جاپانی ہرن نے مجھے کیا سبق سکھایا؟


یہ دو ہزار اٹھارہ کی بات ہے۔ میں کچھ عرصے کے لئے جاپان فیلو شپ کے لئے گیا۔ اس دوران ہر ہفتے سیمنارز اور کانفرنسوں میں اپنے مقالے پڑھنے ہوتے اور ٹاک دینا ہوتی تھی۔ جاپانی ہمارا اتنا خیال رکھتے کہ وہ ہر ہفتے جاپان میں کسی بھی جگہ جانے کا خرچہ دیتے تھے۔ ایک ایسے ہی دورے میں ہم کیوٹو شہر پہنچے۔ اس کی خبر ہماری جاپانی فیلو میچیکو کو تھی۔ انہوں نے ہمیں ان کے اپنے قصبے نارا آنے کی دعوت دی۔ اگلے دن ہم نارا پہنچے تو وہ ہمارے استقبال کے لئے آئی۔

نارا جاپان کا قدیمی دارالحکومت رہا ہے۔ یہاں پر قدیم مندر گھنے جنگلوں میں اور شہر کے وسط میں موجود ہیں۔ اس شہر میں اور مندروں میں ہرن بکثرت موجود ہوتے ہیں اور آزادی سے گھوم رہے ہوتے ہیں۔ میں اپنے ساتھیوں سمراٹ، لیڈیا لوبان اور مچیکو کے ساتھ جنگل سے گزر رہا تھا تاکہ ایک شنتو مندر تک پہنچ سکوں۔ میری جاپانی ساتھی نے کہا کہ اگر راستے میں کوئی ہرن نظر آئے تو چلنا نہیں رک جانا۔ یہ مندر کے ہرن ہیں، اس لیے آپ کے ساتھ روایتی جاپانی انداز میں پیش آئیں گے۔

جاپانی اتنی عاجز قوم ہے کہ ہر بات اور عمل پر شکریے کے طور پر تین دفعہ سر جھکاتے ہیں۔ ہوا یوں کہ راستے میں ایک ہرن سامنے آ گیا ، میں وہیں پر بیٹھ گیا۔ تیس سیکنڈ میں اسے خاموشی سے دیکھتا رہا اور وہ بھی اپنی جگہ پر ساکت رہا۔ اور پھر جاپانیوں کی طرح اس نے سلام کے طور پر تین دفعہ تعظیم میں سرجھکایا۔ ویسے تو جاپانی اعلیٰ اخلاق کے حامل لوگ ہوتے ہیں مگر میرے لئے یہ ایک حیرت انگیز تجربہ تھا۔

میں نے میچیکو سے پوچھا ان حیوانوں نے یہ کیسے سیکھا ہے؟ اس نے جواب دیا: ”انسانوں سے“ ۔ میں نے کہا واقعی جیسا انسان ہو گا ویسا ہی حیوان ہو گا۔ تب یہ بات پلے پڑی کہ انسان جانوروں کی وجہ سے حیوان نہیں بنتا بلکہ اپنے معاشرے کی وجہ سے حیوان بن جاتا ہے۔ انسانی مزاج معاشرے میں موجود رویوں اور تربیت سے تشکیل پاتا ہے۔ یہ مزاج ریاست، سیاست، ادارے، خاندان اور فرد میں ظاہر ہوتے ہے۔ انسانی رویہ نہ صرف انسانوں پر اثر انداز ہوتا ہے بلکہ حیوانوں پر بھی اثر ڈالتا ہے۔

میں سمجھا کہ شاید یہ سدھائے ہوئے اور تربیت یافتہ ہرن ہوں گے مگر ہرنوں کے اس رویے کو میں نے ہر جگہ پایا۔ ہمارے ہیروشیما کے جزیرے مایاجیما کے دورے کے دوران بھی یہی تجربہ ہوا۔ ان واقعات نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور اپنے رویوں پر کچھ بنیادی سوال اٹھانے پر مجبور کر دیا۔ میں نے سوچا کہ آخر ان کے مندروں کے اندر ایسی کیا بات ہے جہاں سے نہ صرف انسان اخلاقی فیض پاتے ہیں بلکہ حیوانوں کی بھی تربیت ہوتی ہے؟

جاپان کے قیام کے دوران ساٹھ سے زیادہ مندروں میں جانے کا موقع ملا۔ جاپانی معاشرتی رویوں، تاریخ، نفسیات، مذاہب اور فلسفے کو بھی پڑھا۔ مجھے مندر کے اندر روحانی شخصیت تو کوئی نظر نہیں آئی مگر روحانیت جاپانی رویے اور طرز فکر اور عمل نظر آئی۔ تب مجھے یہ بات سمجھ آئی کہ جیسا معاشرہ ہوتا ہے ایسا ہی مذہب ہوتا ہے۔ جب سارے معاشرے میں نفرت کا زہر پھیلا ہو گا تو یہ زہر مذہب کے اندر سرایت کر جائے گا۔

ہمارے یہاں تو مسجد  معاشرے کے سارے خراب رویوں سے بھر گئی ہے۔ نتیجے میں روحانیت مسجد سے بھاگ گئی ہے اور بغیر روح کے عقیدہ اور عقیدت مند رہ گئے ہیں۔ ہماری عبادت گاہیں نمازیوں سے بھری ہوئی ہیں مگر لوگوں کی عادات اطوار اور اخلاق پر کوئی فرق نہیں پڑتا ہے اور باہر معاشرے میں وہی بے ایمانیاں، بد زبانیاں اور بدتمیزیاں بدرجۂ اتم موجود ہیں۔

مذہب معاشرے سے الگ کوئی چیز نہیں بلکہ ایک خاص زمان اور مکان میں اپنا اظہار کرتا ہے ، جیسا معاشرہ اور فرد کا مزاج ہو گا، ویسا ہی مذہب ہو گا۔ میرا بچپن کا ایک دوست تھا۔ شروع سے ہی بہت مذہبی واقع ہوا ہے مگر جوانی کی دہلیز پہ ہی چھوٹی چھوٹی چوریاں کرنے کی لت لگ گئی، جو بعد میں بڑی چوریوں پر منتج ہوئی۔ وہ جب بھی اسلام پر بات کرتا تو ہر وقت جنگ اور مال غنیمت کی بات کرتا۔ اس طرح ایک جاننے والے نے زوالوجی میں ایم ایس سی کیا ہوا تھا۔ اسلام کے بارے میں وہ جب بھی گفتگو کرتا تو اس کی ہر بات میں گھوڑوں، ہاتھیوں، مکڑوں، بلیوں، کتوں اور اونٹوں وغیرہ کا ذکر ہوتا۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جیسا ہمارا مزاج ہو گا ایسا ہی مذہب ہو گا۔ چونکہ معاشرہ ہے ہی اخلاقی طور پر دیوالیہ تو مسجد اندر سے اس کی کیا تربیت کرے گی۔ ہم مذہب سے وہی چیز نکالتے ہیں جو ہمیں چاہیے ہوتا ہے۔ مولانا رومی نے کہا تھا علماء قرآن سے تفرقے نکالتے ہیں ، میں نے محبت نکالی ہے۔ ہم قرآن پڑھتے ہی اس لئے ہیں کہ دوسروں کو غلط ثابت کریں اور کافر قرار دیں نہ کہ اپنے علم میں اضافے اور شخصیت کی بہتری کے لئے۔

فیلو شپ کے آخر میں ٹوکیو میں انٹرنیشنل ہاؤس آف جاپان میں کانفرنس میں ، میں نے گلگت بلتستان کے متعلق اپنا مقالہ ”ریاست اور حاشیے کا تخیل: گلگت بلتستان ایک مطالعہ“ پڑھا۔ اس دوران ایک جاپانی پروفیسر نے میرے جاپان میں تجربوں کے متعلق پوچھا کہ جاپان میں کیا سیکھا؟ میں نے کہا آپ لوگوں نے مجھے بہت مشکل میں ڈال دیا ہے کیونکہ مجھے ابھی پتہ چلا کہ میں انسان نہیں ہوں۔ اب تو مجھے انسان بننا پڑے گا جو کہ مشکل کام ہے۔

واپسی پہ مجھے معکوس ثقافتی دھچکا لگا کیونکہ میں یہاں ٹیکسی کا دروازہ بند کرنا بھول جاتا تھا، جتنی زیادہ عبادت گاہیں ہیں اتنی ہی بدتہذیبی اور حیوانیت پاتا ہوں۔ ہماری نمازوں کا ہمارے اخلاق سے کوئی تعلق نہیں، ہماری ڈگری کا ہمارے علم سے کوئی لینا دینا نہیں اور ہماری اقدار کا ہمارے اعمال سے کوئی تعلق نہیں۔ بس جو کچھ کیے جا رہے ہیں یہ بقول جون ایلیا ’فقط عادتوں کی ورزش ہے۔‘ اخلاق اور ایمانداری سے عاری، سنگدل معاشرے میں انسان کی زندگی جینے سے بہتر ہے کہ اخلاق اور ایمانداری سے معمور انسانوں کے درمیان حیوان کی زندگی گزاری جائے۔ مجھے اس تصویر میں موجود ہرن وہ سبق سکھا گیا جو بچپن سے منبروں سے نشر ہونے والے ہزاروں وعظ اور خطبے نہیں سکھا سکے تھے۔ بقول اقبال:

تیرا امام بے حضور، تیری نماز بے سرور
ایسی نماز سے گزر، ایسے امام سے گزر

Facebook Comments HS