معاشرے میں شعور کیسے پروان چڑھتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسان کو تمام مخلوقات پر فضیلت بخشی گئی ہے۔ اس نے اشرف المخلوقات کا درجہ پایا ہے ، یہی وہ مخلوق ہے جس کو خدا نے اپنا خلیفہ مقرر کیا۔ اپنی ساری کائنات اس کے لیے مسخر کر دی اور اختیار بخشا کہ اس کائنات کو وہ اپنی گرفت میں لے سکتا ہے۔

خدا نے فرشتوں جیسی معصوم مخلوق کو حکم دیا کہ انسان کو سجدہ کریں اور سجدہ کیا گیا۔ خدا نے اگر اپنی صفات کا مظہر بنایا تو فقط انسان کو۔ حتیٰ کہ خدا کی سب سے بڑی صفت خالق ہونا ہے اور انسان کا درجہ دیکھیے کہ اس صفت کو بھی انسان میں رکھ دیا۔ اسی صفت کے نتیجے میں ایسی ایسی ایجادات ہوئیں کہ آدمی دنگ رہ جاتا ہے۔ خدا کن کہتا ہے ہو جاتا ہے مگر کن سے پہلے کی چیز ہے ارادہ کہ وہ ارادہ کرتا ہے۔ اور اس نے یہ اختیار بھی انسان کو بخش دیا اور ارادہ کرنے کے حوالے سے صاحب اختیار کر دیا۔

انسان نے بھی خدا کی بنائی مخلوق کی نقل کرنے کی کوشش کی اور ایک مصنوعی انسان بنا ڈالا جس کو روبوٹ کا نام دیا۔ انسان اختیار کے اس درجے پر جا پہنچا کہ کہ مصنوعی سورج بنا ڈالا اور چاند پر قابو پا لینے کی پوری کوشش میں ہے۔ اور ساتھ میں دوسرے سیاروں کی تلاش میں ہے کہ جہاں وہ دوسری دنیا آباد کر سکے۔ اس سب پیش رفت کی کیا وجہ ہے کہ انسان اس درجے پر فائز ہوا؟ وہ ہے ”عقل“ ۔

عقل خدا کی عطا کردہ وہ نعمت ہے جس کو استعمال کرنے کا مکمل حق انسان کو دے دیا گیا۔ اب یہ انسان کا اپنا ظرف ہے کہ وہ اسے کیسے استعمال کرتا ہے اور اسے اس پہ بھی قادر کر دیا گیا ہے کہ وہ استعمال ہی نہ کرے ۔ یہ بھی واضح کر دیا گیا کہ جس قدر اس کا استعمال ہو گا اس قدر ہی فائدہ ہو گا۔

یہ عقل ہی ہے کہ مختلف نظریات وجود میں آئے اور لوگ ان کے قائل ہونے لگے۔ اسی عقل کی بنا پر کوئی موسیؑ کا دوست بنا اور دریا عبور کر گیا، کسی نے عیسیٰ کو سچا مانا اور خدا کو پایا تو کسی نے محمد ﷺ کی پیروی کی اور نجات یافتہ ہو گیا۔ یہ سب اس عقل کی کرامت ہے کہ جس نے انسان کو سوچنے سمجھنے کی طاقت بخشی۔

آپ متذکرہ بالا شخصیات میں سے کسی کے پیروکار سے اس کے رہبر کا تذکرہ کریں گے تو وہ انسان آپ کو اپنے رہبر کی عقل و دانش کے واقعات سنائے گا۔ یہ سب عقل کا نتیجہ ہے کہ انسان رہبر قرار پایا۔ ہر گروہ کے نزدیک یہ بات سند کی حیثیت رکھتی ہے کہ رہبر وہ ہو سکتا جو عاقل ہو اور عاقل ہونے کی پہلی شرط شعور ہے۔ انسان شعور کے بغیر باتیں پڑھ سکتا ہے، پڑھا سکتا ہے، یاد کر سکتا ہے اور یاد کروا بھی سکتا ہے مگر عاقل نہیں ہو سکتا۔

شعور ہے کیا؟ کہاں سے ودیعت کیا جاتا ہے؟
انسانی جسم کے کس حصے میں آ کر ٹھہرتا ہے؟
اس کی ساخت کیسی ہے؟ اس کا کام کیا ہے؟
اس کا مقصد کیا ہے؟ وغیرہ وغیرہ وہ سوالات ہیں جو دماغ میں گردش کرتے ہیں۔

شعور ایک ان دیکھی روشنی ہے جو کہ انسان کی جستجو کے مطابق اس میں اتار دی جاتی ہے۔ ظاہری طور پر نظر تو نہیں آتی مگر انسان میں اثر بہت گہرا رکھتی ہے۔ جیسے ہی یہ اترتی ہے اسی لمحے انسان کے اندر ایک بے چینی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ اس کے اترنے کا وقت انسان نے خود مقرر کرنا ہوتا ہے۔ جب انسان نے جستجو کی تو اس جستجو کے نتیجے میں انسان پر شعور الہام کر دیا گیا جو اپنا اثر سر تا پا قائم کرتے ہوئے انسان کو ایسے تجسس میں مبتلا کر دیتا ہے جس کی وجہ سے انسان کچھ کر گزرنے کی تگ و دو میں رہتا ہے۔

شعور کا کام اس کیڑے کی مانند ہے جو ظاہری طور پر نظر نہیں آتا مگر اپنا کام جاری رکھتا ہے۔ جس طرح اس کیڑے کو دیکھنے کے لیے کسی خاص آلے کی ضرورت ہوتی ہے بالکل اسی طرح شعور کو دیکھنے کے لیے ایک خاص نگاہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس نگاہ کا اس قدر گہرا ہونا ضروری ہے کہ وہ باطن میں تانک جھانک کر سکے اور اس نگاہ کو نگاہ معرفت کہتے ہیں۔ اس کو پا لینا ہی اپنی ذات تک رسائی حاصل کر لینا ہے۔ اس شعور کی وجہ سے آپ کے اندر بہت سے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں آپ کو فکر ستانے لگتی ہے اور اندر ایک ایسی آواز پیدا ہوتی جو آپ کو چین نہیں لینے دیتی۔ ہمیشہ وہ آواز اکساتی ہے کہ اٹھ اب تجھ پر شعور اتار دیا گیا ہے، اٹھ اب اس کا حق ادا کر۔

یہ بات طے ہے کہ کبھی بھی باشعور اور بے شعور کا موازنہ برابری کی سطح پر نہیں کیا جا سکتا۔ کوئی بھی فلسفہ اس بات کو رد نہیں کرتا بلکہ واضح طور پر باشعور کو برتری دیتا ہے۔ دانش مند کا درجہ بھی فقط باشعور کے لئے ہی مخصوص ہے۔ باشعور شکص آپ کو ہمیشہ آگہی تقسیم کرنے والی صف میں نظر آئے گا اور یہ پہچان کا واحد طریقہ ہے جس سے آپ اس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ یہ باشعور ہے یا نہیں۔

باشعور فرد کے لیے جو سب سے اہم بات ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ معاشرے کے لوگ اس کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں؟ کیا لوگ قدر دان ہیں یا بے حرمتی کرنے والے؟ دراصل اس حوالے سے معاشرے میں دونوں طبقے پائے جاتے ہیں۔ ایک طبقہ وہ کہ جو قدر دان ہے اور دوسرا طبقہ جو باشعور لوگوں کی عزت کو پامال کرنے والا ہے۔ ان دونوں طبقوں کے انداز اپنے ہیں۔ اگر کسی باشعور کو ایسا طبقہ میسر آیا کہ جو حرمت کو پامال کر دینے والا ہے تو یقیناً باشعور شخص سب سے مظلوم فرد بن کر رہ جائے گا۔

لیکن جب کسی با شعور کو قدردان طبقہ میسر آتا ہے تو اس طبقے کے لوگ اس با شعور فرد کی فہم و فراست کو نعمت خداوندی سمجھ کر اس سے مستفید ہوتے ہیں۔ یہ طبقہ شعور کی بات سمجھنے لگتا ہے تو اس وجہ سے باشعور فرد بھی دلی سکون پاتا ہے۔ اور اس باشعور سے زیادہ خوشحال وہ طبقہ خود ہوتا ہے کیونکہ ان تک شعور روشنی کی صورت میں ایک فرد کے وسیلے سے پہنچ جاتا ہے اور یوں شعور کی روشنی کا الہام معاشرے میں ہونا شروع ہوتا ہے جس کے نتیجے میں معاشرے میں جنت کا ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔

ایک بات خاص طور پر ذہن نشیں کرنا ہو گی کہ معاشرے کا ہر فرد یہ جانتا ہے کہ وہ جانتا ہے مگر اس جاننے کو شعور کی منزل پر لے جانے کی خواہش کرے یا نہ کرے اس کا اختیار ہر فرد خود رکھتا ہے۔ اور ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم معاشرے کے ہر فرد پر یہ راز کھولیں کہ اس کے لیے اپنے جاننے کو شعور کی حد تک لے جانے کی تمنا و کوشش کس قدر ضروری ہے۔ اور شعور کو پا لینا صرف اس وقت ہی ممکن ہے جب ہم اس کے لیے فکر مند ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *