لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم کو مکمل یقین ہے کہ وہ قومی اسمبلی سے کل اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ یہاں بس یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ وزیر اعظم کو یہ بھی پختہ یقین تھا کہ حفیظ شیخ سینٹ میں جیت جائیں گے۔ وزیر اعظم کو مکمل اعتماد تھا کہ وہ نوشہرہ کی نشست بھی جیت جائیں گے۔ وزیر اعظم کو یہ بھی مکمل اعتماد تھا کہ وہ تمام تر سرکاری مشینری استعمال کر کے ڈسکہ کی سیٹ جیت جائیں گے۔ وزیر اعظم کو تو وزیر آباد سے بھی فتح کی نوید سنا دی گئی تھی۔ لیکن ہر دفعہ ان کے اعتماد نے ان کو دھوکہ دیا۔

حفیظ شیخ تمام تر کاوشوں اور وڈیوز کے باوجود اسمبلی سے ایک سو چونسٹھ ووٹ حاصل کر سکے۔ یوسف رضا گیلانی کے ووٹوں کی تعداد ایک سو انہتر رہی۔ فوزیہ ارشد جو اب پی ٹی آئی کی منتخب سینٹر ہیں آن کے ووٹوں کی تعداد ایک سو چوہتر رہی۔ حکومت کے پاس دعوی ہے کہ انہیں ایوان میں اتحادی جماعتوں کو شامل کر کے ایک سو اسی ووٹوں کی حمایت حاصل ہے۔ اپوزیشن کے پاس یہ تعداد ایک سو ساٹھ تک محدود ہے۔ اعتماد کے ووٹ کے لیے حکومت کو ایک سو اکہتر ووٹ درکار ہیں۔ اسی لیے وزیر اعظم پر اعتماد ہیں۔

یہ کہنا درست نہیں کہ وزیر اعظم کا اعتماد کا ووٹ نہیں حاصل کر سکیں گے۔ بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بظاہر یہ لگتا ہے کہ پی ٹی آئی کے پاس کم از کم ایک سو چوہتر ووٹ تو دستیاب ہیں۔ فوزیہ ارشد کا انتخاب یہی درس دیتا ہے۔ ایک سو اکہتر کی ضرورت ہے اور ایک سو چوہتر حتمی ہیں۔ یہ اکثریت بہت کم ہے۔ یہ فرق بہت نازک ہے۔ اپوزیشن نے بندے نہ بھی توڑے اور بقول وزیر اعظم پیسہ نہ بھی چلا تو تو کئی ارکان بوجوہ اجلاس میں شریک نہیں ہو سکتے۔ کوئی ملک سے باہر ہو گا اور کوئی صاحب فراش ہو گا۔ ایسی صورت میں یہ انتخاب اور نازک ہو جائے گا۔

اس مرحلے پر اپوزیشن کا رویہ بہت دلچسپ ہے۔ انہیں اس اعتماد کے ووٹ سے کوئی غرض نہیں۔ بلاول بھٹو کہہ چکے ہیں کہ ہم عدم اعتماد اپنی مرضی سے لائیں گے۔ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ اپوزیشن شاید اس اجلاس کی کارروائی سے بائیکاٹ کر جائے۔ اپوزیشن کے تمام ہی لیڈروں نے البتہ یہ ضرور کہا ہے کہ حفیظ شیخ کی شکست کے بعد وزیر اعظم اخلاقی طور پر مستعفی ہو جائیں۔ لیکن یہ میدان سیاست ہے یہاں بدقسمتی سے اخلاقیات کا چلن نہیں ہوتا۔ اگر بات اخلاقیات کی ہوتی تو فیصل واوڈا سینٹر نہ منتخب ہوتے۔ ڈسکہ میں پولنگ کا عملہ اغوا نہیں ہوتا۔ حفیظ شیخ امیدوار ہی نہیں ہوتے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے نازک موڑ اور صورتحال میں وزیر اعظم نے ایسا فیصلہ کیوں کیا۔ سننے میں آیا ہے کہ یہ نادر مشورہ کچھ قریبی مصاحبین اور اعلی شخصیات نے باہمی مشاورت سے دیا۔ وزیر اعظم کی اول جلول تقریر میں بھی انہیں ان ”رفقائے کار“ کی معاونت شامل رہی ہے۔ خبر کی بات یہ ہے کہ تھنک ٹینک میں موجود چند ایک ”رفقائے کار“ اور ترجمان جو وزیر اعظم سے ہر ملاقات میں ان کے ”گیان“ پر سر دھنتے ہیں وہی ان کی غیر موجودگی میں ان کے ”ہذیان“ پر دل کھول کر ہنستے ہیں۔ یہی ”رفقائے کار“ جب ہر انٹ شنٹ مشورہ منوا کر باہر نکلتے ہیں تو ہاتھ پر ہاتھ مار کر کہتے ہیں۔ کہو استاد کیسی رہی؟

ایسے مشورے دینے والے پہلے بھی سیاست میں درباروں کو الٹتے رہے ہیں۔ نواز شریف کے گرد بھی ایسے لوگ یقیناً موجود ہوں گے جنہوں نے پاناما کے کیس میں استثنی ہونے باوجود انہیں مشورہ دیا ہو گا کہ اعلی عدالت سے رجوع کریں اور اپنا نام ایک ہی دفعہ کلیئر کروا لیں۔ اس کے بعد میں عدالتوں میں جو کچھ ایک منتخب وزیر اعظم کے ساتھ ہو وہ سب کو یاد ہی ہے۔ وزارت عظمی بھی گئی۔ قید بھی مقدر بنی، رسوائی بھی ہوئی۔

یہی معاملہ اب عمران خان کے ساتھ بھی پیش آ سکتا ہے۔ ”رفقائے کار“ ایسے ہی نازک موقعوں کے منتظر ہوتے ہیں۔ ایسا مشورہ دیتے ہیں کہ سانپ بھی زندہ رہتا ہے اور لاٹھی بھی سلامت رہتی ہے۔ ”رفقائے کار“ ایسے موقعوں کی گھات میں رہتے ہیں ایسی مشوروں کا حق خدمت کہیں اور سے وصول کرتے ہیں۔ رونق کہیں لگاتے ہیں اور رپورٹ کہیں کرتے ہیں۔

یہ بات بڑے وثوق سے بتا سکتا ہوں کہ پی ڈیم ایم کے اکابرین اس وقت اس حکومت کو گرانا نہیں چاہتے۔ وہ جانتے ہیں کہ منجدھار میں پھنسی اس نیا نے آخر ڈوب ہی جانا ہے۔ یہ وزیر اعظم اور اس کا منترا صبح گیا کہ شام گیا۔

ان کی توجہ حکومت کو گرانے سے زیادہ اس نقطے پر مرکوز ہے کہ کہیں اس حکومت کے جاتے جاتے عمران خان ایک سیاسی شہید نہ بن جائیں اور اس ملک کی سیاست میں دوبارہ انیس سو اٹھاسی سے انیس سے ننانوے کا دور واپس نہ آ جائے۔ حکومتوں کی باریاں پھر سے نہ لگنا شروع ہو جائیں۔

پی ڈی ایم والے پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے ہیں۔ صرف حکومت گرانے کے لیے وہ جمہوریت سے کھلواڑ کا موقع نہیں دے سکتے۔ اپنے تمام تر سیاسی تجربے کو بروئے کار لا کر وہ ایک ایسی بڑی بازی کھیل رہے ہیں۔ جس میں ایک لمحے کی غفلت جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔

رہا قصہ اعتماد کی تحریک کا تو اس میں اپوزیشن کا کوئی دوش نہیں۔ نہ ان پر کوئی الزام دھر سکتا ہے نہ انہیں کوئی قصور وار ٹھہرا سکتا ہے۔ نہ انہیں کوئی جمہوریت کش قرار دے سکتا ہے نہ حکومت کے خلاف سازش میں انہیں ملوث پایا جا سکتا ہے۔ یہ بھڑوں کا چھتہ وزیر اعظم نے خود چھیڑا ہے۔ اگر اس میں ناکامی ہوتی ہے جس کے امکان کم ہیں تو اس حکومت کی رخصت کا دوش کسی اور پر نہیں وزیر اعظم پر خود آئے گا۔ ایسے میں وزیر اعظم یہ بتا بھی نہیں سکیں گی کہ یہ صائب مشورہ انہیں کس ”رفیق کار“ نے عطا کیا تھا کس نے یہ درفنطنی چھوڑی تھی۔

بہت یقین سے اس وقت کہا نہیں جا سکتا کہ وزیر اعظم اعتماد کا ووٹ سہولت سے حاصل کر لیں گے یا نہیں لیکن ایک بات وثوق سے یہ کہی جا سکتی ہے کہ جب ووٹنگ ختم ہو گی، جب نتائج آئیں گے تو خود تحریک اعتماد پیش کرنے والے وزیر اعظم کے اعتماد میں خاصی کمی آ چکی ہو گی۔ اور اپوزیشن والے مومن خان مومن کا یہ مصرعہ پڑھ رہے ہوں کہ ”لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا“ ۔

اگر چہ وزیر اعظم کو مکمل یقین ہے کہ وہ قوم اسمبلی سے کل اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ یہاں بس یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ وزیر اعظم کو پختہ یقین تھا کہ حفیظ شیخ سینٹ میں جیت جائیں گے۔ وزیر اعظم کو مکمل اعتماد تھا کہ وہ نوشہرہ کی نشست جیت جائیں گے۔ وزیر اعظم کو اعتماد تھا کہ وہ تمام تر سرکاری مشینری استعمال کر کے ڈسکہ کی سیٹ بھی جیت جائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمار مسعود

عمار مسعود ۔ میڈیا کنسلٹنٹ ۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے سےتعلق ۔ پہلے افسانہ لکھا اور پھر کالم کی طرف ا گئے۔ مزاح ایسا سرشت میں ہے کہ اپنی تحریر کو خود ہی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر میزبانی بھی کر چکے ہیں۔ کبھی کبھار ملنے پر دلچسپ آدمی ہیں۔

ammar has 212 posts and counting.See all posts by ammar

Leave a Reply