یوول نوح حراری اور ماحولیاتی چیلنج
انسانیت کو آنے والی دہائی میں ایٹمی جنگ سے زیادہ ایک نئے خطرے کا سامنا ہے، جو شاید 1964ء تک سیاسی راڈار پر درج نہیں تھا اور اس خطرے کا نام ہے ماحولیاتی تباہی۔ انسان متعدد انداز میں عالمی حیاتیات کو غیر مستحکم کر رہا ہے۔ ہم ماحول سے زیادہ سے زیادہ وسائل لے رہے ہیں، جبکہ اس میں بے تحاشا مقدار میں گندگی اور زہر کو خارج کر رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے مٹی، پانی اور فضاء کی ہیت میں تبدیلی آ رہی ہے۔
ہم ہزارہا سال سے تشکیل پانے والے نازک ماحولیاتی توازن کو خراب کرنے کے متعدد طریقوں سے شاید ہی واقف ہوں گے۔ مثال کے طور پر کھاد کے طور پر فاسفورس کے استعمال پر غور کریں، اس کا کم مقدار میں استعمال پودوں کی نشوونما کے لیے ضروری ہے۔ لیکن اس کا ضرورت سے زیادہ مقدار میں استعمال اسے زہریلا بنا دیتا ہے۔ جبکہ جدید کاشتکاری کافی مقدار میں کھیتوں کو مصنوعی طور پر کھاد دینے پر مبنی ہے۔ لیکن فاسفورس کی یہ کثیر مقدار ندیوں، جھیلوں اور سمندروں کو زہریلا کر دیتی ہے۔ جس سے سمندری زندگی پر تباہ کن اثرات پڑتے ہیں۔ یعنی آئیووا (خلیج میکسکو کے قریب ایک جگہ کا نام ہے) میں مکئی کی کاشت کرنے والا ایک کسان نادانستہ طور پر خلیج میکسیکو میں مچھلیوں کو مار سکتا ہے۔
اس طرح کی سرگرمیوں کے نتیجے میں رہن سہن زوال پذیر ہو جاتا ہے اور جانور اور پودے ناپید ہو جاتے ہیں۔ اگر یونہی چلتا رہا تو آسٹریلیا کی گریٹ بریر ایف اور ایمازون بارشوں جیسے پورے ماحولیاتی نظام کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔ ہزاروں سالوں سے ہومو سیپیئنز سیریل قاتل کی طرح برتاؤ کرتے آرہے ہیں۔ اب یہ سب ایک ماحولیاتی قاتل کی شکل میں ڈھل رہا ہے۔ اگر ہم اپنے موجودہ طرز عمل کو جاری رکھیں تو اس سے نہ صرف زندگی کی تمام شکلوں کا ایک بڑا حصہ ختم ہو جائے گا بلکہ یہ انسانی تہذیب کی بنیادوں کو بھی ختم کر سکتا ہے۔
سب سے خطرناک چیز آب و ہوا کی تبدیلی کا امکان ہے۔ انسان اس کرۂ ارض پر سینکڑوں ہزاروں سالوں سے موجود ہے اور متعدد برفانی ادوار اور گرم ماحول سے محفوظ رہا ہے۔ تاہم زراعت، شہر اور پیچیدہ معاشرے دس ہزار سال سے بھی زائد عرصے سے موجود ہیں۔ اس عرصے کے دوران (جسے ہولوسن کہا جاتا ہے ) زمین کی آب و ہوا نسبتاً مستحکم رہی ہے۔ ہولوسن معیارات سے کسی بھی قسم کے انحراف کی صورت میں انسانی معاشروں کو بہت سارے ایسے چیلنجوں کا سامنا ہو گا، جن کا پہلے کبھی سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔ یہ سب ایسا ہی ہو گا جیسا کہ اربوں انسانوں پر تجربہ کرنا۔ حتیٰ کہ بالآخر انسانی تہذیب نئے حالات کے مطابق ڈھل جائے گی، لیکن کون جانتا ہے کہ موافقت کے اس سارے عمل میں کتنے متاثرین ہلاک ہو سکتے ہیں۔
یہ خوفناک تجربہ پہلے ہی حرکت میں لایا گیا ہے۔ جوہری جنگ کے برخلاف (جو مستقبل کی صلاحیت ہے ) آب و ہوا میں بدلاؤ ایک موجودہ حقیقت ہے۔ یہاں ایک سائنسی اتفاق رائے ہے کہ انسانی سرگرمیاں، خاص طور پر گرین ہاؤس گیسوں جیسے کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج، زمین کی آب و ہوا کو خوفناک شرح سے تبدیل کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ کسی کو قطعی طور پر معلوم نہیں ہے کہ ہم کاربن ڈائی آکسائیڈ کو فضاء میں پمپ کرنے سے کس قدر ناقابل تلافی تباہی پھیلا رہے ہیں۔
لیکن ہمارے بہترین سائنسی تخمینے بتاتے ہیں کہ جب تک ہم اگلے بیس سالوں میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو ڈرامائی طور پر کم نہیں کرتے ہیں تو اوسط عالمی درجہ حرارت 2 سینٹی گریڈ سے زیادہ بڑھ جائے گا، صحراؤں میں توسیع، برف کی چوٹیوں کا غائب ہونا، سطح سمندر کا اونچا ہونا اور سمندری طوفانوں میں شدت جیسے موسمی واقعات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان تبدیلیوں سے زرعی پیداوار میں خلل پڑ جائے گا، شہر ڈوب جائیں گے، دنیا کا بیشتر حصہ غیر آباد ہو جائے گا اور لاکھوں مہاجرین نئے گھروں کی تلاش میں نکلیں گے۔
مزید یہ کہ ہم تیزی سے خطرناک مقام تک پہنچ رہے ہیں۔ جس کے بعد گرین ہاؤس گیس کے اخراج میں ڈرامائی کمی بھی ان بھیانک اثرات کو کم کرنے اور دنیا بھر کو سانحے سے بچانے کے لئے کافی نہیں ہو گی۔ مثال کے طور پر جیسے جیسے گلوبل وارمنگ قطبی برف کی چادروں کو پگھلا دیتی ہے، تو سورج کی روشنی کی کم سے کم مقدار زمین سے واپس خلاء میں جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کرۂ ارض زیادہ گرمی کو جذب کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے درجہ حرارت مزید بڑھ جاتا ہے اور برف تیزی سے پگھل جاتی ہے۔
ایک بار جب ایک خاص خطرناک حد کو عبور کر لیا تو نقصان کی بحالی کے امکانات ختم ہو جائیں گے۔ اس خطرناک سٹیج پہ پہنچ کر اگر ہم انسان کوئلہ، تیل اور گیس کو جلانا چھوڑ بھی دیں تو تب بھی قطبی خطوں کی تمام برف پگھل جائے گی۔ لہٰذا محض اتنا کافی نہیں ہے کہ ہمیں خطرے کے بارے میں علم ہو، بلکہ سب سے ضروری یہ ہے کہ ہم واقعتاً اس کے بارے میں اب فیصلہ کن اقدامات اٹھائیں۔
بد قسمتی سے 2018 تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کے بجائے عالمی اخراج کی شرح اب بھی بڑھ رہی ہے۔ انسانیت کے پاس خود کو فوسل ایندھن کو کم کرنے کے لیے بہت کم وقت باقی رہ گیا ہے۔ ہمیں آج ہی بحالی کی طرف بڑھنا ہو گا۔ ہمارے پاس اگلے سال یا اگلے مہینے تک کا وقت نہیں ہے بلکہ یہ کام آج ہی کرنا ہو گا۔
اس خطرناک منظرنامے میں قوم پرستی کہاں فٹ بیٹھتی ہے؟ کیا قوم پرستی کسی بھی طرح ماحولیاتی تباہی کا جواب ہو سکتی ہے؟ کوئی بھی ایک قوم (چاہے وہ جتنی مرضی طاقتور ہو) کیا اکیلی گلوبل وارمنگ کو روک سکتی ہے؟ ہر ملک انفرادی طور پر مختلف النوع کی گرین پالیسیاں بنا سکتا ہے جن میں سے اکثر ماحولیات کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ معاشی طور پر کارگر ثابت ہوں گی۔ حکومتیں ان تمام تر مشینوں پر ٹیکس لگا سکتی ہیں جو کاربن خارج کرتی ہیں۔
درآمد شدہ تیل اور گیس کی قیمت میں اضافہ کر سکتی ہے، ماحولیات سے متعلق اچھے قواعد و ضوابط بنا سکتی ہیں، آلودگی پھیلانے والی صنعتوں کی سبسڈی میں کٹوتی کر کے قابل تجدید توانائی میں رغبت پیدا کر سکتی ہیں۔ وہ اس طرح کی ماحول دوست ٹیکنالوجی کی تحقیق اور نشوونما کرنے میں زیادہ سے زیادہ رقم خرچ کر سکتی ہے۔ داخلی دہن کے انجن کو پچھلے 150 سالوں کی بہت ساری پیش رفتوں کا شکریہ ادا کرنا ہے، لیکن اگر ہم مستحکم جسمانی اور معاشی ماحول کو برقرار رکھنا ہے تو اسے اب لازمی طور پر ریٹائر ہونا پڑ ے گا اور اس کا متبادل ایسی ٹیکنالوجی ہونی چاہیے جو ایندھن کا استعمال نہیں کرتی ہو۔
اس طرز پر کی گئی تکنیکی کامیابیاں توانائی کے علاوہ بہت سارے دوسرے شعبوں میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر، ”صاف گوشت“ تیار کرنے پر غور کریں۔ اس وقت گوشت کی صنعت نہ صرف اربوں مخلوقات کو بے بنیاد مصیبتیں پہنچا رہی ہے بلکہ گلوبل وارمنگ کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ یہ اینٹی بائیوٹیکس اور زہر کے اہم صارفین میں سے ایک ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ہوا، زمین اور نمایاں آلودگیوں میں سے ایک ہے۔ مکینکل انجنئیرز کے ادارے کی 2013 کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک کلوگرام گائے کا گوشت تیار کرنے میں تقریباً 15 ہزار لیٹر میٹھے پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جبکہ ایک آلو کو پیدا کرنے کے لیے صرف 287 لیٹر پانی درکار ہوتا ہے۔
ماحولیات پر دباؤ مزید خراب ہونے کا امکان ہے کیونکہ چین اور برازیل جیسے ممالک میں بڑھتی ہوئی خوشحالی سے لاکھوں اضافی افراد مستقل بنیادوں پر گائے کے گوشت کو آلو کھانے سے بدل رہے ہیں۔ اس لیے چینیوں اور برازیل کے لوگوں کو راضی کرنا ضروری ہے ( امریکیوں اور جرمن اقوام کا تو تذکرہ ہی نہیں ) کہ وہ ہیم برگر اور سوسچ کھانا چھوڑ دیں۔ لیکن اگر انجینئر خلیوں کی مدد سے گوشت اگانے کا طریقہ تلاش کر لیتے ہیں تو کیا ہو گا؟ یعنی اگر ہم ہیم برگر کھانا چاہتے ہیں تو اسے کاشت کر لیں بجائے کہ آپ ایک پوری گائے کی پرورش کریں اور پھر اسے ذبح کریں۔
لہٰذا بہت ساری چیزیں ہیں جو حکومتیں، کارپویشنز اور افراد مل کر ماحولیاتی تبدیلی روکنے کے لیے کر سکتے ہیں۔ جب بات آب و ہوا کی ہوا تو ممالک خودمختار نہیں ہوتے ہیں۔ بلکہ وہ دوسرے طرف کے لوگوں کی طرف سے کیے گئے اقدامات کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ جمہوریہ کیرئیبائی (بحرالکاہل کے جزیرے میں آباد قوم) اپنی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کر کے صفر تک لے جا سکتی ہے لیکن اگر دوسرے ممالک ایسا نہیں کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں وہ بھی بڑھتی ہوئی لہروں کے نیچے ڈوب جائیں گے۔
چاڈ ملک کی ہر چھت پر سولر پینل لگا سکتا ہے، لیکن پھر بھی دوسرے لوگوں کی غیر ذمہ دارانہ ماحولیاتی پالیسیوں کی وجہ سے ملک بنجر صحرا بن جائے گا۔ حتیٰ کہ چین اور جاپان جیسی قومیں بھی ماحولیاتی طور پر خود مختار نہیں ہیں۔ شنگھائی، ہانگ کانگ اور ٹوکیو کو تباہ کن سیلاب اور طوفان سے بچانے کے لیے چینی اور جاپانی اقوام کو روسی اور امریکی حکومتوں کو راضی کرنا ہوگا کہ اپنے ”معمول کے مطابق“ کے نقطۂ نظر کو ترک کر دیں۔
قوم پرست تنہائی آب و ہوا کی تبدیلی کے مناظر میں شاید جوہری جنگ سے بھی کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ ایک جوہری جنگ تمام ممالک کو تباہ کرنے کا خطرہ لیے ہوتی ہے، لہٰذا اس کی روک تھام میں سبھی اقوام کا برابر کا حصہ ہے۔ اس کے برعکس، گلوبل وارمنگ کا شاید مختلف ممالک پر مختلف اثر پڑے گا۔ کچھ ممالک (خاص طور پر روس) ممکنہ طور پر اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
روس کے نسبتاً کم ساحلی پٹی کے اثاثے ہیں ، اس لیے وہ چین اور کریبائی کی نسبت بلند ہوتے ہوئے سمندری لیول سے کم پریشان ہے۔ اس کے علاوہ جیسے جیسے شمال میں برف پگھل رہی ہے اس کی وجہ سے روسی حکومت کے پاس آرکٹک کا جو حصہ ہے وہ عالمی تجارت کی مرکزی جگہ بن جائے گا اور کامچٹکا سنگاپور کو دنیا کے سنگم کے طور پر تبدیل کر سکتا ہے۔
اسی طرح فوسل ایندھنوں کی جگہ قابل تجدید توانائی کے ذرائع سے تبدیل کرنا کچھ ممالک کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ اپیل کر سکتا ہے۔ چین، جاپان اور جنوبی کوریا بھاری مقدار میں تیل اور گیس کی درآمد پر انحصار کرتے ہیں۔ وہ اس بوجھ سے آزاد ہو کر خوش ہوں گے۔ اس کے برعکس روس، ایران اور سعودی عرب کا انحصار تیل اور گیس کی برآمد پر ہے اس لیے اگر تیل اور گیس کی جگہ اچانک شمسی توانائی اور ہوا کا استعمال ہونے لگا تو ان کی معیشتیں منہدم ہو جائیں گی۔
اس لیے جب چین، جاپان اور کیریبائی جیسی کچھ قومیں جلد از جلد عالمی کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے سختی سے دباؤ ڈالیں گے تو روس اور ایران جیسی دوسری قومیں اس سے کہیں کم پرجوش ہوں گی۔ ایسے تمام ممالک جنہیں گلوبل وارمنگ سے بہت زیادہ نقصان ہونے والا ہے (جیسا کہ امریکہ) وہ قوم پرست بھی اس خطرے کو بہت کم اہمیت دیں گے۔ اس سلسلے میں جنوری 2018 کی ایک انتہائی چھوٹی سی مثال دی جا سکتی ہے۔ جب امریکہ نے غیر ملکی ساخت کے شمسی پینل اور شمسی آلات پر 30 فیصد ٹیکس لگایا تھا۔ ایسا اس لیے کیا گیا تاکہ امریکی شمسی توانائی تیار کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہو سکے، حالانکہ ایسا ٹیکنالوجی کی تجدید کو روکنے کی قیمت کیا گیا۔
ایٹم بم اتنا واضح اور فوری خطرہ ہے کہ کوئی بھی اسے نظر انداز نہیں کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس، گلوبل وارمنگ ایک زیادہ مبہم اور طویل خطرہ ہے۔ لہٰذا جب کوئی بھی ماحولیاتی تحفظات طویل المیعاد قربانی کا مطالبہ کرتے ہیں تو قوم پرستوں کو فوری طور پر قومی مفادات کو اولین ترجیح دینے کا لالچ دیا جا سکتا ہے اور اس بات کی یقین دہائی کروائی جاتی ہے کہ ماحولیات کے خطرہ کو بعد میں دیکھا جا سکتا ہے یا پھر اس کو دوسرے ممالک کے لیے چھوڑا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس وہ متبادل کے طور پر صرف حقیقت کا انکار کر سکتے ہیں۔


