کورونا وائرس: جج کی جانب سے لائف سپورٹ بند کرنے کی اجازت، مسلمان خاتون کا خاندان ’معجزے کا منتظر‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا

PA Media

برطانیہ میں ایک عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ حال ہی میں اپنے بچے کو جنم دینے والی ماں کو جسے لائف سپورٹ کے ذریعے زندہ رکھا جا رہا ہے، ان کے خاندان کی خواہشات کے برعکس مرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔

کووڈ کی مریضہ یہ خاتون 30 کے پیٹے میں ہیں اور گذشتہ ماہ بچے کی پیدائش کے بعد کومے میں چلی گئی تھیں۔

صحت کے برطانوی ادارے این ایچ ایس ٹرسٹ کے لیٹسر میں یونیورسٹی ہسپتال کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مذکورہ خاتون کے زندہ بچ جانے کے امکانات کم ہیں اور ’ان کے لیے بہتر یہ ہے‘ کہ لائف سپورٹ سسٹم کو بند کر دیا جائے۔

یہ خاتون مسلمان ہیں اور ان کے خاندان نے ان کے علاج کے لیے مزید وقت دیے جانے کا کہا ہے۔ خاندان کا کہنا ہے کہ ’انھیں اس بات پر یقین ہے کہ زندگی کو صرف خدا ختم کر سکتا ہے۔‘

اس خاتون کا کیس منگل کو کورٹ آف پروٹیکشن میں سنا گیا تھا۔ اس عدالت میں ان لوگوں کے کیسز سنے جاتے ہیں جو خود اپنے لیے فیصلہ کرنے کی ذہنی صلاحیت نہیں رکھتے۔

بتایا گیا ہے کہ خاتون کو ایمرجنسی میں اس وقت ہسپتال لایا گیا تھا جب وہ کورونا وایرس کا شکار ہوگئی تھیں اور 32 ہفتوں کی حاملہ تھیں۔

ان کے ہسپتال میں داخل ہونے کے تھوڑی دیر بعد ڈاکٹرز نے آپریشن کیا اور ان کے بچے کی پیدائش ہوئی۔

ہم معجزات پر ایمان رکھتے ہیں

ڈاکٹر

Getty Images

ایک طبی ماہر نے جج کو بتایا کہ خاتون کے لبلبے نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے اور ان کا ایک پھیپھڑا بھی ناکارہ ہو چکا ہے اور عملے نے اپنی طرف سے علاج کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’خاتون مریضہ کی صحتیابی کا امکان بہت کم ہے۔ پوری ٹیم کا خیال ہے کہ وہ اس پوائنٹ تک پہنچ گئی ہیں جہاں یہ امکان صفر ہے۔‘

ان خاتون مریضہ کی ایک تین سالہ بیٹی بھی ہے اور انھیں ایڈیسن نامی مرض ہے جو گلینڈز کی خرابی کی ایک غیر معمولی صورتحال ہوتی ہے۔ ان گلینڈز کا بننا انسانی ہارمونز کے لیے لازم ہوتا ہے۔

مریضہ کی بہن نے عدالت کو بتایا کہ ’ہم معجزات پر ایمان رکھتے ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’خدا ہماری موت کو لکھ چکا ہے اور ہم اسی وقت مریں گے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’ان مشینوں کو ہٹایا جانا ایسا ہے کہ کسی کو کہا جائے کہ وہ ہمیں مار ڈالے۔‘

مریضہ کا خاندان معجزے کا منتظر

جسٹس ہیڈن نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ خاتون کا نام ظاہر نہیں کیا جا سکتا اور ڈاکٹرز اب قانونی طور پر انھیں دی جانے والی لائف سپورٹ کو روک سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حقائق و شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ ڈاکٹرز ان کی زندگی کو نہیں بچا رہے بلکہ ان کی ’موت کے انتظار کو طویل کر رہے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ خاتون کی ’زندگی اور امیدیں‘ اس ’مہلک وائرس‘ نے ختم کر دی ہیں اور انھیں باعزت موت دے دی جانی چاہیے۔

بی بی سی بینر

BBC

کورونا وائرس کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے بچیں؟

کورونا وائرس: ایبوپروفن اور پیراسیٹامول خطرناک یا کارآمد؟

کورونا وائرس: آپ کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں؟

کورونا کی دوسری لہر سے زیادہ متاثر کون: جانیے نقشوں اور چارٹس کی مدد سے


جسٹس ہیڈن نے کہا کہ مریضہ کا خاندان ’معجزے کا منتظر‘ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک بہت کم عمر ماں ہے اور جن حالات کا شکار ہوئی ہے وہ ناقابل بیان اور افسوسناک ہے۔‘

جج نے مزید کہا کہ ’مقصد ان کی زندگی کو کم کرنا نہیں بلکہ ان کی موت کی تکلیف کو طویل ہونے سے روکنا ہے۔‘

جج کے مطابق مریضہ کی دیکھ بھال کے لیے ڈاکٹرز نے ایک ہنگامی پلان تیار کر لیا ہے اور کا خاندان ان سے مل سکے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18550 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp