کیون جیسا ضمیر ہونا چاہیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”بچہ گھٹنوں کے بل بیٹھا سر کو زمین کی طرف جھکائے مسلسل ہو رہا تھا۔ اکیلا ایک ویرانے میں وہ کسی کا منتظر تھا۔ شاید اپنی ماں کا انتظار کر رہا تھا۔ کیونکہ چار، پانچ سال کا بچہ اور کس کا انتظار کر سکتا ہے۔ یقیناً اسے بھوک بے شدت سے تڑپا رکھا تھا۔ اس کے جسم ہڈیوں کے ڈھانچے میں بدل چکا تھا۔ وہ مسلسل فاقوں کا شکار نظر آ رہا تھا۔ اس کی حالت دیکھ کر سب کو رونا آ جائے۔ لیکن رونے والی آنکھ جب بالکل اس کے پیچھے بیٹھے ایک گدھ کو دیکھتی ہے تو وہ تشویشناک صورتحال کا شکار ہو جاتی ہے۔

گدھ کسی کے مرنے کا انتظار کرتا ہے اور آج وہ بچے کے مرنے کا انتظار کر رہا تھا۔ بھوک دونوں کو لگی تھی لیکن دونوں کی بھوک میں فرق تھا۔ ارد گرد کے ماحول سے محسوس ہو رہا تھا کہ یہاں لوگ فاقوں کی زندگی گزار ریے ہیں اور گدھ عیاشی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ سیاہ فام بچہ اپنی ماں کے انتظار میں بیٹھا شاید اپنی قسمت کو رو رہا تھا۔ مایوس اس کے جسم کی چمڑی سے نظر آ رہی تھی ”

یہ منظر ایک شاہکار تصویر کا ہے۔ جو 1993 میں بنائی گئی۔ سوڈان میں قحط سالی کا دور دورہ تھا جس کی وجہ سے سول وار بھی جاری تھی۔ حالات کو کیمرے میں بند کرنے بہت سے فوٹوگرافر سوڈان میں موجود تھے۔ ان میں ایک وہ ”خاص“ تھا جس کی آنکھ نے یہ شہکار تصویر بنائی جو نیو یارک ٹائمز میں چھپتے ہی پوری دنیا میں توجہ کا مرکز بن گئی۔ وہ ساری دنیا میں بحث کا موضوع بن گیا۔ ”کیون کارٹر“ ، جی ہاں کیون کارٹر دنیا کی نظروں میں تھا وہ ایک دم اتنا مشہور ہو گیا کہ اسے خود بھی پتا نہیں تھا کہ وہ مقبولیت کے کس مقام پر پہنچ چکا ہے۔ لیکن یہ بحث جس کا وہ موضوع بنا ہوا تھا وہ بحث ایک منفی انداز میں ہو رہی تھی۔ سوالات کی بوچھاڑ جو کیون کارٹر سے پوچھے جا رہے تھے۔ ان کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔ خود کیون کارٹر کے پاس بھی ان سوالات کا جواب نہیں تھا۔

”بچے کا کیا بنا؟ کیا کیون نے بچے کی مدد کی؟ کیا وہ بچہ زندہ ہے؟“ سوال یقیناً پریشان کر دینے والے تھے۔ کیون جس کو اپنی تصویر پر فوٹوگرافی کا سب سے بڑا ایوارڈ مل چکا تھا وہ یہ سوال سن سن کر اکتا گیا تھا۔ یہ سوالات اسے ڈپریشن کی جانب لے کر جا رہے تھے۔ اب اس کے پاس وہ سب تھا جس کا وہ کبھی خواب دیکھا کرتا تھا۔ پیسہ، عزت، شہرت، کیریئر ہر چیز اس کے پاس موجود تھی لیکن وہ پھر بھی پریشانی میں مبتلا تھا۔ کیونکہ تصویر شائع ہونے کے بعد اٹھنے والے سوالات نے اس کے لئے باقی سب کچھ بے فائدہ، بے معنی قرار دیا تھا۔

اب اس نے فیصلہ کیا کہ وہ خود سوالوں کا جواب دینے میدان میں اترے گا۔ جب وہ اینکر کے سامنے بیٹھا تو جواب وہ کہیں اور تلاش کر رہا تھا کیونکہ جواب اس کے پاس نہیں تھے۔ وہ تو اپنی نوکری کر رہا تھا مدد سے اس کا لیا دینا؟ کہنے لگا میں تقریباً بیس منٹ تک وہاں موجود تھا پھر میرے ساتھیوں کی آواز آئی کہ کیون آ جاؤ فلائٹ کا وقت ہو گیا ہے۔ پھر میں چلا گیا مجھے نہیں معلوم کہ اس بچے کا کیا بنا۔

جواب سننے کے بعد اینکر نے کہا ”وہاں اس وقت ایک نہیں دو گدھ موجود تھے“ ، فرق صرف اتنا تھا کہ ایک کے ہاتھ میں کیمرہ تھا۔ دونوں کے اپنے اپنے مقاصد تھے، دونوں اپنی اپنی بھوک مٹانا چاہتے تھے۔ لیکن دونوں کی بھوک میں فرق تھا۔ یہ جملے کیون کے دل میں ایسے لگے کہ کیون نیند سے جاگ گیا۔ اسے محسوس ہونے لگا کہ واقعی یہ بہت بڑی غلطی ہو گئی ہے۔ غلطی نہیں گناہ سرزد ہو گیا ہے۔ جس کی معافی نہیں ہے۔ سچ نے اسے جھکنے پر مجبور کر دیا تھا۔ اس کا ضمیر زندہ تھا۔ وہ ہمیشہ سے ایسا ہی تھا۔ سچا اور کھرا انسان ، وہ انصاف پسند اور کالے اور گورے میں فرق نہ کرنے والا تھا۔ لیکن گھریلو حالات اور اس کی خود کی خواہشات نے شاید اسے چند لمحوں کے لئے سلا دیا تھا۔ لیکن اب وہ جاگ چکا تھا۔

اب اسے نیند نہیں آتی تھی۔ وہ۔ مسلسل کروٹیں بدلتا رہتا کبھی کہیں تو کبھی کہیں ، لیکن نیند اور سکون اس کی زندگی سے جا چکا تھا۔ وہ سوالات میں الجھا رہتا۔ اسی الجھن نے کیون کو اتنا الجھا دیا کہ ایک دن وہ موت کو گلے لگا بیٹھا۔ چند مہینوں پہلے جو ایوارڈ جیت چکا تھا وہ آج اس ایوارڈ کے ملنے کی وجہ سے موت کی نیند سو گیا تھا۔ موت کا طریقہ بڑا دردناک تھا وہ پہلے گھر کے قریب اس باغ میں گیا جہاں وہ بچپن میں کھیلا کرتا تھا۔ شاید یہ حرکت کیون نے اس بچے کی مناسبت سے کی ہو گی۔ پھر وہ گاڑی میں بیٹھا اور دھوئیں والی جگہ سے ایک پائپ ڈرائیونگ سیٹ والی سائیڈ سے گاڑی میں داخل کیا اور شیشے بند کر دیے۔ گاڑی میں دھواں بھر گیا اور کیون دھواں دھواں ہو گیا۔

زندہ ضمیر لوگ تو ایوارڈ یافتہ گناہ کے ساتھ زندہ نہیں رہ سکتے۔ انہیں بھی مرنا زندہ رہنے سے زیادہ اذیت دیتا ہے لیکن ہمارے ہاں سند یافتہ ڈاکو، چور اور قاتل جانتے ہوئے بھی حکمرانی کے مزے لے رہے ہیں۔ سرکاری نوکری کے مزے لے رہے ہیں۔ غرض ہر طبقے میں ایسے لوگ موجود ہیں جو کیون کارٹر سے بھی بڑا گناہ دل میں لیے بغیر کچھ شرمندگی محسوس کیے زندگی کے سفر میں دوڑے چلے جا رہے ہیں۔

کیون کارٹر کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس نے اپنے گناہ کی وجہ یا وجوہات بتانے کی کوشش نہیں کی، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ گناہ کی کیا دلیل؟ ویسے بھی جہاں کوئی دلیل نہ ہو گناہ بھی وہاں سرزد ہوتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply