ناتواں جمہوریت اور الزام کی سیاست

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

الیکشن کمیشن پاکستان کے الیکشن ٹریبونل نے اپیلوں کا مرحلہ مکمل کر کے حتمی لسٹ جاری کر دی ہے۔ جب کہ دوسری جانب سینیٹ ووٹنگ کا طریق کار ابھی تک واضح نہیں ہوا، عدالت عظمیٰ میں صدارتی ریفرنس زیر سماعت ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ، ایوان بالا کے انتخابات میں ووٹنگ کے طریق کار کے حوالے سے کیا آئینی رائے دیتی ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ انتخابات میں الیکشن کمیشن کے ایک فیصلے کی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ (ن) سینیٹ انتخابات سے باہر ہو گئی تھی، عدالت عظمیٰ کی جانب سے نواز شریف کو نا اہل قرار دیے جانے کے بعد نون لیگ کے چیئرمین راجہ ظفر الحق کے جاری کردہ نئے ٹکٹ کو الیکشن کمیشن نے مسترد کر دیا تھا، جس کے بعد آزاد امیدوار بن کر سینیٹ انتخابات میں حصہ لیا گیا۔ اس وقت پیدا شدہ سیاسی صورتحال سنسنی تھی۔ عدالتی حکم کے تناظر میں نواز شریف کو، پارٹی صدارت کے عہدہ سے ہٹانے کے نتیجہ میں، سینیٹ انتخابات کے شیڈول کے مطابق انعقاد کے بلڈوز ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا، لیکن سیاسی جماعتوں نے جمہوری نظام کو رواں رکھنے کے لئے تحفظات کے باوجود انتخابی عمل میں حصہ لیا۔

الیکشن کمیشن نے این اے 75 کے حوالے سے ملکی سیاسی حالات کے سیاق و سباق میں ایک دانش مندانہ فیصلہ کیا ہے۔ شفاف انتخابات کا خواب یقینی بنانے کے لئے الیکشن کمیشن کو 16 پولنگ اسٹیشن کے پریزائیڈنگ افسران کے بیانات و نتائج ٹمپرنگ کیے جانے والے مبینہ ثبوتوں کو ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر لیا۔ اس وقت مسئلے کا حل یہ نہیں رہا کہ چند پولنگ اسٹیشن یا پورے حلقے میں ری الیکشن کرائے جائیں، بلکہ زیادہ ضروی ہے کہ پریزائیڈنگ افسران کے غائب ہونے کی بیان کی تصدیق کے لئے فون لوکیشن ٹریس کی جائے، کیونکہ اس سے با آسانی پتہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ افسران انتخابی عمل ختم ہونے کے بعد ”کہاں“ تھے۔

ریٹرننگ افسر کی پیش کردہ رپورٹ کے مطابق جن پولنگ اسٹیشن کے نتائج میں مبینہ ٹمپرنگ کی گئی، جیو فینسنگ اور بائیو میٹرک کے ذریعے جعلی ووٹ ڈالنے والوں کو سامنے لایا جا سکتا ہے۔ غلط بیانی کرنے والے پریزائیڈنگ افسران سے تفتیش کی جا سکتی ہے کہ انہوں نے، یہ سب کرنے کے لئے چمک کا سہارا لیا، یا کسی بھی سیاسی جماعت یا انتظامیہ کے دباؤ، مجبوری یا لالچ کی وجہ سے کیا۔ فائرنگ کرنے والے وائرل ویڈیو میں واضح نظر آ رہے ہیں، نادرا کی مدد سے انہیں شناخت کے بعد گرفتار کر کے اصل احوال سے عوام کو غیر جانب دار کمیشن ہی آگاہی دے سکتا ہے۔

تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ نون کو صرف ایک نشست میں کامیابی یا ناکامی کے سوال سے آگے بڑھنا ہو گا۔ دید و شنید ہے کہ کراچی کے بے امنی کے دور میں بعض حلقوں میں ٹرن آؤٹ 95 سے 99 فیصد کا ظاہر کر کے الیکشن مافیا کامیاب ہوتے رہے، یہی عمل کراچی و حیدر آباد سمیت ملک بھر کے کئی علاقوں میں ہوتا رہا ہے، لیکن کراچی میں ریکارڈ توڑ ٹرن آؤٹ کی ایک ناقابل یقین تاریخ رہی ہے۔ یہاں تک کہ دار فانی سے کوچ کرنے والوں نے عالم اورح سے آگے کر ووٹ بھی ڈالے۔ اب جب کہ ڈسکہ میں پریزائیڈنگ افسران کے مشکوک بیانات سامنے آ چکے ہیں، تو انتخابات و ووٹر کے حق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کے پشت پناہوں کو منظر عام پر لا کر مستقبل میں ایسے واقعات کا سدباب کرنا ہو گا، کیونکہ بلدیاتی انتخابات کا دور آنے والا ہے۔

عدالت عظمیٰ میں ووٹ کے خفیہ ہونے و کرپٹ پریکٹس کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہونے پر بھی تحفظات سامنے آئے ہیں، صدارتی ریفرنس زیر سماعت ہے، اس وقت یہ ایک بہترین موقع ہے کہ صرف سینیٹ کے لئے ہی نہیں بلکہ ہر سطح پر منعقد ہونے انتخابات میں ووٹر کے آئینی استحقاق کو یقینی بنانے و مستقل حل کے لئے صائب متبادل رائے سامنے آئے۔ جس سے انتخابی نظام کو کسی قسم کے امکانی دھچکے سے بھی محفوظ رکھنے کی سعی ہو، لیکن میڈیا اور سیاسی حلقوں میں انتخابات کے حوالے سے قانونی اور آئینی روڈ میپ کی تشکیل اور اس کے مضمرات پر جو بحث جاری ہے، اس سے اور آئینی حلقوں میں محض زیب داستان کے طور پر زیر بحث لانے میں بھی احتیاط لازم ہے، قانونی ماہرین، میڈیا اور سیاسی حلقوں میں انتخابات کی شفافیت کے حوالے سے اظہار رائے کی آزادی کو عدلیہ و الیکشن کمیشن کی آزادی اور اس کی فعالیت سے الگ کر کے نہ دیکھا جائے۔

آئین و قانون کی حکمرانی نہ ہو تو ریاست دو قدم بھی نہیں چل سکتی، اور نہ انتظامیہ، پارلیمنٹ کا تشخص اور اس کی بالادستی کی آئینی حیثیت عملاً محفوظ رہ سکتی ہے۔ آئینی اداروں میں تصادم و باہمی چپلقش کی قیاس آرائیاں ملکی مفاد میں نہیں، تاہم کئی ایسے معاملات بھی زیر بحث آرہے ہیں، جس پر عوام میں سیاسی و ذہنی خلفشار کا پیدا ہونا فطری ہے۔ عوام اداروں و سیاسی جماعتوں کو متصادم دیکھنے کے بجائے اپنے حقوق کا تحفظ و مسائل کا حل چاہتی ہے، سمجھنا ہو گا کہ درپیش مسائل کا حل اختلافات سے نہیں بلکہ مذاکرات کے ذریعے اور اتفاق رائے سے ہی نکلے گا۔

سیاست دان اس تاریخی حقیقت کو فراموش نہ کریں کہ عدالت عظمیٰ اور الیکشن کمیشن کے فیصلوں، جمہوریت مخالف ارتعاش، سیاسی بے یقینی اور نہ سسٹم کو لپیٹے جانے کے کسی سونامی کا جمہوری نظام کو سامنا ہے، حالیہ بحران جیسا بھی ہے، اسے حل کیا جا سکتا ہے، جمہوریت پسندوں کو ثابت قدمی اور سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کرنا ہو گا، جمہوریت پر یقین رکھنے والوں کو سمجھنا ہو گا کہ اگر جائز آئینی اقدامات اور قوم کے مفاد میں ایسے فیصلے، جو بظاہر غیر مقبول ہوں، کر بھی دیے جائیں تو آسمان نہیں ٹوٹ پڑے گا۔

مملکت کو خوش اسلوبی سے چلانے کے لیے امیدواروں سمیت ووٹرز کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہو گا، سینیٹ و ضمنی انتخابات کے ایشوز کو آئینی طریق کار و پارلیمنٹ میں حل کرنے کا اسپیس موجود ہے، کشیدگی ترک کر کے متحد ہوں تو بحرانوں کا رخ موڑا جا سکتا ہے۔ تمام پارلیمانی اسٹیک ہولڈرز چاہیں تو مفاد عامہ کو مدنظر رکھتے ہوئے ایوان میں فروعی مفادات سے بالاتر ہو کر اتفاق رائے سے مسائل و بحرانوں کا حل نکال سکتے ہیں، اس کے لئے حکومت و اپوزیشن کو مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لئے کھلے دل کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *