ڈاکٹر رشید امجد: اردو دنیا کا روشن چہرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابھی ابھی فیس بک سے یہ خبر ملی کہ ڈاکٹر رشید امجد نہیں رہے۔ وہ ایک عظیم افسانہ نگار تو تھے ہی ، ایک عظیم شخصیت کے مالک بھی تھے۔ اردو دنیا کے بہت سے نام نہاد نام وروں کے برعکس وہ حقیقی معنوں میں اردو دنیا کے قدآور انسان تھے۔ ان کی شفقت اور عنایات سب کے لئے یکساں تھیں۔ آج سے تیرہ چودہ برس قبل جب میرا پی ایچ ڈی کا مقالہ اپنے اختتامی مراحل میں تھا اور مجھے زبانی امتحان کے لیے ایچ ای سی کے منظور شدہ تحقیقی جریدے میں اپنا مضمون شائع کرانا تھا۔

میں نے ڈاکٹر رشید امجد صاحب سے مؤدبانہ درخواست کی کہ وہ نمل کے تحقیقی جریدے میں میرا مضمون شائع کر دیں کہ مجھے اس کی اشد ضرورت ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے کمال شفقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجھے مضمون ای میل کرنے کی ہدایت کی اور ”تخلیقی ادب“ کی آئندہ اشاعت میں میرا مضمون شائع کر کے پی ایچ ڈی کی ڈگری کے حصول کے مراحل کو آسان کر دیا۔ میرے دل سے اس عظیم انسان کے لئے ڈھیروں دعائیں نکلیں جس نے مجھ جیسی جونیئر لیکچرر کا مقالہ بغیر کسی سفارش اور بنا کسی دقت کے اپنے تحقیقی جریدے میں شائع کیا۔

اس کے بعد تو ”دریافت“ اور ”تخلیقی ادب“ میں میرے مضمون تواتر کے ساتھ چھپنے لگے۔ میں جب بھی ڈاکٹر رشید امجد صاحب کی احسان مند ہوتی کہ وہ مجھ ناچیز کے مقالوں کو اپنے تحقیقی جریدوں میں جگہ دیتے ہیں، وہ ہمیشہ یہ کہہ کر میری حوصلہ افزائی کرتے ”رابعہ آپ لکھتی ہی اتنا اچھا ہیں تو آپ کے مقالے کیوں شائع نہیں ہوں گے“ مگر میں یہ بات بخوبی جانتی تھی کہ ضروری تو نہیں ہر اچھا لکھنے والے کے مقالے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے منظور شدہ تحقیقی جرائد میں شائع بھی ہوں۔

ڈاکٹر رشید امجد صاحب نمل یونیورسٹی سے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد گئے تو ”معیار“ میں تحقیقی مضمون شامل کرنے کے لئے مجھے خود فون کیا کہ میرے جریدے کے لئے ایک اچھا سا مضمون لکھ بھیجو۔ میں ہمیشہ کہتی تھی سر! آپ کی حوصلہ افزائی میرے لیے قدرت کا بڑا تحفہ ہے۔ اتنا مثبت اور بے لوث استاد اردو دنیا میں شاید ہی کہیں ملے۔ ”تحقیقی زاویے“ کا آغاز کیا تو میرے مضامین اس میں بھی تواتر کے ساتھ شائع کرتے رہے۔

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے بورڈ آف سٹڈیز کے ممبر بھی رہے۔ کبھی کبھار زبانی امتحانات کے سلسلے میں بھی ہمارے شعبے میں تشریف لاتے تھے۔ کچھ عرصہ قبل گفتگو ہوئی تو فرمانے لگے میری شاگرد ڈاکٹر ورک فرحت مجھے فاطمہ جناح یونیورسٹی لے گئی ہیں ، اب ہم وہاں سے ایک تحقیقی جریدہ نکالیں گے پھر آپ اس کے لیے اپنا مضمون بھجوانا۔ بڑا افسانہ نگار اور بڑا نقاد ہونا ایک طرف ، ایسی روشن اور عظیم شخصیت کا مالک ہونا کسی کسی کے حصے میں ہی آتا ہے۔

روشن لفظوں کا مالک اتنا سچا کھرا اور حقیقی انسان کہیں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گا۔ آج کی اس بناوٹی دنیا میں جہاں ہم شفقت بھری حقیقی رہنمائی کو ترستے ہیں ، وہاں رشید امجد صاحب کی جگہ کوئی دوسرا کبھی نہ لے سکے گا۔ وہ اپنی حقیقی منزل کی طرف روانہ ہوئے مگر ہمارے دل و دماغ میں اپنی یادوں کے ایسے چراغ روشن کر گئے جن کی لو کبھی ماند نہیں پڑ سکتی۔

اللہ کریم ان کے درجات بلند فرمائے اور اردو دنیا کو اس عظیم نقصان کو برداشت کرنے کی ہمت عطا کرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply