میں کیوں کہتی ہوں میرا جسم میری مرضی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب تمہاری گندی نظریں میرے تن پر پڑتی ہیں، تب میں کہتی ہوں میرا جسم میری مرضی اور جب تم راہ چلتے مجھے چھیڑ تے ہو، تب بھی میں کہتی ہوں میرا جسم میری مرضی۔ جب تمہاری وجہ سے میں راستہ بدل دیتی ہوں، تب میں کہتی ہوں میرا جسم میری مرضی، جب تم کالج کے گیٹ پر چھٹی کے وقت کھڑے ہو کر آوازیں کستے ہو، تب میں کہتی ہوں میرا جسم میری مرضی۔ جب تم کھیلنے کی عمر میں میری شادی کر دیتے ہو، تب میں کہتی ہوں میرا جسم میری مرضی اور جب تم مجھے فرسودہ رسموں کے بلی چڑھاتے ہو، تب میں کہتی ہوں میرا جسم میری مرضی۔

جب تم اپنے مفاد کی خاطر مجھے غیرت کے نام پر قتل کرتے ہو، تب میں کہتی ہوں میرا جسم میری مرضی ۔ جب تم مجھے چند روپے خاطر کسی بڈھے کو بیچ دیتے ہو، تب میں کہتی ہوں میرا جسم میری مرضی۔ جب تم میرے اسکول جانے پر پابندی لگاتے ہو، تب میں کہتی ہوں میرا جسم میری مرضی۔ جب تم شادی کے نام پر جہیز مانگتے ہو، تب میں کہتی ہوں میرا جسم میری مرضی، جب تم مجھے بچے پیدا کرنے کی مشین بنا لیتے ہو، تب میں کہتی ہوں میرا جسم میری مرضی۔

جب تم میری ہوتے ہوئے دوسری عورت سے تعلقات رکھتے ہو، تب میں کہتی ہوں میرا جسم میری مرضی۔ جب تم نشے میں ٹن ہو کر میرے جسم پر ٹوٹتے ہو، تب میں کہتی ہوں میرا جسم میری مرضی۔

جب تم معصوم بچیوں کا ریپ کرتے ہو، تب میں کہتی ہوں، میرا جسم میری مرضی، جب تم دوستی نہ رکھنے پر میرے اوپر تیزاب چھڑکتے ہو، تب میں کہتی ہوں میرا جسم میری مرضی۔ جب تم زبردستی میرا مذہب تبدیل کرواتے ہو، تب میں کہتی ہوں میرا جسم میری مرضی۔

جب تم عورتوں کے حقوق کے نام پر میرے حق سلب کرتے ہو تب بھی میں کہتی ہوں میرا جسم میری مرضی۔ یہ مرضی جو کہ شعور کی آواز ہے، حقوق کی مانگ ہے، انسانیت کا تقاضا ہے، ملکی، عالمی قوانین میں درج ہے۔ یہ مرضی جو میرے جنم لینے کے ساتھ میرے سنگ آتی ہے لیکن تم وہ ماننے سے انکار کرتے ہو، اس لے میں نے بھی فیصلہ کیا ہے کہ میں بھی تیری مرضی نہ مانوں اور قانون، قدرت اور خود کو مانوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply