نا اہل ترین کی طبلگار تحریک انصاف؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سینیٹ الیکشن تو مارچ میں ہو گا، اس کا نتیجہ تو ابھی پراسس میں ہے لیکن ضمنی الیکشن نے حکمران جماعت تحریک انصاف کی نوشہرہ سے لے کر ڈسکہ تک عوام میں مقبولیت کا بھانڈہ بیچ چوراہے پھوڑ دیا ہے۔ نوشہرہ میں خٹک الیکشن کو لے ڈوبے تو ڈسکہ میں عوام نے حکومتی طاقت کو بری طرح سارے ہتھکنڈوں کے سمیت ناکام بنا دیا۔ ادھر سینیٹ کے الیکشن میں بالخصوص اسلام آباد کی نشت پر سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے امیدوار آنے کے بعد جہاں حکومتی حلقوں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے وہاں جہانگیر ترین کی یاد بھی تحریک انصاف کو بہت آ رہی ہے۔

ترین سے ڈر کی کہانی دلچسپ یوں ہے کہ اسی ترین کو تحریک انصاف نے اپوزیشن میں اپنے سیاسی مفادات کے لئے خوب چونا لگایا اور ایک ایسے کردار کے طور پر متعارف کروایا کہ ہماری صحافی دوست نوشین یوسف جرگہ پروگرام کے اینکر سلیم صحافی کو سینیٹ الیکشن پر تبصرے میں جہاں اور حکومت کے خوف کے بارے میں آگاہ کر رہی تھیں، وہاں یہ بھی کہا کہ جہانگیر ترین جو جہاز مشہور ہیں۔ راقم الحروف کے خیال میں نوشین نے ترین کے ساتھ جہاز کا حوالہ اس لیے دیا ہے کہ ترین کے جہاز کو وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن میں خوب انجوائے کیا تھا، پھر جنرل الیکشن کے بعد حکومت کو آزاد ارکان اسمبلی کو بنی گالہ کے دربار میں حاضری کے لئے جہاز کو خوب استعمال میں لایا گیا، ہمارے لیہ کے چار میں سے تین آزاد ارکان صوبائی اسمبلی کو بھی جہانگیر ترین نے اپنے جہاز پر لاد کر بنی گالہ میں عمران خان کے سامنے پیش کیا اور پھر سب تحریکی ہو گئے۔

یقیناً اس میں امیر ترین کا کمال تھا، لیکن جہاز سروس اور دیگر خدمات کے باوجود جہانگیر ترین کو ایک سیاست دان کے طور پر پہچان نہ مل سکی، اپوزیشن اور ان کے ناقدوں نے موصوف کو تحریک انصاف کی اے ٹی ایم کا لقب دیا، ادھر بلاول اور مریم نواز شریف کے جلسوں میں چینی چور کے نعرے بھی لگوائے گئے، خاص طور پر مریم نواز شریف کا فوکس ترین تھا۔ شاید پنجاب میں دوران جنرل الیکشن اور پھر حکومت سازی میں امیر ترین کے جہاز کی سروس کا باخبر حلقوں کے رابطے کی بدولت اندازہ زیادہ تھا۔ یوں وہ اپنے جلسہ میں چینی چور کا حوالہ دے کر خوشی محسوس کرتی ہیں۔

سپریم کورٹ سے نا اہلی بھی ترین کو ملی لیکن امیر ترین عمران خان پر سب کچھ دان کرنے کا ورد کرتے رہے۔ جہانگیر ترین کے لئے سیاسی میدان میں براوقت بھی اپوزیشن کی بجائے تحریک انصاف کی حکومت میں اس وقت شروع ہوا جب وزیراعظم عمران خان نے جہانگیر ترین کے خلاف تحقیقات اور دیگر ایسی ہدایات جاری کیں جس کی ترین توقع نہیں کر رہے تھے۔ امیر ترین اپنی جگہ درست تھے کہ ان کے مال اور دھندے کی بدولت وزیراعظم ہاؤس تک عمران خان پہنچے ہیں، وہ بھلا کیوں ان کے خلاف موقف کو درست تسلیم کرتے ہوئے فاصلے کر لیں گے، لیکن ایسا ہوا، وہ سرائیکی میں کہتے ہیں ناں، اکھیں متھے تے رکھ گھدیاں، یہی کچھ ترین کو وزیراعظم عمران خان اور کور کمیٹی کی طرف سے دیکھنے کو ملا جو کہ یقیناً تکلیف کا سبب ہو گا۔

اس صورتحال میں امیرترین کو دیار غیر لندن جانا پڑا، بات ترین تک محدود ہوتی تو شاید وہ ہضم کر جاتا لیکن بات یوں بڑھ گئی کہ ان کے بیٹے کو بھی حکومت برابر لے آئی، یوں حکومتی کارروائی سے بچنے کے لئے جہانگیر ترین کے فرزند علی ترین کو بھی لندن کا سفر کرنا پڑا، پھر ایف آئی اے کے نوٹس اور دیگر کارروائی شروع ہو گئی، اخبارات میں معاملہ رپورٹ ہوا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے ) نے چینی بحران کی تحقیقات کی روشنی میں جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے علی ترین پر اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ اور دھوکہ دہی کے دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق جہانگیر ترین اور علی ترین نے منصوبہ بندی سے دھوکا دہی کی۔ پھر ایف آئی اے نوٹس جاری ہوئے، وہ بھی اخبارات کی زنیت بنے۔ یوں ترین کے بارے میں اپوزیشن کے موقف کو ایک اور ثبوت مل گیا کہ موصوف ایسا دھندا کرتے ہیں۔ اب تو تحریک انصاف کے دور حکومت میں ایف آئی آر درج ہوئی ہے، جب ترین کے قائد وزیراعظم عمران خان ہیں۔ ادھر سوشل میڈیا پر جہانگیر ترین کی کک اور مالی کے نام پر دھندہ کی کہانی بھی زیر بحث رہی کیوں کہ موصوف بھی کوئی مال پانی کی واردات چھوڑنے پر تیار نہیں ہوتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان سے بھی انٹرویوز میں ترین کے چینی سکینڈل کے بارے میں بار بار سوال کیا گیا تاکہ پتہ چل سکے کہ موصوف اب ترین کے خلاف ہیں یا پھر اندر خانے برف پگھل رہی ہے؟ اب جہانگیر ترین سینیٹ الیکشن سے قبل پاکستان میں ہیں، ایف آئی اے جو کہ جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے علی ترین کو پیش ہونے کے نوٹس جاری کر رہی تھی، اب وطن واپسی کے بعد خاموش ہے، اس راز کو سمجھنے کے لئے گیڈر سنگھی کی ضرورت یوں نہیں ہے کہ اب ہدایت یہی ہوگی کہ ہتھ ہولا رکھو، سینیٹ الیکشن میں معاملات ایسے چل رہے ہیں۔

سینیٹ کی اسلام آباد کی نشت پر سب کی نظریں، جہاں پر جیسے میں نے پہلے عرض کیا کہ حفیظ شیخ بمقابلہ سید یوسف رضا گیلانی ہیں۔ حفیظ شیخ مالی معاملات کی دیکھ اچھی کرتے ہوں گے لیکن سیاست کے معاملات میں اگر میں یہ کہوں کہ ککھ بھی پتہ نہیں تو بے جا نہیں ہو گا، یوں موصوف کے امیدوار ہونے کی وجہ سے تحریک انصاف بند گلی میں آ چکی ہے۔ یوسف رضاگیلانی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے امیدوار ہونے کے علاوہ جنوبی پنجاب کے ارکان اسمبلی میں بھی ذاتی تعلق بھی نبھانے کے حوالے سے مشہور ہیں۔

ادھر جہانگیر ترین کا جیسے میں ذکر کیا ہے کہ وہ بھی سید یوسف رضا گیلانی کی قریبی رشتہ داری میں آنے کے علاوہ تحریک انصاف کی قیادت سے ڈسے ہوئے ہیں۔ سینیٹ الیکشن میں یہ بات بھی اہم ہے کہ گیلانی، پیر پگاڑہ اور ترین رشتوں میں جڑے ہیں۔ پھر ترین کے ساتھ جو کچھ تحریک انصاف نے حکومت میں بے دید ہو کر کیا ہے، وہ اس صورتحال میں اس خطرے کی نشاہدہی کر رہا ہے کہ اسلام آباد کی سینیٹ کی نشت پر جہاں گیلانی اور حفیظ شیخ کا آمنا سامنا ہے، وہاں جہانگیر ترین تحریک انصاف کے لئے اسی طرح ثابت ہو سکتا ہے، جیسا کہ نوشہرہ کے ضمنی الیکشن میں خٹک ثابت ہوا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply