بی جے پی کے رہنما کے بیان پر سری لنکا اور نیپال کیوں برہم ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حال ہی میں انڈین ریاست تریپورہ کے وزیراعلیٰ بپلاؤ کمار دیو کے ایک بیان نے انڈین حکومت کے لیے مشکلات پیدا کردی ہیں۔ دونوں پڑوسی ممالک سری لنکا اور نیپال نے اپنے اپنے ملک میں پی جے پی کی حکومت بنانے پر بپلاؤ کمار دیو کی جانب سے دیے جانے والے بیان کو سنجیدگی سے لیا ہے۔

کہا جارہا ہے کہ دیو کے بیان میں جس نیت یا ارادے کا اظہار کیا گیا ہے وہ مبینہ طور پر وزیر داخلہ امت شاہ کا تھا۔ دیو نے کہا تھا کہ امت شاہ نے مبینہ طور پر ایک اجلاس میں یہ بیان دیا تھا۔

وزیر داخلہ امیت شاہ کا جو مبینہ بیان ہے وہ بہت چھوٹا ہے لیکن اس پر سری لنکا اور نیپال کی طرف سے جو رد عمل سامنے آیا ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ انڈیا کے ان دو ہمسایہ ممالک نے اس کو سنجیدگی سے لیا ہے۔

تریپورہ کے وزیراعلیٰ بپلاؤ کمار دیو نے امت شاہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ بی جے پی ان کی قیادت میں دنیا کی سب سے بڑی پارٹی بن گئی ہے۔

مزید پڑھیے

’انڈیا نہیں چاہتا تھا کہ نیپال سیکولر ریاست بنے‘

انڈیا اور نیپال کی سرحد پر کیا ہو رہا ہے؟

ہندی میں دی جانے والی یہ تقریر پورے ملک میں بحث کا موضوع بن گئی۔ دیو کا بیان گوہاٹی کی ایسٹ موجو ویب سائٹ میں چھپا تھا۔

اس میں ان کے حوالے سے لکھا تھا، ‘ہم سٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں بات کر رہے تھے۔ تب اجے جموال (بی جے پی کے شمال مشرقی زونل سکریٹری) نے کہا کہ بی جے پی نے ملک کی بہت سی ریاستوں میں حکومت بنائی ہے۔ جواب میں شاہ نے کہا کہ اب سری لنکا اور نیپال باقی رہ گئے ہیں۔ دیو نے شاہ کے حوالے سے کہا کہ ہمیں اب حکومت بنانے کے لیے سری لنکا اور نیپال میں پارٹی کو بڑھانا ہے۔

دیو نے کہا کہ ‘کمیونسٹ پارٹی یہ دعویٰ کرتی تھی کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی پارٹی ہے۔ لیکن امیت شاہ نے اس کا ریکارڈ توڑ دیا۔ انہوں نے بی جے پی کو دنیا کی سب سے بڑی پارٹی بنا دیا۔’

اس بیان پر نیپال میں ہنگامہ

یہ بیان سامنے آنے پر نیپال نے فورا ہی اس پر تنقید ظاہر کی گئی۔

نیپال کے وزیر خارجہ پردیپ کمار گیوالی نے 6 فروری کو ٹوئٹ کی تھا کہ اس بیان پر ان کی نگاہ پڑی ہے اور انھوں نے اس کے خلاف نیپال کا باضابطہ اعتراض ظاہر کر دیا ہے۔

دیو کے اس بیان نے نیپال میں ہلچل مچا دی۔ نیپال کے سب سے بڑے انگریزی اخبار کٹھمنڈو پوسٹ سے بات کرتے ہوئے انڈیا میں نیپالی سفارتخانے کے ایک سفارتکار نے کہا کہ نیپال کے سفیر نیلمبر اچاریہ نے اس معاملے پر اریندم باگچی سے فون پر بات کی ہے۔

باگچی انڈین وزارت خارجہ میں نیپال اور بھوٹان کے جوائنٹ سکریٹری ہیں۔ باگچی سے گفتگو میں آچاریہ نے اپنی مخالفت کا اظہار کیا اور ان سے اس بیان پر وضاحت طلب کی ہے۔

انڈیا کے انگریزی اخبار دکن ہیرالڈ نے لکھا ‘دیو کے بیان کے بعد انڈیا اور نیپال کے تعلقات میں نئی تلخی پیدا ہوگئی ہے۔ حال ہی میں دونوں ممالک کے تعلقات زمین کے تنازعہ پر کشیدگی سے گزرے ہیں۔

سری لنکا کا کیا موقف ہوگا؟

ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ دیو کے بیان پر سری لنکا نے کیا باضابطہ اقدام اٹھایا ہے۔ لیکن ‘کولمبو گزٹ’ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق سری لنکا نے ابھی تک اس بیان کو زیادہ اہمیت نہیں دی ہے۔

اخبار نے لکھا ‘حکومت نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے سری لنکا اور نیپال جیسے پڑوسی ممالک میں اپنی حکومت بنانے سے متعلق بیان کو زیادہ اہمیت نہیں دی ہے’۔

اخبار کے مطابق ، سری لنکا کی کابینہ کے شریک ترجمان اوئے گمنپیلہ نے کہا ہے کہ ‘بی جے پی کی طرف سے اس طرح کے کسی بھی قدم کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی ہے’۔

MODI

Getty Images

تاہم اس دوران سری لنکا کے میڈیا نے اس سلسلے میں قومی الیکشن کمیشن (این ای سی) کے چیئرمین اٹارنی ایٹ لا نمل پونچھوان کا جواب شائع کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق انھوں نے کہا ہے کہ سری لنکا میں کسی غیر ملکی سیاسی جماعت کی برانچ نہیں کھولی جاسکتی۔’

‘کولمبو پیج’ نے این ای سی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ‘سری لنکا میں کسی بھی سیاسی جماعت یا تنظیم کو کسی بھی غیر ملکی پارٹی یا تنظیم سے تعلقات رکھنے کی اجازت ہے لیکن ملک کے انتخابی قوانین غیر ملکی جماعتوں کو یہاں شاخیں کھولنے کی اجازت نہیں دیتے۔’

گریس نے کہا ، مودی حکومت معافی مانگے

ہوسکتا ہے کہ سری لنکا کی حکومت نے اس معاملے میں خاموشی برقرار رکھی ہو لیکن بھارت میں حزب اختلاف کانگریس نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔

کانگریس پارٹی کے ترجمان نے کہا ‘یہ کوئی لطیفہ نہیں ہے۔ اس سے ہمارے سفارتی تعلقات پر اثر پڑ سکتا ہے ۔ ان کے بیان سے ایسا لگتا ہے کہ وہ نیپال اور سری لنکا میں سازش کرنا چاہتے ہیں۔ ہم ابھی بھی مودی کی جانب سے لگائے جانے والے نعرے ‘اب کی بار ، ٹرمپ سرکار ‘کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ مودی حکومت کو دیو سے کہنا چاہیے کہ وہ سری لنکا اور نیپال سے معافی مانگیں۔

دراصل وزیر اعظم مودی نے اپنے امریکی دورے میں ‘اب کی بار ، ٹرمپ سرکار’ کا نعرہ لگایا تھا۔

ادھر تریپورہ کانگریس کے نائب صدر تپس ڈے نے روزنامہ ہندوستان ٹائمز سے کہا کہ بی جے پی کا رویہ ملک دشمن اور جمہوریت مخالف ہے۔

تپس ڈے نے کہا ‘ہم اپنے ہمسایہ ممالک کا احترام کرتے ہیں۔ ان ممالک کے اندرونی معاملات میں انڈیا کی مداخلت کا جواز نہیں بنتا۔’

اس بیان کا کیا مطلب ہے؟

امت شاہ

AFP

امت شاہ کے اس مبینہ بیان کو کسی اور کے ذریعے سب کے سامنے پیش کرنے کا کیا مطلب ہے؟

اس صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے پیرادینیہ یونیورسٹی کے ریٹائرڈ سینئر لیکچرر پروفیسر اے ایم نورتتنے بھنڈارا نے کہا ‘میرے خیال میں امت شاہ کے بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ انڈیا نے سری لنکا اور نیپال میں حکومت بنانے میں مداخلت کی ہے۔ درحقیقت اس مداخلت کی بات سے توجہ ہٹانے کے لیے بی جے پی ان ممالک میں اپنی یونٹ قائم کرنے کی بات کی ہے۔’

پروفیسر نورتتنے بھنڈارا نے کہا ‘عملی طور پربی جے پی سری لنکا میں صرف ہندوؤں کے درمیان ہی اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر سکتی ہے۔ تمل برادریوں یا ملک کے اندرونی علاقوں میں اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ یہاں تک کہ اگر بی جے پی نے یہاں اپنی پارٹی تشکیل دی تو بھی اس ملک کی حکومت پہر قبضہ نہیں کر پائے گی۔’

نورتتنے بھنڈارا نے کہا ‘براہ راست اقتدار پر قبضہ کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔ سب سے پہلے تو ایسی حکومت بنانی پڑے گی جو بی جے پی کے ایجنڈے پر کام کرے گی وہ پیسوں کے بل پر یا کسی اور طرح سے کسی بھی بڑی پارٹی کی مدد کرسکتی ہے جو موجودہ حکومت کو گراسکے۔’

یہ فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ کھلتے ہوئے پھول والی پارٹی’ اور اس کے اتحادیوں نے بی جے پی کا نظریہ اپنایا ہے۔ سنہالی ریاست کے قیام اور کھلتے ہوئے کمل کا حوالہ دے کر ان لوگوں نے اپنے نظریہ واضح کر دیا۔

در حقیقت سری لنکا میں حکومت بنانے میں انڈیا کی مداخلت کا معاملہ ایک طویل عرصے سے یہاں کے سیاسی ماحول میں موضوع بحث رہا ہے۔

مہندا راج پکشے نے سرعام بیان دیا تھا کہ سنہ 2015 کے انتخابات میں انہیں ہرانے میں انڈیا کی خفیہ ایجنسی را کا ہاتھ تھا۔ تاہم اس دوران انڈیا میڈیا نے ان الزامات کو مسترد کردیا تھا کہ سری لنکا میں مہندا راج پکشے کو شکست دینے میں را کا ہاتھ تھا۔

پروفیسر نورتتنے بھنڈارا نے کہا ‘ انڈیا کو تشویش تھی کہ سری لنکا ہمبنٹوٹا بندرگاہ اور شہر چین کے حوالے نہ کر دے۔ اس سے چین کو بحر ہند میں اپنے قدم جمانے میں مدد ملتی۔ چین اور انڈیا دونوں ہی کے درمیان بحر ہند میص اپنا تسلط قائم کرنے کی دوڑ لگی ہوئی تھی۔ دونوں یہاں تیل کی نقل و جمل والے راستے پر اپنا کنٹرول چاہتے ہیں۔’

یہاں تک کہ امریکہ بھی یہاں کی موجودہ صورتحال سے ناخوش ہے۔ انڈیا اور امریکہ چاہتے ہیں کہ سری لنکا ان کے ہند بحر الکاہل حفاظتی منصوبے میں شامل ہو۔ لیکن سری لنکا کے رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ اس اقدام کی وجہ سے ان کا ملک غیر مستحکم ہوسکتا ہے۔

انڈیا کو 1987 میں ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ لہذا سری لنکن حکومت نے اس بارے میں فی الحال انڈیا کے ‘پیغامات’ کو نظرانداز کیا ہوا ہے۔

چنئی میں مودی کا بیان

MODI

Getty Images

امت شاہ کے بیان پر سری لنکا کی توجہ مبذول ہونے کی ایک بڑی وجہ تامل ناڈو میں حال ہی میں دیئے گئے وزیر اعظم نریندر مودی کا بیان ہے۔ مودی 14 فروری کو چنئی پہنچے تھے۔ انھوں نے یہاں اپنی لمبی تقریر میں سری لنکا کا کا ذکر کیا جس پر انڈین میڈیا میں سرخیاں بنیں۔

یہاں کچھ اہم ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کرتے ہوئے انہوں نے سری لنکا کے ساحل پر تمل ناڈو ماہی گیروں کی گرفتاری سے متعلق مسئلہ کا ذکر کیا۔

انھوں نے کہا ‘ہم نے ابھی تک سری لنکا میں کسی ماہی گیر کو گرفتار نہیں ہونے دیا ہے۔ ہم 330 کشتیوں کو بچانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ باقی کشتیاں بھی جلد بازیاب کرلی جائیں گی۔’

وزیر اعظم نریندر مودی نے سری لنکا میں ان کی حکومت کی طرف سے تامل برادریوں کے لیے بنائے جانے والے بنیادی ڈھانچوں کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ حکومت ہند نے وہاں تملوں کے علاقوں میں ہزاروں مکانات اور ہسپتال بنائے ہیں۔ مودی نے کہا کہ وہ جافنا کا دورہ کرنے والے پہلے وزیر اعظم ہیں۔

مودی نے کہا ‘ہم تملوں کے حقوق سے متعلق امور پر سری لنکا کی حکومت کے ساتھ مستقل کام کریں گے۔ ہم تملوں کے حقوق مساوات، انصاف، امن اور وقار کے لیے سری لنکا کی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔’

انھوں نے کہا ‘ہماری حکومت تمل بہن بھائیوں کی فلاح و بہبود اور خواہشات کا پوری طرح خیال رکھے گی۔ میں واحد انڈین وزیر اعظم ہوں جسے جافنا پہنچنے کا اعزاز حاصل ہے۔ ہم ترقیاتی پروگراموں کے ذریعے تملوں کی بہبود کو یقینی بنائیں گے۔’

نریندر مودی نے جون 2019 میں سری لنکا کا دورہ کیا تھا اس سے ٹھیک پہلے ایسٹر کے موقع پر وہاں حملے ہوئے تھے۔ اس کے بعد مودی حکومت ہند کی ‘نیبر ہڈ فرسٹ پالیسی’ کے تحت سری لنکا پہنچ گئے تھے۔

اپنے دورے کے دوران وہ کوچی کوڑ میں واقع سینٹ انتھونی چرچ گئے اور وہاں 21 اپریل 2019 کو ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے والوں سے اظہار تعزیت کیا۔ انھوں نے کہا تھا کہ اس وقت انڈیا اور اس کے عوام سری لنکا کے ساتھ کھڑے ہیں۔

اس سے قبل 2017 میں انھوں نے سری لنکا پہنچ کر ترقیاتی منصوبوں کو دیکھا جس کا انھوں نے چنئی میں اپنی حالیہ تقریر میں ذکر کیا تھا۔ تاہم ، سری لنکا کی حزب اختلاف کے کچھ اراکین نے ان پر تنقید کی تھی۔

اس وقت سری لنکا کی حکومت میں وزیر کی حیثیت سے کام کرنے والے اُدے گمن پیلہ نے مودی کے دورے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا ‘انڈین وزیر اعظم نے کہا تھا کہ صرف ویساک میلے کے مہمان خصوصی کے طور پر سری لنکا آئیں گے۔ لیکن ان کا انداز ایسا تھا جیسے کہ وہ سری لنکا کے عوام سے نہیں بلکہ اپنے ملک کی تیسری ریاست کی عوام سے خطاب کر رہے ہوں جو انڈیا میں شامل ہو گئی ہو۔

مشرقی کنٹینر ٹرمینل بحران

SRILANKA

Getty Images

امت شاہ اور نریندر مودی کے بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سیاسی تجزیہ کار سری لنکا اور انڈیا کے سفارتی تعلقات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم سری لنکا کی حکومت یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ کولمبو پورٹ کے ایسٹ کنٹینر ٹرمینل پورٹ سے متعلق تنازع حل ہوگیا ہے۔ اسے ایک بڑا مسئلہ نہیں بننے دیا گیا۔ لیکن اس معاملے میں بھارت کی جوابی کارروائی کا انتظار ہے۔

انڈین حکومت نے باضابطہ طور پر کہا ہے کہ ترینوکومالی آئل ٹینک فارم سری لنکا کو دینے کے بارے میں ابھی تک کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے۔ ادھر سری لنکا نے جزیرہ نما جافنا میں توانائی کے تین منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے چین کے ساتھ معاہدہ کر لیا ہے۔

کیا یہ شمالی سری لنکا کے لیے اچھا ہے؟

امت شاہ اور مودی کے ان بیانات سے پہلے سری لنکا میں تمل سیاسی جماعتوں نے مشرقی صوبے پوٹوویل سے شمالی صوبے کے پولی کاندی تک مارچ کیا۔ ان پارٹیوں نے اپنے مطالبات کی حمایت میں یہ مارچ کیا۔

مارچ کا نام پوٹوویل تا پولی کاندی یعنی P2P تھا۔ یہ ریلی 3 فروری کو منعقد ہوئی تھی، جس میں متعدد تمل سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا تھا۔ ان میں تمل قومی اتحاد کے لوگ، سول سوسائٹی کے کارکن اور عام لوگ شامل تھے۔

خاص بات یہ تھی کہ شمالی صوبہ کے ان منظم احتجاجی مارچوں میں سری لنکا کے مسلمان بھی شامل تھے۔ P2P احتجاج 6 مارچ کو شمالی صوبے پولی کندی میں ختم ہوا۔ یہاں منتظمین نے پرامن احتجاج کو مزید پانچ دن تک بڑھانے کا اعلان کیا۔

یہاں تمل سیاسی رہنماؤں کی ایک ٹیم نے تمل عوام کی مشکلات کے خاتمے کے لیے بات چیت کی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہاں تبادلہ خیال میں شامل رہنماؤں نے کہا کہ وہ سری لنکا کی حکومت سے ملک کے شمالی حصوں میں تملوں کو درپیش پریشانیوں کو دور کرنے کے لیے کہیں گے۔

ملک کے شمالی صوبے میں ماحول گرم ہو رہا ہے۔ اب یہ وقت ہی بتائے گا کہ شاہ اور مودی کے تملوں کے حقوق کو یقینی بنانے سے وابستہ بیانات کا ان پر کیا اثر پڑتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18486 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp