میں عورت مارچ کے خلاف کیوں ہوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

2018ء میں، میں عام خواتین اور خصوصی خواتین کے حقوق پر باقاعدگی سے لکھنے کے لئے تیاری کر رہا تھا۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور انڈیا میں خواتین کے حقوق کے لئے چلنے والی تحریکوں کا جائزہ لیا۔

ابھی ناچیز نے انسانی تاریخ کی با اثر ترین خواتین کی آپ بیتیوں کا مطالعہ شروع کیا ہی تھا کہ اچانک 2018ء میں عورت مارچ کی تحریک نے زور پکڑنا شروع کر دیا۔ خواتین کے حقوق کے لئے آواز اٹھانے والی خواتین اور پلے کارڈز پر موجود نعروں کو دیکھتے ہی ناچیز نے چپ سادھ لی۔

ہر سال مارچ کے مہینے میں بہت سے دوست عورت مادچ کے حق میں کالمز اور بلاگز لکھتے ہیں، ناچیز کو ٹیگ بھی کرتے ہیں۔ بیشتر کی رائے سے اختلاف کے باوجود ناچیز کسی کو جواب نہیں دیتا۔

عورت مارچ پر خاموشی اختیار کرنے کے باوجود ناچیز نے خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنا نہیں چھوڑا۔ آج سے چند برس قبل خصوصی خواتین میں لوگ صرف منیبہ مزاری کو جانتے تھے اور انہیں ہی خصوصی خواتین کی آواز سمجھتے تھے۔ ناچیز نے ملک کے کونے کونے سے خصوصی خواتین کو تلاش کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔ خصوصی خواتین کے مسائل کے حل کے لئے کالمز اور انٹرویوز کا باقاعدہ سلسلہ شروع کیا۔ 2019ء میں ناچیز کے پچاس سے زائد انٹرویوز اور کالمز مختلف ویب سائٹس شائع کر چکی ہیں۔

میری تحریروں میں خواتین باہم معذوری، نابینا خواتین اور ٹرانس جینڈرز کے مسائل غالب رہے۔ ان تحریروں میں معاشرتی رویوں، رسائی، حکومتی پالیسیوں سے لے کر شادی جیسے مشکل موضوعات پر بات کرنے کی کوشش کی گئی۔ مجھ ناچیز کی کاوشوں سے ملک میں خصوصی افراد کے مسائل پر نئی بحث چھڑ چکی ہے۔ بہت سے نوجوان لیڈرز کو سامنے آنے کا موقع ملا ہے۔

میں انسانی معاشرے کو تین گروپوں میں تقسیم کر کے دیکھتا ہوں۔ پہلا گروپ کم پڑھے لکھے اور غیر تعلیم یافتہ افراد کا ہے۔ اس گروپ میں چھوٹے کاروبار، محنت مزدوری اور چھوٹی موٹی نوکریاں کرنے والے لوگ آتے ہیں۔ دوسرا گروپ پڑھے لکھے درمیانے درجے کے افراد کا ہے۔ جبکہ تیسرا گروپ ان افراد کا ہے جو اپنی محنت کے بل بوتے پر اعلیٰ مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

پہلا اور دوسرا گروپ بنیادی ضروریات زندگی کی تگ و دو میں ہی لگا رہتا ہے۔ ان میں مکان کے کرائے، بجلی کے بل، بچوں کی فیسیں وغیرہ شامل ہوتی ہیں۔ ہمارا تیسرا گروپ ذہین لوگوں کا ہے جو اچھی نوکریوں اور کاوبار کے ساتھ بہترین زندگی گزارتے ہیں۔

سازشی تھیوریز کے ذریعے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے والے لوگ اور ایجنسیاں کبھی ہمارے پہلے اور دوسرے گروپ کے پاس نہیں جاتیں۔ کیونکہ ان لوگوں کے لئے ان کی ذات اور خاندان زیادہ اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ یہ ایسی بات پر ہی کان دھرتے ہیں جن سے براہ راست انہیں فائدہ پہنچ رہا ہو۔ ہوائی باتیں ان کے لیے اہمیت نہیں رکھتیں۔

سازشی نظریات کی تکمیل کے لئے معاشرے کے سب سے پسے ہوئے یا سب سے زیادہ خوشحال طبقے کو استعمال کیا جاتا ہے۔ پسے ہوئے طبقے سے دہشت گرد گروپس تشکیل دیے جاتے ہیں جبکہ خوشحال طبقے سے ملک کی سیاست اور معاشرے پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ آج دنیا کی سیاست پر جتنے نالائق اور نا اہل لوگ نظر آ رہے ہیں انہیں کامیاب کرانے میں ہمارے تیسرے گروپ کا ہاتھ سب سے زیادہ ہے۔

دنیا کے تمام بڑے ممالک میں خواتین کے حقوق کی تحریک بنیادی انسانی حقوق کے مطالبے سے شروع ہوئی۔ دوسرے مرحلے میں خواتین نے معاشی اور معاشرتی حقوق کے لئے جنگ لڑی۔ جبکہ اس کا تیسرا فیز مکمل آزادی کا ہے۔

ہمارے ملک کی خواتین گھریلو تشدد، تیزاب گردی، جہیز کی لعنت وغیرہ کا بہادری سے مقابلہ کر کے ”فرسٹ ویو فیمنزم“ سے ”سیکنڈ ویو فیمنزم“ میں داخل ہو رہی تھیں۔ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں خواتین کی تعداد مردوں سے بڑھنا شروع ہو رہی تھی۔ کاروبار اور دفاتر میں بھی خواتین کی معمولی سی تعداد نظر آنا شروع ہو گئی تھی۔ ہمیں امید تھی 2025ء سے پہلے ہمارے ملک میں خواتین کے حقوق کے لئے چلنے والی تحریک ”سیکنڈ ویو فیمنزم“ میں داخل ہو جائے گی۔

پھر اچانک 2018ء میں چند خواتین ”پوسٹ فیمنزم“ مطالبات کے ساتھ نمودار ہوئیں۔ ہمارے تیسرے گروپ اور میڈیا نے انہیں بھرپور سپورٹ کیا اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی کہ پاکستان کی خواتین کے مسائل ”سیکنڈ ویو فیمنزم“ نہیں بلکہ پوسٹ فیمنزم ہیں۔

میری رائے میں جب تک وطن عزیز کی دس کروڑ سے زائد خواتین اور تین کروڑ سے زائد خصوصی افراد کو ان کے جائز انسانی حقوق نہیں دیے جائیں گے ، اس وقت تک پاکستان ترقی نہیں کرے گا۔ حقیقی متوازن معاشرہ سب کو ساتھ لے کر چلنے سے ہی تشکیل دیا جاسکتا ہے۔

عورت مارچ نے پاکستان میں چلنے والی خواتین کے حقوق کی تحریک کو جتنا نقصان پہنچایا ہے ، اتنا شاید ہی کسی اور چیز نے پہنچایا ہو۔ خواتین کی اکثریت عورت مارچ کے مطالبات کے خلاف ہے۔ پلے کارڈز پر لکھے نعروں کو ایک مخصوص طبقے کی ذاتی خواہشات سمجھتی ہیں۔

اس وقت پاکستان میں خواتین کے حقوق کے لئے چلنے والی خاموش حقیقی تحریک اور عورت مارچ کے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ہماری فیمنزم موومنٹ ”سیکنڈ ویو“ میں داخل نہیں ہو پا رہی۔

خواتین کے حقوق کی تاریخ کے مطالعے سے ناچیز اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ انسانی معاشرہ امن کے دنوں میں کمزور کے جائز مطالبات کو بھی تسلیم نہیں کرتا۔ جبکہ جنگ اور بحران کے دنوں میں ناجائز مطالبات بھی تسلیم کر لیتا ہے۔ اس وقت ملک کو معاشی بحران کا سامنا ہے۔ سرکاری ملازمیں سے لے کر کسان تک آئے روز اسلام آباد میں دھرنا دیے بیٹھے نظر آتے ہیں۔ بحران کے دنوں کی یہ خاصیت ہوتی ہے کہ اس سے ہر شخص متاثر ہوتا ہے۔ اس لیے ان دنوں میں ہر شخص کو دوسرے کے مسائل، مسائل نظر آ رہے ہوتے ہیں۔ اگر ان دنوں خواتین بھی اپنے جائز معاشی اور معاشرتی حقوق کے لیے آواز بلند کرتی ہیں تو دباؤ کی شکار حکومت اور مشکلات کا شکار معاشرہ مطالبات کو تسلیم کرنے میں دیر نہیں لگائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply