انسانی حقوق کو نئے زاویے سے دیکھنے کی ضرورت!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سن انیس سو اڑتالیس میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ہیومن رائٹس کے عالمی اعلامیہ کو اپنایا تھا۔ اس بات کو اب تہتر برس سے ہو چکے ہیں۔ اس دستاویز کا مقصد بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ تھا۔ اس تحفظ کے حق دار تمام انسان قرار پائے تھے‘ قطع نظر اس کے کہ وہ کون ہیں‘ کہاں رہتے ہیں‘ کیا کرتے ہیں؛ تاہم اتنا طویل عرصہ گزر جانے کے بعد آج ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کے مختلف حصوں میں ریاستیں اور حکومتیں بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی میں مصروف ہیں۔

انسانی حقوق کی حالت دن بدن نا گفتہ بہ ہوتی جا رہی ہے۔ ان حالات کو دیکھ کر قدرتی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دنیا میں انسان کے شہری، سیاسی، معاشی، معاشرتی اور ثقافتی حقوق کے تحفظ اور ان کے فروغ میں بین الاقوامی اصولوں اور اداروں کا واقعی کوئی کردار ہے ؟ اور کیا یہ ادارے اپنے ہی وضع کردہ اصولوں کی روشنی میں انسانی حقوق کے باب میں ایسے اقدامات کرنے کی پوزیشن میں ہیں، جن سے انسانی حقوق کی صورت حال میں کوئی قابل ذکر فرق پڑ سکتا ہے۔

اس سلسلے میں گزشتہ ہفتے ہم نے ”زوم ریڈنگ روم‘‘ میں چند ایک کتب اور تاریخی دستاویزات پر تبادلہ خیال کیا۔ ان کتب میں دی اینڈ ٹائم آف ہیومن رائٹس ”یعنی انسانی حقوق کے خاتمے کا وقت‘‘ نامی کتاب بھی شامل تھی۔ اس کتاب میں مصنف سٹیفن ہاپگڈ نے انسانی حقوق کے تاریخی تصور، اس کے ارتقا، اس تصور کے ارد گرد عالمی سرکاری اور خیراتی اداروں کی تشکیل، اور عالمی تناظر میں اس کی صورت گری پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

ہاپگڈ کے نزدیک انسانی حقوق کے زوال کی پہلی وجہ یہ ہے کہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون اور تنظیم کا وسیع تر روایتی ڈھانچہ اب اس مقصد کے لئے موزوں نہیں ہے۔ انیسویں صدی میں واپس جاتے ہوئے ہاپگڈ کا خیال ہے کہ انسانیت پسندی یا ہیومن ازم کا جو درخت ہے، اس کی تین شاخیں ہیں۔ ان شاخوں کو ہم انسانیت پسندی، انسانی حقوق اور بین الاقوامی انصاف کہتے ہیں۔ یہ تینوں شاخیں ایک ہی جڑ سے پھوٹی تھیں۔ اس تصور کی آبیاری انیسویں صدی کے یورپی متوسط طبقے کے دانشوروں کے ذریعے ہوئی تھی، جن کو یقین تھا کہ انہیں ”مراعات یافتہ بصیرت‘‘ حاصل ہے۔

اس وقت دنیا میں عدم مساوات اور انسانی مصائب بڑی تیزی سے ابھر کر سامنے آ رہے تھے۔ ان حالات میں ان دانشوروں نے خود کو اچھے خدائی خدمت گاروں کے طور پر دیکھا۔ انہوں نے یقین کر لیا کہ یہ صرف انہی کی ذمہ داری ہے کہ وہ ”کم مہذب‘‘ معاشروں کو مدد فراہم کر کے ان کی جانیں بچائیں‘ لہٰذا اس ذمہ داری کے بوجھ تلے دبے ہوئے ان دانشور یورپیوں نے انسانیت پسندی کو مزید بلند کر کے سماجی و قانونی اداروں کی شکل میں ڈھالا، جن کی جڑوں میں مضبوط عیسائی روایات، تعلیمات اور اخلاقی عناصر موجود تھے۔

ہاپگڈ نے اپنی بات کی وضاحت کے لیے وہ مثالیں پیش کیں جو آج تک اس مقدس اجتماعی روایت کی جڑیں ہیں۔ ان میں سے ایک انسانی تکلیف کے حق میں یسوع مسیح کی قربانی ہے۔ دوسرا ان لوگوں نے انسانیت پسندی کا استعمال بڑے انوکھے طریقے سے کیا۔ انسانی حقوق کے حوالے سے چھپنے والی کتابوں اور رپورٹوں کے کور پیج پر ”معصوم شکار‘‘ کے طور پر کوڑے کے ڈھیر پر پڑے ہوئے بچے، ہڈیوں کے ڈھانچے میں ڈھلتے ہوئے فاقہ کش، اور خوفناک جنگ میں یتیم ہونے والے بچوں کی تصاویر کو مختلف طریقے سے پیش کیا گیا۔

ان مقدس اجزا اور شبیہات کو استعمال کرتے ہوئے انسانی حقوق والوں نے دو طرح کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ ایک یہ کہ اپنے نظریے کو زمین پر موجود حقائق سے جوڑ دیا‘ اور سوالات کو ہر قسم کی حدود سے آزاد کر دیا۔ ہاپگڈ کا خیال ہے کہ انسانی حقوق والے سیاسی نتائج حاصل کرنے کے لیے مذہبی علامتوں یا بچوں کی تکلیف دہ تصاویر کو استعمال کرتے ہیں۔

ان کا خیال ہے کہ یہ عمل دو وجوہات کی بنا پر ان کے لیے کار آمد ہے۔ ایک تو یہ کہ کسی کا بھی بچہ اس طرح کے مصائب کا شکار ہو سکتا ہے اور خدا اپنے بندوں کو اپنے بھائیوں اور بہنوں کی مدد کرنے کی تاکید کرتا ہے۔ مصنف کے خیال میں بد قسمتی سے اس روایت کو چیلنج کرنے کے بجائے، بہت سے لوگ اس اعلیٰ طاقت کے نام پر قانونی اور خیراتی ادارے تشکیل دیتے ہیں۔

ہاپگڈ کے خیال میں ہمارے دور میں انسانی حقوق کی زوال پذیری کی وجہ یہ ہے کہ عالمی سطح پر طاقت کا توازن بدل رہا ہے۔ امریکہ کے زیر قیادت یک قطبی نظام ایک کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس تبدیلی کی وضاحت کرتے ہوئے مصنف لکھتا ہے کہ چونکہ انسانی حقوق والوں کے پاس اپنا ضابطہ اخلاق اور کنونشن ہیں، جن کا مقامی سطح پر انسانی حقوق کی روزمرہ کی جدوجہد کے لئے بہت کم استعمال ہوتا ہے۔ ہم پہلے ہی مشرقی ایشیاء اور افریقی ممالک میں انسانی حقوق کی صورت حال کو دیکھ رہے ہیں۔

یہ صورت حال عالمی انسانی حقوق کی عالمگیریت کے تصور کو چیلنج کررہی ہے، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک پرانا ماڈل ہے۔ دوسرا، اس کثیر قطبی نظام کے تحت ہاپگڈ برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ کی مثال دیتا ہے، جو پہلے ہی امریکی عالمی تسلط کو چیلنج کر رہے ہیں۔ اگرچہ یہ ممالک لازمی طور پر بین الاقوامی قوانین کے خلاف نہیں ہیں۔ ہاپگڈ لکھتا ہے کہ ”مسئلہ یہ ہے کہ ان حالات میں وہ کون ہے، جو عالمی قوانین کے نفاذ کا فیصلہ کرے گا، یا پھر ان کو استثنا فراہم کرے گا۔ اس کے خیال میں یہ نیا نظام ملکوں کی خود مختاری کو ان کی عالمی ذمہ داری پر زیادہ ترجیح دے گا‘ جس سے انسانی حقوق کی وہ شکل غائب ہو جائے گی، جسے ہم آج دیکھتے اور جانتے ہیں۔

اگرچہ ”دی اینڈ ٹائم آف ہیومن رائٹس‘‘ کو کچھ لوگ اشتعال انگیز اور ناراض تحریر قرار دیتے ہیں‘ اس کے باوجود اس میں بہت ساری چیزیں قابل غور ہیں، کیونکہ مصنف انسانی حقوق کا پس منظر اور طویل عملی تجربہ رکھنے والے سابق کارکن ہیں، اس لئے ان کے اٹھائے گئے کچھ نکات پر توجہ لازم ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ایک مدت سے سیاسی سائنس دان، خاص طور پر حقیقت پسند دانشور، بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کے موثر ہونے کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں، اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اس کتاب میں خاص طور پر چونکا دینے والا یا کچھ نیا پیش نہیں کیا گیا ہے۔

صورت حال یہ ہے کہ چاہے ہم یک قطبی نظام کے اندر ہوں یا کثیر قطبی دنیا میں داخل ہورہے ہوں، بدلتے ہوئے حقائق ہمارے سامنے ہیں۔ امریکہ کے حالیہ اقدامات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انسانی حقوق کے باب میں عالمی کردار کے حوالے سے امریکی حکومت زوال کا شکار ہے۔ ان حالات میں ریاستی یا قومی خود مختاری کے نام پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اصرار کوئی درست راستہ نہیں ہے۔

اس کے برعکس دنیا میں ایک معتدل راستے کی ضرورت ہے، جس میں ہر قوم یا ریاست اپنی خود مختاری کو برقرار رکھتے ہوئے داخلی سطح پر انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ کو اپنی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری قرار دے کر اس پر عمل کرے۔ فی زمانہ انسانی حقوق کا سوال سماجی اور معاشی انصاف کے سوال کے ساتھ جڑ کر ایک نیا اور اہم سوال بن چکا ہے۔ اس سوال کو نئے زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply