سندھ حکومت، بلاول کے جمہوری سٹانس کے بالکل الٹ جا رہی ہے
پیپلز پارٹی کے حوالے سے ہمیشہ دل میں اچھے احساسات رہے ہیں اور وجہ بھی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے واحد حکمران رہے ہیں جنہوں فاٹا کے لوگوں کو اپنی بساط سے بڑھ کر دینے کی کوشش ہے۔ وزیرستان میں سرکاری انفراسٹرکچر کی بنیاد ذوالفقار علی بھٹو شہید نے رکھی اور اپنے مختصر دور میں جتنا دیا وہ پاکستان کے تمام حکمران مل کر بھی نہ دے سکے۔ مجھے اس بات پر یقین ہے کہ پاکستان میں تھرڈ امپائر سے ملے بغیر حکمرانی ناممکن ہے اور اکثر اوقات طاقتور امپائرز کھیلے بغیر گراؤنڈ سے نکال دیتے ہیں لیکن بینظیر بھٹو شہید کے جانے کے بعد لگا جیسے پیپلز پارٹی کی وہ نظریاتی اور اصولی سیاست، اصول کے بجائے وصول کی طرف زیادہ مائل ہو گئی ہے۔
بطور ایک ترقی پسند کے نون لیگ کے مقابلے میں موجودہ پیپلز پارٹی کی پالیسیوں کو بھی کافی بہتر سمجھتا ہوں کیونکہ بینظیر کی شہادت کے بعد کی پی پی پی حکومت میں بھی چھوٹے صوبوں کی حالت قدرے بہتر رہی نون لیگ کی حکومت کی نسبت، اٹھارہویں آئینی ترمیم وہ کام تھا جو پاکستان جیسے کنٹرولڈ نظام میں بڑی مشکل سے پاس ہوتے ہیں اور میرا ماننا ہے کہ پیپلز پارٹی نے اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے ملک کو یکجا اور مضبوط رکھنے کی کوشش کی ہے۔
اٹھارہویں ترمیم ملک میں اس نظام کی طرف عملی قدم تھا جس کے نام پر یہ ملک بنا ہے اس ملک کا آئین بنا ہے اور اگر اس کی روح کے مطابق اس پر عمل درآمد ہو تو صوبوں اور عوام کے درمیان ہونے والی غلط فہمیاں کافی حد تک دور کی جا سکتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ایسے حلقے ہر صورت اس بوجھ سے جان چھڑانا چاہتے ہیں جو خود کو اس کے اصل مالک سمجھتے ہیں اور ایک طرح سے ہیں بھی۔
اب آتے ہیں وصولی سیاست کی طرف جس کو کچھ لوگ زرداری ڈاکٹرائن یا پھر ایک زرداری سب پے بھاری کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ میری نظر میں درست نہیں ہے۔ کیونکہ اس طرح پیپلز پارٹی مکمل طور پر سندھ تک سمٹ کر رہ جائے گی۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی سیاسی جڑیں نہایت مضبوط ہیں جبکہ سندھی کراچی کے علاوہ دیگر علاقوں کا ووٹر مخصوص طبقات (جیسے وڈیرے، سردار) شامل ہیں کو ووٹ دیتے ہیں جو قریباً پیپلز پارٹی کا حصہ ہوتے ہیں لیکن باقی صوبوں کا ووٹر قدر مختلف سوچتا ہے۔
یعنی اگر آپ پیپلز پارٹی کے اس بنیادی نظریات کو پس پشت ڈال کر آگے بڑھیں گے تو باقی صوبوں سے تعلق رکھنے والا ووٹر اپنی آپشن سوچیں گے۔ آج کے دور میں جب ہر کسی کو ایک موبائل فون کے ذریعے تمام چیزوں تک رسائی حاصل ہے وہ آپ کے پورے کردار کو جج کر رہے ہوتے ہیں اور میرا ماننا ہے کہ اس وقت پاکستانی عوام کی سوچ جس تیزی کے ساتھ بدل رہی ہے آنے والے چند سالوں میں لوگ افکار سے زیادہ کردار کو دیکھیں گے۔ حالیہ دنوں میں علی وزیر کی سندھ میں گرفتاری، ان کے خلاف پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں سندھ میں بننے والے مقدمات، جس کی حقیقت جمہوریت پسند حلقے اچھی طرح سمجھتے ہیں، سے پیپلز پارٹی کے جمہوریت پسندی کے تمام دعووں کی نفی مترادف ہے۔
بیشک یہ بات سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ سندھ حکومت کی ایما کے بغیر بھی ایسا ہو سکتا ہے لیکن اگر ایسا ہے یا ہو تو پیپلز پارٹی کی اس حوالے سے پراسرار خاموشی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ حالیہ دو تین برسوں میں بلاول بھٹو زرداری اس حوالے سے ایک واضح سٹانس لیتے آئے ہیں اور انہوں نے مظلوم کی حمایت کے ساتھ مظلوم کے لیے آواز بلند کرنے کی بھی کوشش کی ہے لیکن ان کی سندھ حکومت اس کے سٹانس کے بالکل الٹ جا رہی ہے، ایسا کیوں ہے؟ یہی وہ سوال ہے جو پیپلز پارٹی کے مستقبل کے کامیابیوں پر ایک سوال بن کر چھائی رہے گی۔


