وقت کی پابندی کے نقصانات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے ایک دور پار کے انکل ہیں۔ یہ خوفناک حد تک وقت کے پابند انسان ہیں۔ ایسی پابندی کہ الامان۔ ان صاحب نے عمر بھر صرف وقت کی پابندی ہی کی ہے اور اس کے علاوہ کچھ نہیں کر سکے۔ اب ان کی یہ عادت اس قدر راسخ ہو چکی ہے کہ ان کے ساتھ اور آس پاس رہنے والوں کو اس بنا پر شدید کوفت ہوتی ہے۔ چنانچہ اسی بنا پر ان کی پہلی بیوی انہیں اور دوسری نے دنیا چھوڑنا پسند فرمایا۔ اور موصوف سے رہ و رسم رکھنے والے جانتے ہیں کہ وہ دونوں اس وقت جہاں بھی ہوں گی نسبتاً زیادہ پرسکون اور خوش ہوں گی۔ یہ صاحب کسی شادی وادی کی تقریب یا کسی دوسرے فنکشن میں بتائے گئے وقت سے پانچ دس منٹ پہلے پہنچ جاتے ہیں اور اس وقت چونکہ خود میزبان بھی نہیں آئے ہوتے لہذا عموماً انہیں ہی میز کرسیاں لگانے کی نگرانی وغیرہ کرنی پڑتی ہے۔ اتنا پہلے پہنچنے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب تک بارات وغیرہ پہنچتی ہے یہ صاحب کہیں بیٹھے بیٹھے اونگھ رہے ہوتے ہیں اور جب تک کھانا کھلتا ہے یہ میزبان سے لڑ بھڑ کر واپس آ چکے ہوتے ہیں۔ چنانچہ یہ وقت کے قریب اور انسانوں سے دور ہو رہے ہیں۔ ”اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں“ ۔

وقت کی پابندی کے یقیناً کچھ فائدے بھی ہوں گے لیکن بعض احباب کا خیال ہے کہ فی زمانہ شاید اس کے نقصانات زیادہ ہیں۔ ذاتی طور پر خود میں بڑی کوشش کرتا ہوں کہ وقت کی پابندی سے باقاعدہ بچا جائے اور کافی حد تک اس مقصد میں کامیاب بھی رہتا ہوں لیکن جب کبھی کوئی بھول چوک ہو جائے اور کہیں با امر مجبوری وقت کی پابندی کرنی پڑے تو یقین کریں بعد میں سوائے پچھتاوے کے کچھ نہیں ملتا۔ اور اس کا اطلاق صرف تقریبات وغیرہ پر ہی نہیں ہوتا بلکہ دیگر معاملات میں بھی یہی حال رہا ہے۔

مجھے یاد ہے عمر بھر جب بھی کوئی امتحان باقاعدہ ایک ٹائم ٹیبل بنا کے اور اس میں منٹوں گھنٹوں کا حساب رکھ کے تیاری شروع کی ہے اس امتحان میں الحمدللہ گریس مارکس وغیرہ لے کر ہی پاس ہوئے ہیں۔ اس کے برعکس جب کوئی امتحان ایسے ہی بھاگتے دوڑتے۔ کھیلتے کودتے دیا یعنی جس کی تیاری میں لڈو سے لے کر کرکٹ تک۔ تمام کھیل بھی شامل تھے، اس میں ایسا عمدہ رزلٹ آیا ہے جس نے اوروں کے ساتھ خود ہمیں بھی پریشان کر دیا ہے اور یار لوگوں کے ساتھ خود ہمیں بھی یقین نہیں آیا کہ یہ رزلٹ ہمارا اپنا ہے۔ دوسری طرف یہ بھی سچ ہے کہ عام طور پر بھی عمر عزیز میں ہم نے جب کبھی کوئی ترتیب پیدا کرنے کی کوشش کی ہے تو ایسا کھلواڑ مچا ہے کہ مت پوچھیے! ایسے میں ترتیب گویا دور کھڑی ہم پہ ہنس رہی ہوتی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ زندگی میں اپنے آپ کو بے مقصد پابندیوں میں جکڑے رکھنا عقلمندی نہیں۔ زندگی میں اس قدر شدید محنت بھی نہیں کرنی چاہیے کہ بندہ اس کے ثمرات اٹھانا بھی نظر انداز کردے۔ معروف آسٹریلوی مصنفہ برونی ویئر اپنی شہرہ آفاق کتاب
The Top Five Regrets Of The Dying
میں مرنے والوں کا دوسرا پچھتاوا یہی لکھتی ہیں کہ کاش انہوں نے زندگی میں اس قدر محنت نہ کی ہوتی۔ وقت کی ایک حد سے بڑھی ہوئی بے جا پابندی بھی شاید اسی قسم کی محنت میں شامل ہوتی ہے جس پہ بعض لوگوں کو بعد میں پچھتانا پڑتا ہے۔

مثلاً کچھ لوگوں کو آپ نے دیکھا ہوگا کہ انہیں ہر گھڑی وقت کی کمی کا گلہ رہتا ہے۔ خاص طور پر انہیں کہیں آتے جاتے بے انتہا جلدی ہوتی ہے۔ ایسے موقعوں پر وہ ایک طوفان کھڑا کر دیتے ہیں اور وقت ضائع ہونے پریوں شور مچاتے ہیں کہ نئے دیکھنے والوں کو لگتا ہے کہ موصوف کوئی بے انتہا مصروف انسان ہیں اور انہیں اس سفر کے بعد واپسی پر کوئی بے پناہ ضروری کام کرنا ہے۔ لیکن ہوتا اس کے بالکل برعکس ہے۔ حیرت اس وقت ہوتی ہے جب وہی بندہ جو گھر سے جاتے ہوئے دو تین منٹ لیٹ ہونے پر بیوی بچوں کے اوپر باقاعدہ دھاڑ رہا ہوتا ہے واپس پہنچنے پر کوئی بھی ضروری یا غیر ضروری کام کیے بغیر ٹی وی پر جم کے بیٹھ جاتا ہے اور پھر گھنٹوں چینلز گھماتا رہتا ہے۔

اسی طرح بعض احباب کو میں نے دیکھا ہے کہ وہ کہیں آتے جاتے بہت غور سے گھڑی دیکھیں گے اور پھر کہیں بھی پہنچنے پر باقاعدہ ٹائم نوٹ کریں گے اور آنے والے کئی روز بلکہ ہفتے اور مہینے اپنی آمد و روانگی کا وقت بڑی عرق ریزی کے ساتھ ایک ایک منٹ کے حساب سے درست بتانے کی کوشش کریں گے۔ وہ اس پر اتنے سنجیدہ ہوتے ہیں کہ مجال ہے سیکنڈز تک بھی بھولتے ہوں۔ یعنی ان کو مکمل علم ہوتا ہے کہ کل جب انہوں نے دکاندار سے سبزی خریدی تو اس وقت صبح کے دس بج کر نو منٹ اور سترہ سیکنڈ ہوئے تھے۔ اب بتائیے کہ ایسے صاحبان کو کون سمجھائے کہ بھئی! اس سبزی فروش سے جناب کی جو اہم ملاقات ہوئی ہے اس کا وقت دو چار سیکنڈ آگے پیچھے بھی بتا دیں گے تو شاید پھر بھی آپ کی اور ہماری زندگیوں میں کوئی اتنا بڑا فرق نہیں پڑے گا۔

ہمارا ایک دوست ان پرندوں کو بالکل احمق گردانتا ہے جو آسمان پر اڑتے ہوئے ایک قطار بنا لیتے ہیں۔ اسے اس بات پر شدید غصہ آتا ہے کہ یہ پرندے (از قسم کونج وغیرہ ) دس فٹ کی ایک باریک سی لائن میں پرواز کرتے ہیں جبکہ باقی سارا آسمان خالی پڑا ہوتا ہے سو! وہ یہ کہتا ہے کہ یہ پاگل پن نہیں تو اور کیا ہے۔ بعض اوقات وقت کی پابندی پر بھی یہی مثال صادق آتی ہے۔

بیرون ممالک سیاحت کے دوران میں نے نہ کبھی کسی ٹریول کمپنی سے مدد لی ہے اور نہ کبھی کسی گائیڈ کی خدمات لی ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو ظاہر ہے بے مقصد پیسے خرچ کرنے سے بچنا ہے لیکن اس کی زیادہ بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان دونوں صورتوں میں آپ کو وقت کی پابندی کرتے ہوئے ایک لگے بندھے ٹائم ٹیبل کو فالو کرنا پڑتا ہے۔ گویا بندے کو باہر جاکر بھی ایک آفس کی طرح آنے جانے کے لیے وقت کا خیال کرنا پڑتا ہے مجھے یہ قطعاً سمجھ نہیں آتا کہ بندہ سیر سپاٹے کے لیے باہر جائے اور وہاں بھی وقت کی پابندی کا تردد کرتا رہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ ایسے میں سیر کا سارا مزا کرکرا ہو جاتا ہے۔ سو! وقت کی پابندی ضروری سہی! اور یہ اچھی سوچ ہے۔ لیکن کبھی کبھار اس سے باہر بھی نکلنا چاہیے۔ دوسری سوچ رکھنے والوں کی دنیا بھی اتنی بری نہیں۔ اقبالؔ نے کہا تھا :

اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply