کیا یہی حقیقی جمہوریت ہے؟


ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک سپیرے کو اژدھے کا ایک نومولود بچہ ملا، سپیرے نے اس بچے کو پال لیا، سپیرا غربت کی وجہ سے اژدھے کے بچے کو بھی وہی دال ساگ کھلاتا جو وہ خود کھاتا، یہاں تک کہ اژدھے کا بچہ ایک مکمل اور بڑا اژدھا بن گیا۔ سپیرا اپنی غربت سے بڑا تنگ تھا کہ ایک دن اچانک سپیرے کے ذہن میں برقی رو کی مانند ایک انوکھا خیال کوندا جو کہ سپیرے کی غربت مٹانے میں مددگار ثابت ہو سکتا تھا اور اس نے فوری طور پر اس کا تجربہ کیا جو کہ سو فیصد کامیاب رہا۔

اس نے اژدھے کا منہ کھلوایا اور اس بڑے سارے کھلے منہ میں کھڑا ہو گیا اور پانچ منٹ تک کھڑا رہا لیکن دال روٹی کھانے والے پالتو اژدھے نے سپیرے کو کچھ نہ کیا۔ سپیرا بہت خوش تھا، اس نے اگلے ہی دن شہر کے مصروف چوک پر عوام الناس کے سامنے یہ خطرناک مظاہرہ پیش کیا جسے عوام کی جانب سے بہت پذیرائی حاصل ہوئی اور وہ چند دنوں میں ”ٹکٹ“ کی مد میں لیے جانے والے پیسوں سے مالا مال ہو گیا۔ اب سپیرے نے باقاعدہ ایک جگہ خرید لی، ڈھیروں ملازم رکھ لیے اور باقاعدہ کاروبار کے طور پر مظاہرہ دکھانے لگا اور خوب پیسے کمانے لگا، لوگ ایسا انوکھا مظاہرہ دیکھنے کے لئے میلوں دور سے آنے لگے اور بھاری ٹکٹ خرید کر یہ مظاہرہ دیکھتے۔

اب جب سپیرے کے پاس دولت کے انبار لگ گئے تو اچانک ایک دن اسے خیال آیا کہ اژدھا جو کہ دراصل اس کی اس عظیم کامیابی کی بنیادی وجہ ہے کیوں نہ اسے دال ساگ کی بجائے گوشت کھلایا جائے تاکہ اس کی زیادہ اچھی نشوونما ہو سکے، ملازمین کو حکم ہوا اور اژدھے کی خوراک میں گوشت شامل کر دیا گیا۔ اژدھے کی خوراک میں گوشت شامل ہونے کے بعد عوامی مظاہرے کے چوتھے دن بھرے مجمعے میں لوگوں نے ایک انوکھا منظر دیکھا کہ اژدھا اچانک اپنے کھلے منہ میں کھڑے سپیرے کو نگل گیا اور دیگر لوگوں کو کھانے کے لئے لپکا اور سپیرے کی زندگی کا کھیل ختم ہو گیا، اس کا اصل کاروبار بند ہو گیا۔ سپیرے نے نادانستگی میں اژدھے کے منہ کو گوشت کی صورت میں خون لگا دیا تھا جس کے بعد جب سپیرا اژدھے کے منہ میں کھڑا ہوا تو اسے گوشت اور خون کی مسحور کن خوشبو نے بے چین کر دیا اور وہ اپنے منہ میں کھڑے سپیرے کو نگل گیا۔

یہ مثال ”انفرادی حیثیت“ میں بے شمار سیاست دانوں اور فوجی جرنیلوں پر صادق آتی ہے۔ دراصل جرنیلوں کے منہ کو خون لگانے والے بھی یہی جمہوریت کے علم بردار سیاست دان ہیں جنہوں نے بلا ضرورت جرنیلوں کے منہ کو خون لگایا، گو کہ پاکستان میں رائج جمہوری نظام بھی کوئی اعلیٰ و ارفع نظام نہیں ہے لیکن بہرحال ایک آئینی اور قانونی نظام تو ہے لیکن ہمارے سیاست دانوں نے ماضی اورماضی قریب میں خود جرنیلوں کو دعوتیں دے دے کر آئینی نظام پر شب خون مارنے پر اکسایا۔

آج جو جماعتیں پی ڈی ایم کی شکل میں متحد ہیں، پہلی بات تو ان میں یہ ہے کہ یہ ایک غیر فطری اور وقتی اتحاد ہے جو کہ عنقریب ٹوٹنے والا ہے۔ یہ سارا کھیل اقتدار کے لئے کھیلا جا رہا ہے، اگر حکومت ٹوٹنے جیسی صورتحال پیدا ہوئی تو یہ ساری جماعتیں تتر بتر ہو کر اپنی اپنی ذاتی دکانیں چمکانا شروع ہو جائیں گی تاکہ اقتدار حاصل کیا جا سکے، ہر پارٹی کی کوشش ہو گی کہ حکومت میں اکثریت انہیں ملے اور باقی جماعتیں ان کے حکومتی اتحاد میں شامل ہوں تاکہ ان کی انفرادیت برقرار رہے۔ فضل الرحمان صاحب کو تو زیادہ فکر نہیں ہو گی کیونکہ وہ تو ایم کیو ایم کی طرح کہیں نہ کہیں ایڈجسٹ ہو ہی جائیں گے ، زیادہ پریشانی نون لیگ اور پیپلز پارٹی کو ہے۔

پی ڈی ایم کی کوئی بھی جماعت ایسی نہیں ہے جو اس بات کا دعویٰ کر سکے کہ اس کے ہاتھ صاف ہیں، انہوں نے ماضی میں جرنیلوں کو استعمال نہیں کیا یا خود ان کے ہاتھوں استعمال نہیں ہوئے، کوئی بھی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ انہوں نے جرنیلوں سے رقبے نہیں لیے یا انہیں رقبے نہیں دیے۔ پی ڈی ایم کا یہ دعویٰ بھی غلط ہے کہ صرف اس حکومت کو بنانے میں سیلیکٹرز کا کردار ہے، کیا پی ڈی ایم یہ بات دعوے سے کہہ سکتی ہے کہ ماضی میں انہوں نے اپنی حکومتوں کے لئے سیلیکٹرز سے مدد نہیں لی؟

اگر موجودہ حکومت مدد لے رہی ہے تو آپ بھی ماضی میں لے چکے ہیں جو کہ اگر سچ ہے تو ایسا نہ پہلے ہونا چاہیے تھا اور نہ اب ہونا چاہیے، مطلب اس حمام میں سارے ہی ننگے ہیں ، صرف بات اس وقت اقتدار حاصل کرنے کی ہے۔ کیا پی ڈی ایم سیاسی جلسے کر کے اپنی عوامی طاقت حکومت اور لوگوں کو دکھانا چاہ رہی ہے یا جن کو پی ڈی ایم سیلیکٹرز کہتی ہے ان کی توجہ اپنی جانب مبذول کروانا چاہ رہی ہے تاکہ ان سیلیکٹرز کو رام کر کے ان کی مدد سے اپنے اقتدار کی راہ ہموار کی جا سکے؟

اب بات کرتے ہیں حالیہ سینیٹ انتخابات اور وزیراعظم کے اعتماد کے ووٹ کی، تو جناب معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ ہر پاکستانی یہ چاہتا ہے کہ ان کا اعتماد جمہوریت پر بحال ہو لیکن ہمارے سیاست دان ان آئینی، قانونی اور اہم ملکی معاملات میں بھی پیسوں کو لے آئے اور دہائیوں سے لا رہے ہیں اور انہوں نے عام آدمی کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا ہے کہ سیاست ایک گٹر ہے جہاں سب مال بکاؤ ہے۔

موجودہ حکومت اور پی ڈی ایم سمیت اس وقت کسی بھی سیاسی جماعت کا کردار جمہوری نہیں ہے، ہر کوئی پیسے لے کر اور کچھ پیسے دے کر گنتی کرنے میں مصروف ہے اور پی ڈی ایم نے یہاں بھی غیر جمہوری روایت قائم کی ہے کہ اعتماد کے ووٹ کے وقت ایوان کا بائیکاٹ کر دیا اور یہ کہا کہ اپوزیشن کی شمولیت کے بغیر یہ ووٹنگ بے معنی ہے، جبکہ انہیں چاہیے تھا کہ سڑکوں کی طرح ایوان میں بھی اپنی طاقت دکھاتے اور وزیراعظم کو نکال باہر کرتے اور جمہوری اقدار کو قائم رکھتے۔

کیا پی ڈی ایم کو یہ خطرہ تو نہیں کہ ان کی شمولیت کے باوجود بھی وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ مل جائے گا؟ اس لیے اپنی عزت بچانے کے لئے بائیکاٹ کر بیٹھے؟ مطلب جمہوریت گئی تیل لینے، یہ سب پیسے اور اقتدار کا کھیل ہے۔

بہرحال ہمارے سیاست دانوں کو چاہیے کہ وہ جمہوریت پر عوام کا اعتماد بحال کریں، اپنے ہاتھ صاف رکھیں تاکہ ہم حقیقی جمہوریت کی طرف گامزن ہو سکیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

محمد حسان، اسلام آباد

محمد حسان گزشتہ 12 سالوں سے میڈیا اور پبلک ریلیشنز کنسلٹنٹ کے طور پر ملکی اور بین الاقوامی اداروں سے منسلک ہیں۔ انسانی حقوق، سیاسی، معاشی اور معاشرتی موضوعات پر لکھنے کا شغف رکھتے ہیں۔ آپ انہیں ٹویٹر اور فیس بک پر سرچ کر سکتے ہیں BlackZeroPK

muhammad-hassaan-islamabad has 12 posts and counting.See all posts by muhammad-hassaan-islamabad

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments