میں پوچھتا ہوں مدعی عدل کچھ تو بول


ریاست میں جمہوریت اور سیاست کے درمیان ایک عجیب سی کشمکش نظر آ رہی ہے۔ یہ معاملہ صرف ہمارے یہاں نہیں ہے بھارت میں بھی ایسی کیفیت ہے اور پھر امریکہ میں بھی سابق صدر ٹرمپ الزام لگا رہے ہیں کہ حالیہ انتخابات میں ان کے ووٹ کو چوری کیا گیا ہے۔ اب ووٹ کی چوری کو ثابت کیسے کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے ہاں مسلم لیگ نواز، مولانا فضل الرحمٰن اور دیگر سیاسی جماعتوں کا بھی ایسا ہی بیانیہ ہے۔ دوسری طرف امریکہ میں ہی سابق صدر کے خلاف کارروائی کا سلسلہ موقوف کر دیا گیا ہے۔

ڈیموکریٹ اس بات کا اندازہ لگا رہے ہیں کہ سابق صدر ٹرمپ کے چار سالہ دور اقتدار میں امریکی معیشت کا کتنا نقصان ہوا ہے۔ اصلی نقصان تو یہ ہے کہ دنیا بھر میں امریکی مفادات نظر انداز کر کے ٹرمپ نے جمہوریت کا نیا انداز اپنایا تھا جس کے مطابق سفید فام اکثریت کے مفادات کا تحفظ اور امریکی قوت کو علاقائی طور پر مضبوط اور منفرد بنانا۔ اس معاملہ میں اس نے میکسیکو اور کینیڈا سے کوئی بھی مشاورت نہیں کی اور سب سے زیادہ تارکین وطن کو نظر انداز کیا۔ امریکی افواج کچھ عرصہ تک تو ٹرمپ کے ساتھ تھیں مگر عالمی مفادات میں اپنی حیثیت برقرار رکھنے کے لئے انہوں نے ٹرمپ سے دوری اختیار کرلی تھی۔

بھارت میں جمہوریت کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ انوکھا تو نہیں۔ ان کے ہاں بھی ہندو دھرم کے احیا کے لئے مودی کی جماعت کمربستہ ہے۔ مگر علاقائی سیاست نے بھارت کو کمزور کر دیا ہے۔ اس میں روس کے ساتھ تعلقات میں گرم جوشی کا فقدان ہے۔ پھر امریکی کے ساتھ بھارت کے تعلقات ایک نیا رخ اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ ایشیا میں بھارت امریکی مفادات کا نگران ہے۔ بھارت میں امریکہ کی سرمایہ کاری ایک نئے انداز سے ہو رہی ہے۔ امریکہ نے خطہ پر نظر رکھنے کے لئے بھارت کی افواج کو جدید طرز کی ایسی ٹیکنالوجی فراہم کرنی شروع کی ہے جس سے وہ خطہ میں اپنے ہر قسم کے مفادات پر نظر رکھ سکے۔

پھر اسرائیل بھارت کے ساتھ مل کر مشرق وسطیٰ سے باہر ایک نیا اتحاد بنا رہا ہے جس میں سعودی عرب اور ایران شامل نہیں۔ یہ سب کچھ عالمی معاشی تبدیلیوں کے تناظر میں چین کے خلاف ایک خاموش منصوبہ بندی ہے۔ بھارت کو اندازہ نہیں کہ اس کی حیثیت کو عالمی تناظر میں داؤ پر لگایا جا رہا ہے۔ پاکستان اس معاملہ میں ابھی بھی امریکہ کے دباؤ سے باہر نہیں نکل سکا۔

پاکستان میں اصول اور قانون کی جنگ پورے جوبن پر ہے۔ جمہوریت کے امین سیاسی لوگ اصول پسندی کا پرچار تو بہت کرتے ہیں مگر کسی بھی قانون کو خاطر میں نہیں لاتے اور ہمارے وہ ادارے جو قانون کے مطابق انصاف کے ذمہ دار ہیں وہ ایسے فیصلے کر رہے ہیں جو ریاست میں انصاف کے کردار کو مشکوک کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایک سیاسی جماعت نے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سے آئین میں کچھ معاملات پر تشریح اور مشاورت مانگی مگر عدالت نے عوام کو مایوس کیا۔

اصولی طور پر عوام کے مفاد کا تحفظ کرنا ضروری تھا مگر انہوں نے اپنا یہ کردار الیکشن کمیشن کو دے دیا۔ یاد رہے یہ وہ الیکشن کمیشن ہے جو گزشتہ انتخابات کے بعد جو اعتراضات اور شکایات درج ہوئی تھیں ان پر معقول توجہ نہیں دے سکا۔ اور اب بھی پاکستان میں انتخابی معاملات شفاف نظر نہیں آتے۔ اس دفعہ سینیٹ کے الیکشن میں جس طریقہ سے رشوت اور پیسے کا استعمال ہوا ہے وہ مشکوک نہیں مگر کوئی قانون اور اصول واضح نہیں کہ ان لوگوں پر ہاتھ ڈالا جاسکے۔ یہ ہے جمہوریت کا اصل چہرہ جو قابل اصلاح بھی نہیں۔

مسلمانوں کی سیاسی تاریخ کے اہم دانشور ابن خلدون کا کہنا ہے کوئی بھی سرکار یا اقتدار دو بنیادوں پر قائم ہوتا ہے ایک طاقت اور گروہی شعور جس کا اظہار آج کی دنیا میں فوج کی صورت میں نظر آتا ہے دوسری دولت جو عوام اور فوج کے لئے بہت ہی لازم ہے اور زوال کی صورت میں دولت کا فقدان اور فوج میں پھوٹ یا عدم اعتماد۔ اس معاملہ میں ہماری تاریخ کا چہرہ بہت بدنما ہے۔ اس وقت پاکستان میں ترقی اور جمہوریت کے درمیان مقابلہ چل رہا ہے۔

ترقی اور تبدیلی کے لئے سب بڑا دشمن اس وقت سیاست اور جمہوریت ہے۔ اس وقت سیاسی گروہ الیکشن کے لئے تیار نظر نہیں آتے ہیں۔ وزیر اعظم کی طرف سے اہم سیاسی پیش رفت یہ نظر آ رہی ہے کہ وہ قومی اسمبلی سے ایک دفعہ پھر اعتماد کا ووٹ لینے کے لئے اپنی پارٹی کو اعتماد میں لینے کا عندیہ دے چکے ہیں اور اگر اعتماد کا ووٹ نہیں ملتا تو پھر مخلوط سرکار سے پاکستان کو چلایا جاسکتا ہے اور پھر یہ معاملہ دوبارہ بڑی عدالت کے پاس جائے گا اور ایک دفعہ پھر جمہوریت اور سیاست کا مقدمہ لڑا جائے گا اور کسی نئے نظام کی نوید کا اشارہ بھی دیا جاسکتا ہے۔ مگر اب یہ معاملہ ٹل گیا ہے۔

اس وقت علاقائی صورت حال میں ملک کے لئے نئے نظام کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان کے اہم حلیف اس وقت چین اور ترکی ہیں۔ وہ بھی پاکستان کے سیاسی نظام سے مطمئن نظر نہیں آتے۔ امریکہ کو بھی تشویش ہے کہ پاکستان افغانستان کے معاملات میں اس کا ہم خیال نہیں ہے اور افغانستان میں کسی نئی جنگ کا آغاز ہو سکتا ہے۔ اور ہو سکتا ہے اب کی بار افغانستان میں امریکہ کا مقابلہ کسی اور طاقت سے ہو۔ وہ ہر طرح سے چین کو روکنا چاہتا ہے اور پاکستان کی مدد چاہتا ہے۔

ہماری جمہوریت اس معاملہ میں امریکہ کی مدد کرتی نظر آ رہی ہے۔ اور اس ہی وجہ سے سینیٹ کے انتخابات میں سیاسی چپقلش میں اضافہ نظر آیا اور یہ سیاسی گروہ عمران خان کی سرکار ختم کرنے کے بعد پھر دوبارہ ایک دوسرے کے مقابل نظر آئیں گے۔ ایسے میں آئی ایم ایف کے لوگ پاکستان پر پابندیوں کی قانون سازی کر سکتے ہیں۔ پاکستان کے لوگوں کو کرپشن اور بدانتظامی کا اندازہ نہیں ہوسکا۔ کرپشن اور بدانتظامی ہی جمہوریت کو مقبول بنا رہی ہے اور ایسے میں عمران خان کی سرکار نے کچھ ایسے اقدامات ضرور کیے ہیں جو آنے والے دنوں میں عوام کے لئے اچھے فیصلے کرنے میں سرکار کی مدد کر سکیں۔

لگتا یوں ہے کہ عمران خان کو اس وقت کرکٹ کی زبان میں ”فالو آن“ کا سامنا ہے۔ مگر چند دن پہلے خاتون اول نے لاہور کی یاترا کی تھی اور خاص طور پر حضرت گنج بخش کی مرقد پر حاضری دی تھی اور اس وجہ سے عمران خان کو کچھ وقت مل گیا۔ مگر بین الاقوامی سیاست میں عمران خان امریکہ کے لئے قابل قبول نہیں ہے اور کسی ایسے شخص کی تلاش ہے جو ملک کے معاملات کے بارے میں ہمارے دوستوں یعنی امریکہ اور برطانیہ کے لئے بھی قابل قبول ہو اور ہمارے سابقہ حکمرانوں کے لئے آسانی فراہم کرسکے۔

سابق صدر آصف زرداری نے سینیٹ کے انتخاب میں خوب رول ادا کیا ہے مگر اب تفتیش ہوئی تو ان کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ یوسف گیلانی کو برادران یوسف کا سامنا ہے۔ وہ اک مشکل میں ہیں۔ آنے والے دن ریاست کے لئے کافی کٹھن نظر آ رہے ہیں۔ پاکستان کو چین کے ساتھ چلنا ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ چین کی طرح کا صبر اور عمل کے لئے تیاری پکڑے۔

؎ میں پوچھتا ہوں مدعی عدل کچھ تو بول

Facebook Comments HS