نام میں کیا رکھا ہے؟

”مشخافتلہ نارتین“
ہیں جی؟
ہم شش و پنج میں پڑ گئے کہ اگر نام دہرائیں تو کیا عین مین تلفظ اسی طرح ادا کر بھی پائیں گے یا نہیں۔ اور اگر اس کوشش میں یہ نام غلطی سے کسی ’لفظ معترضہ‘ میں تبدیل ہو گیا تو ہماری تو خیر ہے لیکن بچی کی والدہ کی خواہ مخواہ سبکی سی ہو جائے گی۔
ہمت کر کے صرف اتنا پوچھ پائے کہ اس کا معنی کیا ہوتا ہے؟
”جنت میں زمرد کے پائیں باغ کے پچھواڑے کی دیوار جو عنبر و مشک کی بنی ہے۔ اس میں ایک“ شیلف ”(طاق) ہے۔ اس میں جو چراغ رکھا ہوا ہے اسے“ مشخافتلہ ”کہتے ہیں۔
جبکہ اس چراغ کی دو شاخہ آتشیں لو کو کہتے ہیں ”نارتین“ ! ”
اچھھھھا جی!
ہمممممممممم۔
ہم لاجواب سے ہو گئے۔ اور اپنی کم مائیگی اور کم علمی پر کف افسوس مل رہے تھے کہ ہمیں خاموش دیکھ کر خاتون اپنی ہی تائید میں بولیں:
”کیوں جی! کیسا زبردست نام ہے ناں؟
آج کل عام نام رکھنے کا ”ٹرینڈ“ ختم ہو گیا ہے۔ بچوں کا نام کوئی ”یونیک“ ہونا چاہیے۔ ”
(حالانکہ یونیک ایک موٹر سائیکل کا نام ہے )
یہ صرف ان مذکورہ خاتون کی بات نہیں بلکہ آج کل ہر زید بکر کا قصہ ہے۔ لایعنی، دقیق اور بے ڈھنگے نام رکھنے کے ایسے عجیب خبط میں لوگ مبتلا ہوئے ہیں کہ خدا کی پناہ۔
کچھ عرصہ قبل جب حرکات و سکنات، طرز گفتار، اٹک مٹک، پہناوں اور چلنے پھرنے کے انداز سے عورت و مرد کے مابین فرق کرنا مشکل ہو گیا تو فقط نام ہی ایک مہذب ذریعۂ تمیز رہ گیا تھا۔ افسوس اب ان آنٹیوں نے وہ بھی ختم کر ڈالا۔
نئی نسل کے لڑکے لڑکیوں کے ناموں میں کچھ ایسا بگاڑ ڈالا کہ معلوم ہی نہیں پڑتا کہ موصوف ہیں یا موصوفہ۔
یہاں راولپنڈی سکستھ روڈ پر ایک عمارت پر نظر پڑی تو جگمگاتے حروف میں لکھا دیکھا
”عشاحزة“ ۔
خوب سوچا کیے کہ کیا معنی ہو سکتا ہے۔ گھر آ کر لغات پھرولنے بیٹھ گئے۔
اب تک کی دستیاب ڈکشنریاں مگر اس کی جنس و مطلب بتانے سے عاری ہیں۔
ہمیں تو یہ مافوق التحریر اسماء لکھتے وقت یہ بھی معلوم نہیں پڑتا کہ اس کے ہجے کیا لکھیں۔
ہاں مگر نام رکھنے والوں کو ہجوں سے کیا غرض؟ رومن جو ٹھہرے۔
ایک خوش پوش نوجوان انٹرویو دینے آیا تو ہم نے نام پوچھا
بولا
سیم اخشل عکاش۔
معنی پوچھنے کی تاب ہم میں نہ تھی مبادا جنت کی کسی حور کے ان دیکھے جسمانی حصوں پر موجود یاقوت و مرجان کا تل بتا دے۔ سو سنا ان سنا کر کے آگے بڑھ گئے۔ جو امیدوار شارٹ لسٹ ہوئے ان میں یہ صاحب بھی تھے مگر لسٹ میں ان کا نام نہ تھا۔ ہم نے کلرک سے پوچھا
”وہ صاحب کہاں ہیں؟“
جی کون؟
وہ جو مشکل سا نام ہے یار۔
دیکھو ذرا۔
”بز اخفش“
نہیں نہیں وہ تو بکری تھی۔
اچھا ہم میٹنگ کے لئے لیٹ ہو رہے ہیں لسٹ پکڑاؤ ادھر۔ ”
کتنا نقصان ہو گیا نام کی وجہ سے۔ ہیں جی؟
نقل کرنے میں جو دو جانور مشہور ہیں ان میں دوسرے نمبر پر بندر ہے۔ پہلے سٹار پلس، زی ٹی وی کے ڈراموں کے ناموں کی نقل ہوا کرتی تھی ، اب ترکی کی ہو رہی ہے۔
بھئی ہر علاقے کا اپنا رواج اپنی ثقافت اپنا معاشرہ اور اپنی پہچان ہے۔ بجائے اپنی پہچان بنانے کے جہاں جو چیز دیکھی بغیر سوچے سمجھے اپنا لی۔ یہ کوئی دانش مندی تھوڑا ہی ہے۔
اجی چھوڑیے! نام میں کیا رکھا ہے۔ نام کوئی بھی ہو اس سے آپ کو کیا لینا دینا؟
ہم میں سے ہر ایک نے یہ فقرہ متعدد بار سنا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ساری دنیا میں محاورے اور تمثیلی فقرے نسل در نسل کے تجربے کو بیان کرتے انتہائی پرمغز ہوا کرتے ہیں جن کو پڑھ کر عقل کے در وا ہوتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں تو مثالوں کا بھی باوا آدم نرالا ہے۔
نام ہی تو ایک ایسی چیز ہے جسے سنتے ہی اگلے کے ذہن میں اس شخص یا چیز کا ایک امیج سا ابھرتا ہے جسے آپ فرسٹ امپریشن کہہ لیجیے۔ نام سنتے ساتھ ہی ہمارا دماغ اس چیز یا شخص کے بارے میں ایک مبہم سا یا قدرے واضح پرسیپشن ہمارے شعور کے پردہ سیمیں پر تخلیق کر دیتا ہے جو پھر ساری عمر ہماری یادداشت کا حصہ رہتا ہے۔ جب کے ہمارے ”عقل قل“ (جن کی عقل کی قل خوانی ہو چکی ہو) نام میں کیا رکھا ہے کے قائل ہیں۔
نام ہی تو سب کچھ ہے۔ نام ہی تو بکتا ہے اور پھر پوری دنیا میں ”نامن کلیچر“ یعنی نام دینے کا طریقہ کار نہ صرف انتہائی ٹیکنیکل بلکہ پورے ایک مضمون کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں پورا نامن کلیچر ڈسکس کرنا مقصود نہیں فقط یہ واضح کرنا مطلوب ہے کہ نام جتنا عام فہم، آسان، پرکشش، واضح اور سیلف ایکسپلینیٹری ہوگا اتنا اچھا اور فائدہ مند ہو گا۔
لکھنے پڑھنے کسی کو بتانے یا ڈاک بھجوانے ہر طرح سے آسان ہو گا۔ لیکن کیا کریں مشکل پسندی اور نقالی ہمارا شیوہ جو ٹھہرا۔
ایک زمانہ تھا کہ نام انتہائی سادہ اور پر خلوص رکھے جاتے تھے۔ نہ جانے کیوں میں جب بھی کوئی اوٹ پٹانگ ”اسم گرانی“ سنتا ہوں تو جی چاہتا ہے کہ جھٹ سے پکڑ کر ان کا نام ”اللہ دتہ، رحیم بخش، کرم دین، خالق داد یا اگر عورت ہے تو حمیداں، بشیراں، ماجدہ، اصغری اور رشیدہ کر دوں۔

