جھوٹا خواب اور سچی حقیقت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جنرل یحییٰ خان کے اس اعلان کے بعد کہ مستقبل کے پاکستان کے وزیراعظم شیخ مجیب الرحمان ہوں گے اور قومی اسمبلی کا اجلاس وقت مقررہ پر ڈھاکہ میں ہی منعقد ہو گا، مغربی پاکستان میں کافی کھلبلی مچ گئی تھی۔ پنجاب اور سندھ میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے کراچی کے انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل میں اہم پریس کانفرنس کا اعلان کیا تھا جس میں شرکت کرنے کے لیے صحافی آنا شروع ہو گئے تھے۔ پریس کانفرنس سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو کے ستر کلفٹن مکان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے اہم اراکین کی ایک اہم میٹنگ ہوئی جو چھ گھنٹے تک چلی تھی۔

میٹنگ کے آغاز میں بھٹو صاحب نے اجلاس میں موجود اراکین کو بتایا تھا کہ جنرل یحییٰ خان نے واضح کر دیا ہے کہ فوج اپنی اپنی بیرکوں میں واپس جانا چاہتی ہے اور آئین سازی کے بعد آئین کے مطابق اقتدار عوام کے منتخب کی ہوئی اسمبلی کے حوالے کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کر دیا ہے کہ اقتدار اکثریت حاصل کرنے والی جماعت کو منتقل کر دیا جائے گا، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس صورت میں پیپلز پارٹی کے پاس مرکز میں کسی بھی قسم کا کوئی اختیار نہیں ہو گا جبکہ پنجاب اور صوبہ سندھ میں ہم اپنی حکومت قائم کر سکیں گے۔

انہوں نے قومی اسمبلی کے نتائج کے بارے میں بتایا کہ عوامی لیگ کو 160، پیپلز پارٹی 81، مسلم لیگ قیوم کو 9، کونسل مسلم لیگ، جمعیت علمائے اسلام اور جمعیت علمائے پاکستان کو سات سات، نیشنل عوامی پارٹی 9، جماعت اسلامی کو 4، پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی کو ایک، جبکہ آزاد امیدواروں نے 16 نشستیں حاصل کی ہیں۔ عوامی لیگ کا کوئی امیدوار مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی کا کوئی بھی امیدوار مشرقی پاکستان میں نشست نہیں جیت سکا ہے۔

بھٹو صاحب کا چہرہ پریشان تھا اور ایسا لگ رہا تھا کہ ان کے ذہن میں خیالات کے طوفان امڈ رہے ہیں۔ انہوں نے پرسکون رہنے کی کوشش کرتے ہوئے بتایا کہ مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر یحییٰ خان کے لیگل فریم ورک آرڈر کے تحت قومی اسمبلی نے پاکستان کا آئین بنانے کا بنیادی کام انجام دینا ہے۔ اسمبلی میں بیٹھنے کے 120 دن کے اندر پاکستان کا آئین بنانا ہے، اسے منظور کرانا ہے اور اس کے تحت مرکز اور صوبوں میں حکومتیں بننی ہیں۔

آئین بنانے کے لیے بنیادی نکات فراہم کر دیے گئے ہیں جس کے مطابق ملک کا سربراہ ہمیشہ مسلمان ہو گا۔ وقفے وقفے سے آزاد اور شفاف الیکشن ہوں گے، عوام کو انصاف اور انسانی حقوق کی ضمانت دی جائے گی، تمام صوبوں کو صوبائی خودمختاری دی جائے گی، ملک کے تمام صوبوں کے عوام کو تمام حقوق اور مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

ذوالفقار علی بھٹو کی افتتاحی تقریب کے بعد میٹنگ میں گرماگرم بحث شروع ہو گئی تھی۔ مولانا کوثر نیازی نے کہا کہ اگر اس طرح اسمبلی بنائی گئی تو مجیب الرحمان بنگالی اکثریت کی بنیاد پر وزیراعظم بن جائیں گے اور جناب بھٹو صاحب بھول جائیں کہ وہ کبھی وزیراعظم ہو سکیں گے۔ مجیب الرحمان کو مکمل طور پر اکثریت حاصل ہے اور وہ آئین بھی اپنی مرضی کا بنا کر پاکستان پر مسلط کر دیں گے۔

غلام مصطفی کھر نے کوثر نیازی کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ موجودہ صورت حال مغربی پاکستان اور خاص طور پر پنجاب کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ ٹھیک ہے عوامی لیگ نے اکثریت لی ہے مگر یہ اکثریت مشرقی پاکستان کی ہے پاکستان کی نہیں ہے۔ پنجاب ایک بڑا صوبہ ہے ہماری زرعی پیداوار سے ملک میں ہر ایک کو کھانا مل رہا ہے، پنجاب کی مرضی کے بغیر حکومت چلانا صحیح نہیں ہے ہمیں اس کے بارے میں کچھ فیصلہ کرنا ہو گا۔

ذوالفقار علی بھٹو کے کزن ممتاز بھٹو اور دادو سے جیتنے والے غلام مصطفی جتوئی نے بھی مصطفی کھر کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں مغربی پاکستان میں جیتنے والی پارٹیوں کے ساتھ مل کر مجیب الرحمان سے بات چیت کرنی چاہیے تاکہ آئین بنانے میں اور مرکزی حکومت میں مغربی پاکستان والوں کا بھی کردار ہو۔

جے اے رحیم پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل تھے جن کا تعلق مشرقی پاکستان کے شہر چٹاگانگ سے تھا جو پی پی پی کے بانی ارکان میں سے ایک تھے خاموشی سے پارٹی کے رہنماؤں کی باتیں سن رہے تھے، ان کی طرف دیکھتے ہوئے ذوالفقار علی بھٹو نے پوچھا تھا کہ اس سلسلے میں ان کی کیا رائے ہے۔

جے اے رحیم نے کہا تھا کہ حالات ایسے ہیں کہ جس میں مجیب الرحمان اور عوامی لیگ کو بہت واضح اکثریت مل گئی ہے اور پارلیمانی طریقہ کار کا تقاضا یہ ہے کہ آئین سازی میں ان کی بات سنی جائے۔ آئین سازی کے بعد بننے والی حکومت میں بھی مجیب الرحمان آسانی سے وزیراعظم بن جائیں گے۔ ہماری تمام تر کوششوں کے باوجود مشرقی پاکستان میں ہم ایک نشست بھی نہیں جیت سکے ہیں۔ مشرقی پاکستان میں پیپلز پارٹی کے سرگرم کارکن کمال رضوی یہاں موجود ہیں وہ وہاں کے حالات زیادہ اچھے طریقے سے بتا سکیں گے مگراس وقت وہاں کے عوام مجیب الرحمان کے ساتھ ہیں اور ضرورت اس بات کی ہے کہ ان سے بات چیت کی جائے۔ آئین سازی میں کوئی ایسا طریقہ اختیار کیا جائے کہ ایک آئین بنے جس پر پورا ملک متفق ہو۔ ہمیں مل جل کر حکومت بنانی چاہیے اور ساتھ ہی ان کی اکثریت کا احترام بھی ضروری ہے۔

کمال رضوی نے بھٹو صاحب کے اشارے پر بتایا تھا کہ مشرقی پاکستان میں بہت سارے نوجوان ذوالفقار علی بھٹو کو پسند کرتے ہیں، مجیب الرحمان کی حکومت بننے کے بعد اگر بھٹو صاحب ڈھاکہ میں رہیں اور پیپلز پارٹی کو آرگنائز کریں تو بہت سے لوگ پیپلز پارٹی میں شامل ہو جائیں گے اور اگلے الیکشن میں ذوالفقار بھٹو مشرقی پاکستان سے بھی کامیابی حاصل کریں گے اور صحیح معنوں میں پورے پاکستان کے وزیراعظم بن کر عوام کے لیے کام کر سکیں گے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم پنجاب اور سندھ میں اپنے الیکشن مینی فیسٹو کے مطابق کام کریں اور مشرقی پاکستان کے عوام کو دکھائیں کہ یہاں عوام کے مسائل کیسے حل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے بڑی شدت سے انتخابی مہم چلائی مگر اس وقت لوگ مجیب کے ساتھ ہیں مگر وہ بھٹو صاحب کی شخصیت سے بھی بہت متاثر ہیں۔ ہمیں مستقبل کے بارے میں سوچنا چاہیے۔

معراج محمد خان کے اٹھے ہوئے ہاتھ کو دیکھتے ہوئے بھٹو صاحب نے انہیں اشارہ کیا تھا جس پر معراج خان نے کہا کہ مجیب الرحمان اپنے چھ نکات کے ساتھ آئین تو بنا لیں گے مگر عوام کے مسائل حل نہیں کر سکیں گے اور بہت ممکن ہے کہ ان کی اپنی پارٹی میں ٹوٹ پھوٹ ہو جائے۔ انہیں زمینی حقائق کا پتہ نہیں ہے اسی لیے وہ جذباتی نعرے لگا کر بنگالیوں کو اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔ نیشنل عوامی پارٹی کے عبدالحمید بھاشانی ہار ضرور گئے ہیں لیکن انہیں عوام کی تائید حاصل ہے۔ مستقبل میں ان کے ساتھ اتحاد بنایا جا سکتا ہے اور بھٹو صاحب مشرقی پاکستان میں اگلے الیکشن میں نشستیں جیت سکتے ہیں۔ معراج محمد خان اور مصطفی کھر کو بھٹو صاحب نے اپنا جان نشین بنانے کا اعلان کیا تھا اور وہ ان کی باتیں توجہ سے سنتے تھے۔

حفیظ پیرزادہ اور طالب المولیٰ صاحبان نے بھٹو صاحب کو اپنی مکمل حمایت کا یقین دلاتے ہوئے کہا تھا کہ وہ جو بھی فیصلہ کریں گے وہ ان کے ساتھ ہوں گے اور ہمیں یقین ہے کہ وہ پاکستان کے عوام کی بہتری کے لیے بہترین فیصلہ کریں گے۔

معراج خالد، مبشر حسین صاحب، عزیز احمد نے جے اے رحیم اور معراج محمد خان نے خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک جن حالات سے گزر رہا ہے ان حالات میں ضروری ہے کہ مل جل کر کام کیا جائے اور آگے بڑھنے کا طریقہ یہی ہے کہ ہر صورت میں مفاہمت کی جائے۔

ذوالفقار علی بھٹو کی پریس کانفرنس کے شروع ہونے کے ساتھ ہی خبر آئی تھی کہ شیخ مجیب الرحمان بھی دو گھنٹے کے بعد انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل ڈھاکہ میں پریس کانفرنس کریں گے۔ بھٹو صاحب نے پرہجوم پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ شیخ مجیب کو اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے پر مبارکباد دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ جنرل یحییٰ خان جلد از جلد اسمبلی کا اجلاس بلا کر ملک کا آئین بننے کے کام کو مکمل کرائیں گے۔ ہم مجیب الرحمان کے چھ نکات سے اختلاف کرتے ہیں مگر ہمیں یقین ہے کہ اسمبلی کے اجلاس میں چھ نکات پر کچھ نہ کچھ بات چیت ہو جائے گی۔

آج اگر وہ چھ نکات چاہتے ہیں تو ضرور آئین میں شامل کر لیں، کل آئین میں ترمیم بھی ہو سکتی ہے اور اگر ملک کے تمام صوبے آمادہ ہوں گے اور ہمارے درمیان اعتماد ہو گا تو آئین بدل بھی سکتا ہے۔ آئین کوئی ایسی دستاویز نہیں ہے جس میں ترمیم نہ کی جا سکے اگر آئین بننے کے بعد مجیب الرحمان مرکز میں حکومت بنائیں گے تو ہم مرکز میں حزب اختلاف کی حیثیت سے کام کریں گے جبکہ پنجاب اور سندھ میں ہماری حکومت بنے گی۔

بھٹو صاحب نے کئی سوالات کے جواب بھی دیے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش ہو گی کہ وہ مغربی پاکستان کے تمام سیاسی جماعتوں سے مل کر صوبوں میں مل جل کر حکومت بنائیں۔ انہوں نے 1956 ء کی قرارداد مقاصد کو بے معنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اور رہے گا کیونکہ یہاں کی اکثریت مسلمان ہے لیکن وہ یہ چاہتے ہیں کہ ملک کے سارے عوام کو روٹی کپڑا مکان ملے اور وہ عزت کے ساتھ خوشحال زندگی گزاریں۔ ہم عوام کی خدمت کے لیے آئے ہیں اور جمہوریت کے ساتھ سوشلزم پر بھی یقین رکھتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔

انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ وہ اپنا ایک دفتر مشرقی پاکستان میں بنا رہے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ مشرقی پاکستان کے نوجوان پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کریں گے کیونکہ مجیب الرحمان کے پاس عوام کے لئے ٹھوس پروگرام نہیں ہے۔

بھٹو صاحب کی پریس کانفرنس کے بعد ہی ڈھاکہ سے مجیب الرحمان کی پریس کانفرنس کی تفصیلات آنی شروع ہو گئی تھیں۔ بی بی سی کے دہلی کے نمائندے مارک ٹیلی ڈھاکہ پہنچ گئے تھے۔ یورپ اور امریکا کے اخبارات کے نمائندے بھی خصوصی طور پر ڈھاکہ آئے تھے۔

بی بی سی نے خبر دی تھی کہ شیخ مجیب الرحمان نے اہم پریس کانفرنس کی اور اعلان کیا تھا کہ مارچ میں ہونے والے اسمبلی کے اجلاس میں عوامی لیگ اپنے بنائے ہوئے آئین کو بحث کے لیے پیش کرے گی اور انہیں امید ہے کہ آئین منظور کر لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی پاکستان کے سیاست دانوں کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز پر ضرور غور کیا جائے گا مگر عوامی لیگ چھ نکات پر کسی بھی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ کیونکہ مشرقی پاکستان کے عوام نے عوامی لیگ کو چھ نکات کی بنیاد پر ہی ووٹ دیے ہیں۔

اب وقت آ گیا ہے کہ مشرقی پاکستان کے عوام کو حقوق دیے جائیں۔ انہوں نے ایک بار پھر اپنے چھ نکات کو دہرایا جس کے مطابق پاکستان کو قرارداد لاہور کے مطابق ایک ایسا ملک بنانا ہے جس میں عوامی نمائندوں کی حکومت ہو اور صوبے مکمل طور پر قرارداد لاہور کے مطابق خودمختار ہوں، مرکزی حکومت صرف دفاع اور خارجہ پالیسی کی ذمہ دار ہو، ملک کے دونوں حصوں کی کرنسی الگ الگ ہو یا یہ بات یقینی بنائی جائے کہ مشرقی پاکستان کی دولت مشرقی پاکستان میں رہے، ٹیکس کا نظام صوبوں کے پاس ہو جو مرکزی حکومت کے لیے فنڈ فراہم کریں، دونوں صوبوں کو دوسرے ممالک سے تجارت کی آزادی ہو، مشرقی پاکستان میں پاکستان نیوی کا ہیڈ کوارٹر ہو اور وہ صوبائی حکومت پیرا ملٹری فوج بنا کر ہندوستان کی پیش قدمی کی صورت میں صوبے کا دفاع بھی کر سکیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2

Leave a Reply