کیا یہ کوئی بغاوت ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اموی خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کی وفات کے بعد عمر بن عبدالعزیز کو شاہی تخت پر بٹھایا گیا۔ ناز و نعم میں پلے بڑھے شہزادے کو یہ جانشینی پسند نہ آئی اور تخت کو یہ کہتے ہوئے ٹھکرا دیا کہ میں بادشاہ نہیں بن سکتا۔ لوگوں نے منت سماجت کر کے اپنی خوشی اور رضا مندی سے آپ کو دوبارہ تخت شاہی پر لا بٹھایا۔ اب کی بار تخت وراثت میں نہیں لوگوں کی رضامندی سے حاصل ہوا اور اسی سبب دور اقتدار بادشاہت نہیں دور خلافت کہلایا۔ پھر وقت نے بھی ثابت کر دیا کہ لوگوں کا انتخاب ٹھیک تھا۔

کہتے ہیں کہ آپ کے ہاتھ میں ایک انگوٹھی ہوتی تھی جس میں ایک انتہائی قیمتی ہیرا جڑا ہوا تھا اور یہ انگوٹھی آپ کو بہت پسند تھی۔ اتفاق ایسا ہوا کہ ایک سال ملک میں شدید قحط پڑا اور اناج کی کمی کے باعث لوگ بھوکوں مرنے لگے۔ غریب پرور خلیفہ حالات سے بے خبر نہیں تھا۔ لوگوں کی تکالیف اور پریشانی کو مدنظر رکھتے ہوئے خلیفہ نے اپنی پسندیدہ بیش قیمت انگوٹھی کو فروخت کر دیا اور حاصل ہونے والی قیمت سے اناج خرید کر لوگوں میں تقسیم کرا دیا۔

جب اس انگوٹھی کی فروخت کا علم آپ کے قریبی ساتھیوں کو ہوا تو انہوں نے آپ سے کہا کہ یہ آپ نے کیا کیا؟ اپنا پسندیدہ ہیرا فروخت کر دیا۔ اس موقع پر حضرت عمر بن عبدالعزیز  نے جو جواب دیا وہ آج بھی تاریخ میں سنہرے حروف میں لکھا ہوا ہے اور حکمران اشرافیہ کے لیے یہ جواب ایک مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔

آپ نے فرمایا ”وہ ہیرا مجھے بہت پسند تھا لیکن میں یہ بات کیسے گوارا کر سکتا تھا کہ لوگ بھوک سے تڑپ رہے ہوں اور میں قیمتی انگوٹھی پہنے بیٹھا رہوں۔ کسی بھی حکمران کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ لوگوں کو تکالیف میں مبتلا دیکھے اور اپنے آرام اور زیب و زینت کے سامان کو عزیز رکھے۔ یہ فرماتے وقت آپ کے رخساروں پر آنسو بہہ رہے تھے“ ۔ تاریخ میں آپ کے دور کو خلافت راشدہ کا تسلسل لکھا جاتا ہے۔

طے ہو گیا کہ اگر عوام کو یقین آ جائے کہ حاکم وقت عوام کی حاجت روائی کرنے والا ہے، تو اسی اعتماد اور یقین کی بدولت عوام کے ہاتھ دعاؤں کے لیے اٹھتے ہیں۔ مگر جب یقین کی کیفیت پر بے یقینی غالب آ جائے اور عوام کو یقین ہو جائے کہ ان کے دکھوں اور تکالیف کا کہیں مداوا نہیں ہو گا تو وہ غیض و غضب کی حالت میں ہاتھوں میں پتھر اور ڈنڈے لے کر سربازار آ جاتے ہیں۔ ایسا کئی بار ہو چکا ہے اور کئی حکومتیں اور شاہی تخت عوامی غیظ و غضب کا نشانہ بن چکے ہیں۔

اس کی سب سے بڑی دلیل انقلاب فرانس ہے۔ انقلاب فرانس کا شمار دنیا کے پانچ بڑے عوامی انقلابوں میں ہوتا ہے۔ انقلاب کے وقت فرانس میں تین  طبقات موجود تھے جن میں مذہبی طبقہ، دولت مند اشرافیہ اور تیسرا طبقہ وہ غریب عوام تھے جو زندگی کی بنیادی ضروریات کو ترس رہے تھے۔

جنگ آزادی امریکا میں امریکا کی اعانت کرتے کرتے فرانس کا خزانہ خالی ہو چکا تھا۔ اس وجہ سے فرانس کے معاشی حالات اور خاص طور پر عام طبقہ کی معاشی حالت ابتر ہو چکی تھی۔ ایسے میں 5 مئی 1789 کو فرانسیسی بادشاہ لوئی نے اسٹیٹ جنرلز کا اجلاس طلب کیا تاکہ نئے ٹیکس لگائے جائیں جس سے ملک کے خالی خزانہ کو بھرا جا سکے۔ مگر اس وقت تک دیر ہو چکی تھی اور عوامی غیظ و غضب انتہا کو پہنچ چکا تھا۔

14 جولائی 1789 کو فرانسیسی مشتعل عوام کا ہجوم محل کے سامنے جمع ہوا اور روٹی روٹی کی دہائی دیتا رہا۔ مگر روٹی کے لیے بلکتی عوام کو خاموش کرانے کے لیے ریاستی مشینری کا استعمال کیا گیا اور عوام پر محافظوں کے ذریعے تشدد کیا گیا جس سے اشتعال پھیلا اور مشتعل عوام نے باستیل کے قلعہ پر قبضہ کر کے جیل خانہ منہدم کر دیا۔ بادشاہ کو اطلاع دی گئی تو بادشاہ لوئی نے پوچھا کیا یہ کوئی بغاوت ہے اور اطلاع دینے والے کے منہ سے بے ساختہ نکلا نہیں جاں پناہ یہ انقلاب ہے۔ اور یوں 4 اگست 1789 کو فرانس میں مکمل انقلاب آ گیا۔

یہ محض انقلاب نہیں تھا ایک عظیم انقلاب تھا جس میں صدیوں سے قائم بادشاہت کا خاتمہ بادشاہ کو سولی پر چڑھا کر کیا گیا۔ بادشاہ کے وظیفہ خوار مذہبی پیشواؤں کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا۔ جاگیرداری نظام کا خاتمہ ہوا اور آزادی، مساوات اور اخوت کے نئے دور کا آغاز ہوا۔ بھوک سے نڈھال عوام نے کسی بھی اخلاقی نصحیت، کلیسا کی کسی بھی مذہبی تاویل کو سننے اور ماننے سے انکار کر دیا۔ 21 جنوری 1793 کو شاہ فرانس اور 16 اکتوبر کو ملکہ کو عوامی عدالتوں میں کارروائی کے بعد پھانسی دے دی گئی۔ ہر اس شخص کو قتل کر دیا گیا جس کے ہاتھ نرم و ملائم تھے۔

تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ اس سے کسی نے سبق نہیں سیکھا اور ان نہ سیکھنے والوں میں ہماری حکمران اشرافیہ بھی ہے۔ خالی خزانے کو بھرنے کی خواہش میں مگن ہمارے بادشاہ کو عوام سے کوئی غرض نہیں ہے۔ مہنگائی، کرپشن، اقربا پروری اور بے روزگاری کے کوہ گراں تلے سسکتے ہوئے بے کس عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ حکمران اشرافیہ عالمی مالیاتی اداروں کی ہدایات کے مطابق لوگوں کے منہ سے آخری نوالہ بھی چھین لینے کے درپے ہے۔

کس کس کا رونا رویا جائے۔ اگر کسی پر تنقید کر دی جائے تو وہ جمہوریت پر حملہ تصور ہوتا ہے۔ اگر عوام احتجاج کرتے ہیں تو حکمرانوں کو یہ جمہوریت کے خلاف کوئی منظم سازش لگتی ہے۔ بے روزگاری کا عفریت نوجوان نسل کی امیدوں اور خوابوں کو نگل رہا ہے تو کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ مہنگائی سے سبب خودکشی اور عصمت فروشی کے واقعات میں اضافہ بھی پریشان کن نہیں ہے ، بس کسی طرح جمہوری سسٹم چلنا چاہیے۔ تو اس ضمن میں اپنے حکمرانوں سے عرض یہی کرنا ہے کہ یہ کوئی سازش نہیں ہے حضور! بس آپ ذرا اپنی اداؤں پر غور فرمائیں ، اگر ہم کچھ عرض کریں گے تو شکایت ہو گی۔

رہی بات جمہوریت کی تو ہم وہ بدنصیب قوم ہیں جن کو نہ تو جمہوریت سے کوئی فائدہ پہنچا اور نہ ہی آمریت نے نفع دیا۔ ہر دو طرح کی حکمرانی میں عوام کی زندگی اجیرن ہی رہی ہے۔ سب سیاسی جماعتیں حکمرانی کر چکیں مگر غریبوں کے حالات نہیں بدلے۔ اور بدلیں گے بھی نہیں ۔ اس لیے اگر کچھ بدلنا ہے تو یہ نظام بدلو، طرزحکمرانی بدلو اور اپنی ترجیحات بدلو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply