عورت مارچ اور ہمارے رویے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر ایک کو اپنے حقوق کے لیے جد و جہد کرنے اور انہیں حاصل کرنے کا شرعاً اور اخلاقاً حق دیا گیا ہے، بلکہ دین میں حقوق کی ادائیگی پر زیادہ اصرار کیا گیا ہے۔ مگر ایک بات کا ضرور خیال رکھا جانا چاہیے کہ کسی کے انفرادی، اجتماعی، سماجی حقوق غصب کر کے اپنے حق کے لیے نکلیں تو انتشار و فتنہ کے سوا کچھ اس کا حاصل نہیں ہوتا۔

جب ہم کوئی سماجی کام کرنے نکلیں تو ہمارے کام کا طریق کار اور ہمارا اسلوب گفتگو جارحانہ نہیں ہونا چاہیے جس سے اشتعال بڑھے یا ”آ بیل مجھے مار“ والا معاملہ نظر آئے۔ دعوت و فکر کے اسلوب میں بات کرنی چاہیے تاکہ اختلاف رائے رکھنے والا آپ کی بات پر مشتعل ہونے کی بجائے متوجہ ہو اور آپ کی بات سنے اور سمجھے۔

بہت سے معاملات الجھے ہوئے ہیں جن پر مکالمے کی ضرورت ہے، انسانی رویہ رہا ہے چاہے وہ آسمانی مذاہب ہوں یا دنیا کی سماجی تحریکیں، انسان نے فوری طور پر انہیں قبول نہیں کیا، ہم لوگ انسانی نفسیات کو سمجھنے کی بجائے انسانوں کو اشتعال دلاتے ہیں، فوری تبدیلی کے خلاف ردعمل کے سبب ہی انبیاء علیھم السلام اور بعد کے مصلحین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، انسانی سماج نفسیاتی حوالے سے ابھی بھی میچور نہیں ہوا ہے، جب بھی وہ تغیر و تبدل کا نعرہ سنتا ہے تو روایتی لٹھ لے کر تغیر کا نعرہ لگانے والے کی زندگی کو اجیرن کر دیتا ہے۔

اہتمام نبوت کے وقت بھی خدا نے انسانی سماج کی نفسیات کا خیال رکھا ہے، اسی سبب بہت سلو پراسس رکھا دین کی تکمیل کا، اسی لیے پہلے پہل دعوتی اسلوب سے دین کی بنیاد رکھ کر افراد تیار کیے گئے، پھر نطریہ کی تنفیذ کے لیے سیاسی حکمت عملی سے حکومت بنائی گئی، پھر قوانین بتلائے گئے، نفاذ کا مرحلہ آیا اور ”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا“ کا اخری پیغام آیا۔

ہم اس سب سے سیکھتے نہیں، مطالعے کا فقدان، خود کو محدود نظریات میں بند کر کے اپنے ذہنوں کو مقفل کر دیتے ہیں، دوسروں کی بات سننے کی ابھی بھی سماج کو عادت نہیں۔ ہم دوسرے کا نظریہ اپنی سوچ کے مطابق سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، اس سے تفصیل جاننا ہی ضروری نہیں سمجھتے کہ ’تم کہنا کیا چاہتے ہو‘ ۔بس سن کر فوراً ردعمل دیتے ہیں۔

دو تین عورت مارچ جو اب تک ہو چکے ہیں ان میں ”بیٹی“ کو حقوق بتانے کی بجائے فیملی سسٹم کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے علاوہ کچھ سامنے نہیں آیا، بیٹی تو آج بھی اپنے حقوق سے نا واقف ہے، حقوق سے آگاہی، اور حق مانگنے کے شعور پر بہتر انداز میں بات کی جاتی تو شاید اتنی تند و تیز تنقید یا تنازع کا عنصر کم رہتا۔

آپ عاصمہ جہانگیر، پروین شاکر، فہمیدہ ریاض، شیریں مزاری یا دیگر سماجی، ادبی اور علمی خواتین کو دیکھ لیجیے وہ ان حقوق کی تحریکوں سے پہلے کے سماج کی تربیت یافتہ ہیں ۔ کتنی سلجھی ہوئی ہیں ، ان کا انداز گفتگو دیکھیے، سنیے، سمجھیے۔ ان کا لب و لہجہ اور شائستگی اپنائیں تو تحریک بہتر انداز میں آگے بڑھ سکتی ہے۔

میں اس تحریک کو سازش کہتا ہوں نہ ہی کسی کا ایجنڈا بلکہ اس تحریک کو انتہائی ضروری سمجھتا ہوں، اس تحریک کا حامی ہوں مگر اشتعالی لہجے سے اختلاف کرتا ہوں۔ ہمیں سماج کو درست کرنے کے لیے سماج کی نفسیات سے مطابقت کے ساتھ جب تک چلنا نہیں آئے گا اس وقت تک نہ مذہب اس سماج میں کامیاب ہو سکتا ہے نہ کوئی اور تحریکیں، بس حاصل انتشار ہی رہے گا۔ اس لیے نظرثانی کی ضرورت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply