عمران خان ’چوروں کا سردار‘ نہیں ہو سکتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے پرجوش تقریر میں قوم کا اخلاق اور الیکشن کمیشن کا نظام درست کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اپوزیشن کی غیر موجودگی میں تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کے تعاون سے وہ 178 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے جو مطلوبہ اکثریت سے چھ ووٹ زیادہ تھے۔

اسپیکر اسد قیصر اور عمران خان کے حامیوں کو خوشی ہے کہ اس بار عمران خان کو پہلے سے دو زیادہ ووٹ ملے ہیں تاہم اعتماد کا ووٹ لینے سے پہلے ہونے والی سرگرمیوں سے واضح ہوتا ہے کہ یہ اکثریت کسی بھی لمحہ اڑنچھو ہوسکتی ہے۔ آج کے اجلاس کا بائیکاٹ کرنے والے پاکستان جمہوری تحریک (پی ڈی ایم) کے لیڈر مسلسل متنبہ کررہے ہیں کہ عدم اعتماد کا فیصلہ وہ کریں گے کہ کب اور کیسے لانا ہے۔ گویا سیاسی میدان میں جو معرکہ برپا کیا گیا ہے، وہ اعتماد کا ووٹ لینے سے سر نہیں ہوگا۔ اس کے لئے اعتماد سازی کی ضرورت ہوگی۔ عمران خان نے اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد قومی اسمبلی سے جو خطاب کیا ہے، اس میں ایسا اعتماد اور مفاہمت پیدا کرنے کا کوئی اشارہ موجود نہیں ہے۔ عمران خان نے قومی اسمبلی کی اکثریت کا ووٹ حاصل کرکے اگر چہ اپنے تئیں اپوزیشن کو ’شکست فاش‘ دی ہے اور اپنی پارٹی کو مشکلات کی بھٹی سے کندن بن کر نکلنے پر مبارک باد بھی دی ہے لیکن انہیں خوب اچھی طرح احساس ہوگا کہ وہ کسی مدمقابل کے بغیر معرکہ جیتنے کا اعلان کررہے ہیں۔ ایسی فتح عام طور سے ناکافی سمجھی جاتی ہے اور عارضی ثابت ہوتی ہے۔ انہیں ابھی اقتدار کے اصل معرکہ کے لئے تیاری کرنا ہوگی۔

وزیر اعظم عمران خان نے اپنی تقریر میں اعتماد کا اظہار کرنے پر پارٹی ارکان کے علاوہ حلیف جماعتوں کے اراکین کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پارلیمانی اجلاس میں جن جذبات کا اظہار کیا گیا، اس سے انہیں علم ہؤا کہ حفیظ شیخ کے ہارنے پر پارٹی کے لوگوں کو کتنی تکلیف ہوئی ہے۔ اسی لئے متعدد ارکان اسمبلی بیماری یا دوسری مجبوریوں کے باوجود بڑی مشکل سے اجلاس میں پہنچے۔ اگرچہ عمران خان کی تقریر کا محور سینیٹ انتخاب میں اسلام آباد سے ایک نشست ہارنے کا تازہ زخم ہی تھا لیکن انہوں نے بیماروں اور مجبوروں کا ذکر کرنے کے باوجود ان لاچاروں اور ’چوروں‘ کا ذکر کرنے سے گریز کیا جنہوں نے ان کے بقول اپنے ووٹ فروخت کئے تھے۔ اور اس طرح پی ڈی ایم کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کو جتوا دیا تھا۔ وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ قومی دولت چوری کرنے والوں کے پاس اتنا سرمایہ ہے کہ انہیں خود بھی نہیں پتہ کہ ان کا باہر کتنا پیسہ ہے۔ عمران خان جذباتی ضرور ہیں لیکن اتنے بھولے ہرگز نہیں ہیں کہ انہیں یہ ادراک نہ ہو کہ انہیں جن 178 ارکان قومی اسمبلی نے آج اعتماد کا ووٹ دیا تھا ان میں وہ 16 ’چور ‘بھی شامل تھے جنہوں نے تین روز پہلے پیسےپکڑ کر عمران خان سے ’غداری‘ کی اور اب وفاداری کا اقرار کرنے چلے آئے۔

کیا ہی اچھا ہوتا کہ ’اپوزیشن سے پاک‘ قومی اسمبلی کے آج کے پر امن اجلاس میں عمران خان اسپیکر اسد قیصر سے یہ اعلان بھی کروادیتے کہ ووٹ فروخت کرنے والے چور انہیں ووٹ نہ دیں ورنہ لوگ انہیں ’چوروں کا سردار‘ کہیں گے اور انہیں یہ ہرگز گوارا نہیں ہوگا۔ عمران خان کچھ بھی ہوسکتا ہے، چوروں کا سردار تو نہیں ہوسکتا۔ لیکن قومی خدمت کے نام پر اقتدار کی شدید خواہش میں کوئی بھی لیڈر اقتدار تک پہنچانے کا سبب بننے والے کسی رکن قومی اسمبلی کو دھتکارنے کا حوصلہ نہیں کرتا۔ عمران خان نے ایسے ارکان اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لے کر ثابت کیا ہے کہ وہ بھی اس مزاج اور رویہ سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔ ورنہ اسد عمر نے تو 2 مارچ کو ایسے کم از کم تین ایم این ایز کو شناخت کرنے کا اعلان کیا تھا جو ویڈیو میں یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر گیلانی سے ووٹ ضائع کرنے کا طریقہ سمجھ رہے تھے۔ اور انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ ویڈیو میں دکھائی دینے والا چوتھا رکن بھی جلد ہی شناخت کرلیا جائے گا۔ ستم ظریفی البتہ یہ ہے کہ ان میں سے آج دو نے میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے اقرار کیا کہ وہ اس ویڈیو میں شامل تھے اور آج عمران خان کو اپنا لیڈر تسلیم کرنے کے لئے قومی اسمبلی آئے تھے۔ اب یا تو عمران خان اور ان کے وزیر ومشیر ، علی حیدر گیلانی پر جھوٹا الزام عائد کرتے رہے ہیں یا پھر عمران خان کو ووٹ فروشوں سے اعتماد کا ووٹ لینے میں کوئی پریشانی نہیں ہے۔ آخر کرسی کس کو پیاری نہیں ہوتی۔

اعتماد کا ووٹ نوشتہ دیوار تھا ورنہ عمران خان ایسے بھی اصول پرست نہیں ہیں کہ وہ سینیٹ کی ایک سیٹ ہارنے کے بعد اعتماد کا ووٹ لینے کا ’رضاکارانہ‘ اعلان کرتے۔ اس حوالے سے واقعات کی ٹائم لائن  اہم بھی ہے اور دلچسپ بھی۔ دو مارچ کی شام تحریک انصاف علی حیدر گیلانی کی ویڈیو لیک کرکے کھیل کا پانسہ پلٹنا چاہتی ہے اور تین مارچ کی صبح تک شیخ رشید جیسا ’باخبر‘ وزیر اطلاع دے رہا تھا کہ حفیظ شیخ بھاری اکثریت سے کامیاب ہوں گے۔ اسی شام یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کا اعلان ہونے پر حکمران جماعت میں صف ماتم بچھ جاتی ہے اور شاہ محمود قریشی کی سرکردگی میں وزیروں کی ایک ٹیم اپوزیشن کو ’کفر کی قوتیں‘ ثابت کرنے پر زور بیان صرف کرتی ہے اور ’حق‘ کا جھنڈا بلند کرنے کے لئے اعلان کیا جاتاہے کہ عمران خان قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لیں گے۔ 4 مارچ کی صبح وزیر اعظم کی درخواست پر پاک فوج اور آئی ایس آئی کے سربراہان بنی گالہ میں عمران خان سے ملاقات کرتے ہیں جس کا کوئی اعلامیہ جاری نہیں کیا جاتا۔ ظاہر ہے کہ سینیٹ انتخاب میں ہزیمت سے ’قومی سلامتی‘ کا ایسا کوئی سنگین مسئلہ کھڑا نہیں ہؤا تھا کہ وزیر اعظم کو فوجی قیادت سے ملنے کی ضرورت پیش آتی۔ اس ملاقات کا ایجنڈا سو فیصد سیاسی ہو گا۔ اسی لئے مریم نواز کو اس ملاقات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہنا پڑا کہ’ ایک طرف کہا جاتا ہے کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے دوسری طرف سیاسی کشیدگی کے ماحول میں آرمی چیف وزیر اعظم سے ملنے جاتے ہیں۔ بتایا جائے کہ فوج کو سیاست میں کون گھسیٹ رہا ہے؟‘

عسکری قیادت سے ملاقات کے بعد 4 مارچ ہی کی  شام وزیر اعظم قوم سے خطاب کرتے ہیں جس میں وہ بقول اپنے عوام کو سینیٹ انتخاب سے پیدا ہونے والی صورت حال سے آگاہ کرنا چاہتے تھے۔ اس تقریر میں صرف ایک ہی نئی بات تھی: عمران خان نے دھمکی دی کہ اگر انہیں اقتدار سے محروم کیا گیا تو وہ عوام کو سڑکوں پر نکالیں گے۔ کیا قیاس کیا جاسکتا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید سے ملاقات میں عمران خان نے یہی بات نہیں کی ہوگی؟ کیا کوئی فوجی قیادت پہلے سے ہی انتشار اور مشکلات کا شکار ملک میں ایک نئے فساد کو دعوت دے سکتی  تھی؟ کیا اپوزیشن اتحاد کوئی ایسی عبوری حکومت قائم کرنے پر راضی ہوسکتا تھا جسے اقتدار سنبھالتے ہی ملک کی سب سے بڑی پارٹی کے احتجاج کا سامنا ہو ؟ اس صورت حال کو معاملہ فہمی سے حل کرنے کا ایک ہی طریقہ تھا۔ وہ طریقہ آج قومی اسمبلی میں شاہ محمود قریشی کی پیش کردہ قرار داد منظور کرکے اختیار کرلیا گیا ہے۔ لیکن ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں ، کے مصداق کیا عمران خان کی سیاسی مشکلات کا خاتمہ ہوگیا اور کیا ملک کو کسی پر امن اور تعمیری سیاسی ایجنڈے کی طرف گامزن ہوگیا ہے؟

عمران خان نے قومی اسمبلی سے خطاب میں دعویٰ کیا کہ وہ ایسی انتخابی اصلاحات لائیں گے کہ ہارنے والا اپنی ہار تسلیم کرنے پر مجبور ہوگا۔ عمران خان وزیر اعظم ہیں ، انہیں قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل ہے۔ انتخابی دھاندلی ختم کرنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ نئی انتخابی اصلاحات لائی جائیں۔ تاہم اگر تحریک انصاف نے جمہوری روایات کے خلاف کوئی فیصلہ مسلط کرنے کی کوشش کی تو اس کا انجام بھی سینیٹ انتخاب اوپن ووٹنگ سے کروانے کی خواہش جیسا ہی ہوگا۔ آج اعتماد کا ووٹ لینے کی نوبت اس لئے نہیں آئی کہ ملک میں سیاسی مفاہمت پیدا نہیں کی جاسکتی ، عمران خان اس مقام تک اپنی ضد، انا، ہٹ دھرمی اور الزام تراشی کی سیاست سے پہنچے ہیں۔ انہوں نے اگر یہ طریقے ترک نہ کئے تو شاید اگلے کسی مرحلے پر اعتماد کے ووٹ کا انتظار بھی ممکن نہیں ہوگا۔

وزیر اعظم نے قوم سے خطاب میں الیکشن کمیشن کو بے نقط سنانے کے بعد آج قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کمیشن کو مشورہ دیا ہے کہ ’میں الیکشن کمیشن سے کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی ایجنسیز سے ایک سیکرٹ بریفنگ لیں تاکہ آپ کو پتا چلے کہ کتنا پیسہ چلا‘۔ اگر عمران خان کے پاس سینیٹ انتخاب میں پیسہ تقسیم ہونے کی ٹھوس معلومات موجود ہیں تو وہ الیکشن کمیشن کو اس کے ثبوت دیکھنے کے لئے ’خفیہ بریفنگ‘ کا مشورہ کیوں دے رہے ہیں؟ اس گھناؤنے جرم کے شواہد قوم کے سامنے کیوں نہیں لاتے اور عدالتوں میں پیش کرکے قصور واروں کو سزا کیوں نہیں دلواتے؟ یا تو عمران خان ملکی عدالتی نظام پر اعتبار نہیں کرتے یا پھر وہ سینیٹ انتخاب میں روپے کے لین دین کے بارے میں قومی اسمبلی کے فلور سے بھی جھوٹ بولنے کے مرتکب ہوئے ہیں۔

عمران خان نے یہ بھی کہا کہ ’ میں آخری گیند تک لڑنے والا ہوں اور اگر پوری پارٹی بھی میرا ساتھ چھوڑ گئی تو اکیلا لڑوں گا‘۔ اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد آخر وہ کون سا خوف ہے جس کی وجہ سے انہیں اندیشہ لاحق ہے کہ سب ان کا ساتھ چھوڑ جائیں گے اور انہیں اکیلا لڑنا پڑے گا؟ عمران خان کی یاددہانی کے لئے عرض ہے کہ 2014 میں دھرنا کے موقع پر بھی وہ کچھ ایسے ہی دعوے کیا کرتے تھے پھر جنرل راحیل شریف کے ایک اشارے پر دھرنا ختم کرکے گھر سدھار گئے تھے۔

وزیر اعظم ملک و قوم کے حوالے سے مسلسل جس قلبی تکلیف کا اظہار کرتے ہیں ، انہیں جان لینا چاہئے کہ یہ دردل کا معاملہ نہیں ہے بلکہ پیٹ کا مروڑ ہے جو اقتدار کی بے پناہ خواہش سے پیدا ہوتا ہے۔ ایسے میں یا ان کا ’معالج‘ مرض کی درست تشخیص نہیں کرپایا یا پھر وہ خود پرہیز میں کوتاہی کررہے ہیں۔ بعض اوقات بیماری کا علاج دوا سے زیادہ پرہیز سے ممکن ہوتا ہے۔ ایسے میں عطار کے اسی لڑکے سے بار بار دوا لینے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ کیوں کہ یہ بیماری بھی تو اسی کے سبب ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1815 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply