پاک اسرائیل تعلقات: حقیقت یا سراب؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ چند ماہ سے ایک بار پھر شدت سے ہمارے عسکری، سفارتی اور سیاسی گلیاروں میں یہ بحث شروع ہو چکی ہے کہ پاکستان اور اسرائیل تعلقات قائم ہونے چاہئیں یا نہیں؟ یہ بلاشبہ ایک ایسا متنازع مگر دلچسپی سے بھرپور موضوع رہا ہے جس کی بازگشت اکثر و بیشتر ہمارے سماج میں سنائی دیتی رہی ہے۔

اس ضمن میں چند اہم سوالات بھی ابھرتے ہیں کہ کیا تل ابیب کو ماننے کا فیصلہ اسلام آباد کے لئے مفید ثابت ہو گا یا اس سے اندرون ملک یا خارجہ سطح پر ہمیں مزید مشکلات و بحرانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے؟کیا اس فیصلے سے پاکستان مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اسرائیل پر اثر انداز ہو سکے گا یا پھر تل ابیب کو تسلیم کرنے سے خود ہمارا ہی دیرینہ کشمیر کاز ناقابل تلافی نقصانات سے دوچار ہو سکتا ہے؟

الغرض یہ شاید اتنا سادہ معاملہ نہیں ہے اور اس معاملے پر عسکری و سیاسی فورسز کے ساتھ سول سوسائٹی اور اہل دانش کی رائے بھی نہایت اہمیت کی حامل ہے جس کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ آئیے اس خاردار معاملے کی جانچ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ پاکستان کے لئے ممکنہ طور پر یہ فیصلہ کس طرح کے اثرات مرتب کرنے کا حامل ہو سکتا ہے۔

سب سے پہلے اگر تاریخی حوالے سے دیکھا جائے تو وہ کون سی وجوہات ہیں جن کی بدولت آج تک اسلام آباد تل ابیب کو تسلیم کرنے سے دوری میں ہی عافیت سمجھتا رہا ہے؟ پہلی وجہ تو یہ رہی کہ 1948 میں اسرائیل کے قیام سے ہی عرب دنیا القدس شریف کے تحفظ کے لئے کمر بستہ ہوئی اور جمال عبدالناصر، شاہ حسین، حافظ الاسد وغیرہ جنگوں کے ذریعے اپنے مقاصد کی تگ و دو میں مصروف عمل رہے۔ تاہم بدقسمتی سے عرب اسرائیل کے مابین جنگوں سے اسرائیل کے جغرافیے میں ہی اضافہ ہوتا رہا اور دھیرے دھیرے عرب ممالک جنگ و جدل سے بیزار ہوتے گئے۔

دوسری جانب پاکستان مسلم امہ کے جذبات اور فلسطینیوں کی جدوجہد آزادی کا بھرپور حامی بن کر ابھرا اور اسرائیل کی ہر عالمی فورم پر کڑی مذمت کرتا رہا۔ یوں اسرائیل مذہبی، نظریاتی اور سیاسی حوالے سے ہماری ریاست کے لئے ناپسندیدہ ٹھہرا۔ اگرچہ افغان جنگ میں سوویت یونین کے خلاف جنگ میں اسرائیل نے امریکی ایماء پر خفیہ انداز سے پاکستان کو مجاہدین کے لئے اسلحہ بھی فراہم کیا اور 2005 میں بھی مشرف شیرون ملاقات اور مشرف کے جیوش کانگرس سے خطاب کی بدولت بھی تل ابیب اور اسلام آباد میں برف پگھلتی نظر آئی مگر جلد ہی یہ بے تکلفی التواء کا شکار ہو گئی۔

آج بھی ہمارے وزیراعظم عمران خان اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے دو ٹوک الفاظ میں متعدد بار کہہ چکے کہ جب تک اسرائیل 1967 کی سرحدوں پر واپس چلا نہیں جاتا اور یروشلم کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت تسلیم نہیں کر لیتا تب تک اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس وقت اگر بین الاقوامی حالات کا بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو ہم بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ نائن الیون کے بعد سے اب تک بیس برسوں میں کافی پانی پلوں تلے بہہ چکا ہے۔

آج سابق صدر ٹرمپ کے دور میں ہونے والی ڈیل آف دی سنچری کی بدولت مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک فلسطینی کاز کو فراموش کرتے دکھائی دیتے ہیں اور 2020 میں متحدہ عرب امارات، مراکش، کوسوو، بحرین اور سوڈان تل ابیب کو نہ صرف تسلیم کر چکے ہیں بلکہ خطے کے دیگر ممالک کو بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کی ترغیب بھی دلا رہے ہیں۔ یہ امر بھی اب واضح ہو چکا ہے کہ ان ممالک کی جانب سے اتنے بڑے قدم اٹھانے کے پیچھے سعودی تائید بھی بہرصورت موجود رہی ہے اور مستقبل قریب میں شاید ریاض بھی ان ممالک کے نقش قدم پر چلتا دکھائی دے۔

مشرق وسطیٰ کی سیاست کو دیکھا جائے تو یہ بات بہت واضح ہے کہ عرب دنیا کے لئے خطرہ تل ابیب نہیں رہا بلکہ اب تہران عرب دنیا کی نگاہ میں اس خطے کی سلامتی کے لئے ایک چیلنج بن چکا ہے۔ ایران کا جوہری پروگرام، یمن کی جنگ میں حوثیوں کی حمایت، شام کی خانہ جنگی میں بشار الاسد کی کھلی اعانت اور لبنان میں حزب اللہ کی حربی سپورٹ وہ عناصر ہیں جو کہ سعودیہ سمیت دیگر عرب ممالک کے لئے باعث تشویش ہیں۔ گویا اب عرب دنیا شاخ زیتون کے ذریعے اسرائیل سے قریبی دفاعی حربی اور معاشی تعاون کی خواہاں ہے تاکہ ایران کو لگام دی جا سکے۔افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ فلسطینی عوام اب عرب دنیا کے لئے کوئی حیثیت نہیں رکھتے اور عرب دنیا اس کاز کی حمایت سے ہاتھ کھینچ چکی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ پاکستان اس ساری صورتحال میں کہاں کھڑا ہے اور مستقبل میں کیا تل ابیب کو تسلیم کرنے کے حوالے سے کوئی بریک تھرو متوقع ہے؟ اگر بین الاقوامی تعلقات کے وسیع تر تناظر میں سوچیں تو اسرائیل کے ساتھ پاکستان کا مسئلہ فلسطین کے علاوہ کوئی نہیں ہے۔ تاہم پاکستان کے اسرائیل کی طرف سخت موقف کا یہ نقصان ضرور ہے کہ تل ابیب اور دلی آج حربی شراکت داری میں داخل ہو چکے ہیں اور بھارت روس کے بعد اسرائیل سے ہی سب سے زیادہ اسلحہ خرید رہا ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں بھی اضافہ متوقع ہے۔

لہٰذا اسرائیل کو تسلیم کرنے کی حامی لابی اس ضمن میں یہ دلیل دیتی ہے کہ اسرائیل سے تعلقات کے قیام سے پاکستان بھارت اسرائیل تعلقات میں ایک توازن کی سی کیفیت پیدا کر سکے گا نیز تل ابیب سے بھاری دفاعی، زرعی تکنیکی اور معاشی فوائد بھی میسر ہوں گے جو کہ معیشت کے لئے بھی نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ اسی طرح پاکستان اسرائیل کو مسئلہ فلسطین کے حوالے سے بھی کافی حد تک متعدل اپروچ اپنانے پر مجبور کرنے کی پوزیشن میں ہو گا ، نیز تل ابیب کے ساتھ تعلقات پاکستانیوں کے لئے مذہبی سیاحت کے حوالے سے بھی اہم ترین ثابت ہو سکیں گے۔

اس طرح پاکستان کے بطور ریاست امیج میں ترقی پسندی کے پہلو بھی مکمل طور پر اجاگر ہو سکیں گے۔ تاہم اسلام آباد کیوں اس پیش رفت کی جانب بڑھنے سے ہچکچاہٹ کا شکار ہے؟ یہ جاننا بھی بہت اہم ہے۔ سب سے پہلے ہمارے مذہبی طبقات فلسطین کے کاز کے ضمن میں اس فیصلے کو غداری سے تعبیر کریں گے اور ملک گیر احتجاج کی جانب مائل ہوں گے جس سے اپوزیشن بھی اسے سیاسی عدم استحکام کی جانب موڑ سکتی ہے اور ظاہر ہے کہ اتنے شدید ردعمل کا سامنا کرنا کسی بھی حکومت کے لئے آسان نہیں ہو گا۔ لہٰذا اسلام آباد کے لئے اندرونی عوامل ہرگز اسرائیل کو ماننے کے حوالے سے قطعاٰ سودمند نہیں ہیں، تاہم بیرونی عوامل کی بات کی جائے تو اسرائیل کی جانب مائل ہونا اور اس کو تسلیم کرنے سے بلاشبہ ترکی، خصوصاٰ ایران اور ملائیشیا سے بھی شدید ردعمل دیکھنے کو ملے گا اور حربی و سفارتی لحاظ سے پاکستان کو مسلم دنیا میں کسی حد تک بیگانگی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

بہرحال اگر ہماری مقتدرہ اور سیاسی فورسز اس حوالے سے کڑوی گولی نگلنے کو تیار ہو جاتی ہیں تو پھر ہمیں امریکہ سے کشمیر ایشو اور فلسطین بحران کے حوالے سے اسرائیل سے ٹھوس ضمانتیں بھی لینا ہوں گی۔

سعودی عرب اور عرب دنیا کو کشمیر ایشو پر ہمیں بھارت کے مقابلے میں کھل کر حمایت دینا ہو گی تاکہ کشمیر تنازع غیر متعلق نہ ہو جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمارے اہل دانش اور خارجہ ماہرین کے نزدیک اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے ریاست پاکستان کو عجلت میں ہرگز فیصلے نہیں کرنے چاہئیں بلکہ سعودی عرب اور امارات کے پریشر کو ترک کرتے ہوئے اپنے قومی مفاد کو ہر صورت اولیت دینی چاہیے۔ یاد رہے عرب دنیا ایران کو علاقائی خطرے کے طور پر دیکھتی ہے اور خطے سے صدر بائیڈن کی عدم دلچسپی کے باوجود اسرائیل پر تکیہ کرنے پر مجبور ہے، تاہم پاکستان کو ایسی کوئی مجبوری ہرگز لاحق نہیں ہے۔

یہ درست ہے کہ اسرائیل کی نیت پر بہت کچھ منحصر ہو گا کیونکہ عالمی وعدے اور معاہدے نبھانے کے حوالے سے تل ابیب کا ریکارڈ کچھ اچھا نہیں۔ اگرچہ امارات بھی اس بات پر بغلیں بجا رہا ہے کہ اسرائیل نے مغربی کنارے کو ضم کرنے کے فیصلے کو معطل کیا ہے مگر یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اسرائیل کبھی بھی منحرف ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ بھی ایک دلچسپ امر ہے کہ اسرائیل کو جن مسلم ممالک نے حال ہی میں تسلیم کیا وہاں سے بھی عوامی سطح پر کوئی شدید ردعمل بھی دیکھنے کو نہیں ملا۔

عالمی تعلقات کبھی جامد نہیں رہتے ، اسی لئے نئے حقائق کو بسا اوقات زمینی حقائق دیکھتے ہوئے قبول کرنا پڑتا ہے۔ لہٰذا پاکستانی خارجہ پالیسی کو خصوصاً ریاض اور تہران کے درمیان تعلقات کے حوالے سے بھی تنی ہوئی رسی پر چلنا ہو گا۔ اگر ریاض بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے تل ابیب سے ٹھوس ضمانتیں لینے کا خواہاں ہے تو تل ابیب کو بھی پاکستان  کے تحفظات اور خدشات کا ازالہ کرنا ہو گا۔

اس ساری نشست کے بعد اور تمام مثبت اور منفی پہلوؤں کو دیکھتے ہوئے شاید ہم یہ انتیجہ اخذ کرنے کی پوزیشن میں ہیں کہ فی الحال وطن عزیز میں ایک مخصوص لابی کے علاوہ عوام، مقتدرہ اور سیاسی جماعتوں کی اکثریت اسرائیل کو فوری تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔

جب تک فلسطینی بحران کے حوالے سے اسرائیل قیام امن کے لئے دو ریاستی حل کی جانب نیک نیتی سے گامزن نہیں ہوتا ، تب تک اسلام آباد بھی تل ابیب سے مراسم بڑھانے میں گرم جوشی ہرگز نہیں دکھائے گا۔ ویسے بھی اگر ٹرمپ کی مشرق وسطیٰ پالیسی کے معمار جیرالڈ کشنر کی ڈیل آف دی سنچری اور ابراہام معاہدے کا جائزہ لیا جائے تو یہی گمان ہوتا ہے کہ اس ڈیل کے ظہور پذیر ہونے سے فلسطین بحران کے حوالے سے پہلے ہی دو ریاستوں کے نظریے کو دفن کر دیا گیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply