی کو بیان کرتے ہیں تو ہم بہت سے دوستوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔

کچھ سازشی اور شرپسند عناصر کہتے ہیں کہ جرأت دکھاؤ، کسی کے دباؤ میں نہ آؤ اور سچ لکھو، ہوشیاری کے ساتھ اپنی بات خوبصورتی سے بھی تو کی جا سکتی ہے، تم تو اپنے فن میں ماہر ہو سچ اس طرح کہو کہ پکڑے نہ جا سکو، دل بڑا کرو کہ یہی تمہارا منصب ہے۔ لیکن میرے شوریدہ سر دوست نما دشمنوں کو شاید علم نہیں کہ سچائی لکھنے کے لئے صرف جرأت ہی کافی نہیں بلکہ جاں گسل مرحلہ یہ ہے کہ سچائی کو تلاش کہاں اور کس طرح کیا جائے۔

سچائی کو پانا کوئی سہل کام نہیں اور یہ بھی کوئی آسان بات نہیں کہ اس کا فیصلہ کیا جائے کہ کون سا سچ ایسا ہے جسے بیان کیا جائے اور کسے چھپایا جائے۔ میرے چاروں طرف سچ بکھرا پڑا ہے، چیخ چیخ کر، ہاتھ ہلا ہلا کر واویلا کر رہا ہے۔

خدانخواستہ کیا تم چاہتے ہو کہ سچائی کے بیان میں میرا قلم ذرا سی لغزش کھائے، زبان لڑکھڑائے اور تم ایک اچھے دوست سے محروم ہو جاؤ۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہٹلر کی حکومت ابھی ختم نہیں ہوئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply