پرویز رشید اور دور جاہلیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ غیر جانبداری سے اپنے معاشرے اور عرب کے اس قدیم معاشرے کا موازنہ کریں جسے ہم ”دور جاہلیت“ کہتے ہیں تو ان کا معاشرہ ”دشمنی“ اور ”پیشے سے کمٹمنٹ“ کے حوالوں سے بہتر نظر آتا ہے۔ وہ لوگ اپنے جانی دشمن تک کی خوبیوں کا انکار کرتے تھے اور نہ ہی اپنی ذاتی وابستگی، لالچ یا خوف کی وجہ سے اپنے پیشے سے غداری کرتے تھے۔ بات کو سمجھنے کے لیے صرف دو مثالیں عرض کیے دیتا ہوں۔

پہلی مثال:کافر آپ کے جانی دشمن تھے لیکن اس دشمنی میں بھی انہوں نے آپ ﷺ کی صداقت اور امانت کا انکار کیا نہ ہی آپ ﷺ پر خیانت کا الزام لگایا تھا۔

وہ آپ ﷺ کے قتل کے منصوبے بنا رہے تھے لیکن ہجرت کی رات بھی ان کی کئی امانتیں آپﷺ کے پاس موجود تھیں۔ یہ بات جہاں ایک طرف آپ ﷺ کے اعلیٰ کردار کی گواہی دیتی ہے وہیں دوسری طرف اس چیز کا علم بھی دیتی ہے کہ کفار بے شک آپ کو قتل کرنا چاہتے تھے لیکن اس جانی دشمنی میں بھی انہوں نے آپ کی صفات کا انکار نہیں کیا تھا۔

دوسری مثال:مدینہ منورہ جانے کے لیے آپ ﷺ نے ایک کافر کی خدمات حاصل کی تھیں۔ اس کافر کو آپ ﷺ کے پورے شیڈول کا علم تھا جبکہ راستے کا انتخاب کلی طور پر اس کی صوابدید تھی کیونکہ اسے انہی خدمات کے لیے ہائر کیا گیا تھا کہ محفوظ روٹ سے مدینے تک پہنچانا ہے۔

گائیڈنگ اس کافر کا پیشہ تھا اور اسی کافر کے پیٹی بھائی نبی کریم ﷺ کو مارنے کے لیے آپ ﷺ کے مکان کا گھیرا ڈال چکے تھے۔ لیکن آپ اس کافر کی اپنے پیشے سے کمٹمنٹ دیکھیے کہ اس نے دشمنی میں بھی اپنے پیشے سے بے وفائی نہیں کی۔ اس کے علاوہ بھی عرب معاشرہ کئی مثالوں سے بھرا پڑا ہے۔

یہ دو مثالیں اس لیے ذکر کیں تاکہ معلوم ہو کہ جس معاشرے کو ہم دور جاہلیت کہتے ہیں وہاں کے لوگوں میں بھی یہ خصوصیات پائی جاتی تھیں کہ وہ جانی دشمن تک کی اعلیٰ صفات کا انکار کرتے نہ ہی دشمنی میں اپنے پیشے سے بے وفائی کرتے اور نہ ہی کسی دوست کی ادنیٰ صفات سے صرف نظر کرتے تھے۔

لیکن افسوس کہ ہمارا معاشرہ ان حوالوں سے تہی دامن ہو چکا۔ یہاں نظریے کا تعلق صحیح اور غلط کی بجائے اپنے مفادات سے جڑا ہے۔ کافروں نے نبی کریم ﷺ کو پکڑنے یا مخبری کرنے پر کئی سو اونٹوں کا اعلان کر رکھا تھا جبکہ گائیڈنگ کرنے والے کو آپ ﷺ کی طرف سے دیا جانے والا معاوضہ بہت کم تھا لیکن اس نے اپنی ذاتی وابستگی، پیٹی بھائیوں کی تھانیداری یا پیسے کی خاطر اپنے پیشے سے غداری نہیں کی بلکہ اپنی ذمہ داری کو احسن طور پر نبھایا۔

لیکن آج ہم یہ نہیں دیکھتے کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا بلکہ اس کی بجائے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہماری پارٹی کا موقف کیا ہے یا ہمارا فائدہ کس میں ہے۔ ہم اس معاشرے سے بھی گر چکے ہیں جسے ہم نفرت سے ”دور جاہلیت“ کہتے ہیں۔

پرویز رشید والا واقعہ ہمارے اس رویے کی صرف دلیل ہے۔ بندہ ہماری مخالف صف میں ہو تو وہ پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو یا بے رحم قاتل ہوتا ہے لیکن جونہی وہ ہماری صفوں میں آ جائے تو وہ سپیکر یا نفیس ترین انسان بن جاتا ہے۔ پرویز رشید دنیا جہان کی تمام برائیوں کی آماجگاہ ہے لیکن اگر آج ہی وہ ہماری صفوں میں شامل ہو جائے تو ہم اس میں وہ تمام خوبیاں انجیکٹ کر دیں گے جو آج تک دریافت ہو چکی ہیں۔

آخر میں اپنی ایک تازہ غزل پرویز رشید کے نام کہ ان جیسے لوگ ہمارے سیاسی گناہوں کا کفارہ ہیں۔

نبھانی پڑے گی یہ رسم وفا ہے
ہے اعزاز گر اس پہ ہوتی سزا ہے
سیاست کے گلشن میں چھا جاتی راتیں
ترے دم سے باقی ابھی تک ضیاء ہے
بوقت ستم تو نے آہیں بھری تھیں
مسیحا مرا مجھ سے اب تک خفا ہے
اشارے پہ حاکم کے دل کی دبا کر
حکم والا بننے لگا اب خدا ہے
ضمیروں کے تاجر مخالف ہیں تیرے
کہ جھوٹوں کو چبھتی ہی سچی صدا ہے
وہ راضی تو قاتل کو قاضی بنا دے
مرے چارہ گر کی عجب یہ ادا ہے
کہا شاہ نے سچ کو پھانسی لگا دو
حواری یہ بولے بجا ہے بجا ہے
عدالت کہاں کی شہادت کہاں کی
ہے مجرم وہی جس پہ آقا خفا ہے
ثمر بھی دیا اور پتھر بھی جھیلے
مگر سنگ دل تجھ سے اب بھی خفا ہے
ہوائیں رکاوٹ بنیں جس کسی کی
پرندہ وہی سب سے اونچا اڑا ہے
یہ دستور ہے میرے محسن کا کوثر
سدا اس نے محرم کو مجرم لکھا ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply