میری کہانی میری زبانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میری عمر تو 40 برس ہے لیکن میری کہانی میری پیدائش سے 8 سال قبل 30 اگست 1972 کو شروع ہو چکی تھی اور میرا نام بھی رکھا جا چکا تھا، آپ بھی سوچ رہے ہوں گے یہ کیسے ہو سکتا ہے، اس راز کو جاننے کے لیے آپ کو میرے ساتھ تاریخ کے کچھ ان اوراق پر نظر دوڑانا پڑے گی جن کے بارے کچھ لوگوں نے جانتے ہوئے بھی آج تک لا علمی کا اظہار کیا ہے اور دوسری طرف فقط ایک شخص ایسا ہے جس نے اس تاریخ کو زندہ رکھنے کے لیے ایک بہت انوکھا انداز اپنایا ہوا ہے۔

میں بات کر رہا ہوں، ممتاز مسیحی تاریخ دان پروفیسر سلامتؔ اخترؔ کی، جنہیں لوگ مجاہد اول، بابائے مسیحی قوم کے القاب سے بھی جانتے ہیں، 2 جنوری 1972 کو پاکستان میں اس وقت کی حکومت نے پاکستان میں پرائیویٹ سکولز، کالجز، ہسپتالوں، فیکٹریوں اور بہت سے اداروں کو اپنی تحویل میں لے کر نیشنلائز کرنا شروع کر دیا تھا، اس فیصلے کی وجہ سے سینکڑوں مسیحی ادارے مسیحیوں سے چھین لیے گئے اور ان کے نام بدل کر ان کے ساتھ (سرکاری) لکھا جانے لگا۔

بھٹو حکومت کے اس فیصلے کو درست کہا جائے یا غلط اس کا جواب آپ کو مشنری اداروں کے پرانے طالبعلم ہی دے سکتے ہیں یا تب اور آج مشنری اداروں کے تعلیمی معیار میں نمایاں فرق دے سکتا ہے۔ اس وقت کی نیشنلائزیشن کا ایک دوسرا تاریک پہلو یہ تھا کہ مسیحیوں کو اپنے ہی اداروں میں بیگانوں جیسا سمجھا جانے لگا حتیٰ کہ کثیر تعداد کو اپنی نوکریوں سے بھی ہاتھ دھونے پڑے۔ بھٹو حکومت کی مسیحیوں کے ساتھ اس زیادتی کی وجہ مسیحی قوم میں غم و غصہ جیسی کیفیت پائی جاتی تھی۔

راولپنڈی کے غیور مسیحیوں نے پروفیسر سلامت اختر اور بہت سے دوسرے مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کی قیادت میں 30 اگست 1972 کو ایک پر امن احتجاج کرنے کا پروگرام بنایا۔ اپنے رہنماؤں کی کال پر اس وقت کے غیور مسیحی ہزاروں کی تعداد میں مری روڈ پر آن پہنچے اور ہر طرف یہ آواز گونج رہی تھی کہ ہمیں ہمارے ادارے واپس کیے جائیں۔ اس احتجاج کے نتیجہ میں اس وقت کے صدر ذوالفقار علی بھٹو نے پروفیسر سلامت اختر کو مذاکرات کے لیے بلایا اور خاموشی اختیار کرنے کی تلقین کی اور اس کے عوض پروفیسر سلامت کو ان کی مرضی کے مطابق نوازنے کی بھی آفر کی۔

پروفیسر سلامت نے بھٹو صاحب کی تمام باتیں سنیں اور کہا کہ آپ کا شکریہ لیکن مجھے میری ذات کے لیے کچھ نہیں چاہیے اور آپ سے فقط یہی درخواست ہے کے ہمارے ادارے ہمیں واپس کیے جائیں کیونکہ ہماری کمیونٹی کا مستقبل ان اداروں سے منسلک ہے۔ پروفیسر صاحب کی یہ باتیں ذوالفقار علی بھٹو کو ناگوار گزری اور کچھ ہی دیر بعد مسیحیوں کے پر امن احتجاج پر گولی چلانے کا حکم نامہ جاری کر دیا گیا۔ ہزاروں بے قصور، معصوم لوگ زخمی ہوئے، درجنوں کو گرفتار کیا گیا اور راولپنڈی کے دو بہادر سپوت آر ایم جیمز اور نواز مسیح نے جائز حقوق کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

اگلے دن کے اخبار میں ہمیشہ کی طرح، حالات کو معمول پر لانے کے لیے حکومت کی طرف سے وعدے کیے گئے اور دوسری طرف مسیحی رہنماؤں کو ڈرایا دھمکایا گیا۔ پروفیسر سلامت اختر کو بھی گرفتار کیا گیا اور ان کی فیملی پر طرح طرح کے ظلم کیے گے جیسے، بجلی کاٹ دینا، تنخواہ بند کر دینا اور رہائش سے دور دراز علاقوں میں ٹرانسفر کیا جاتا رہنا شامل ہے۔ 1972 میں پروفیسر صاحب نے خدا سے وعدہ کیا کہ اگر خدا نے انہیں دو بیٹوں سے نوازا تو وہ ان کے نام شہیدان راولپنڈی کے ناموں پر رکھیں گے وہ شہید جنہوں نے ان کی قیادت میں مسیحیوں کے حقوق کے لیے اپنی جان دی تھی۔

خدا نے پروفیسر سلامت اختر کی دعا سنی اور ان کو دو نہیں بلکہ تین بیٹوں سے نوازا اور آج بڑے دو بیٹے جیمزؔ اور نوازؔ کے نام سے پکارے اور جانے جاتے ہیں۔ وقت گزرتا گیا اور پروفیسر صاحب اداروں کی نیشنلائزیشن کے خلاف پر امن طریقے سے ہر ممکن پلیٹ فارم پر بات کرتے رہے۔ جب میں نے اپنی کالج کی تعلیم مکمل کی تو والد محترم کے ساتھ کچھ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور میں نے یہ محسوس کیا کے ہمارے والد کے پرانے دوست آہستہ آہستہ ان کا ساتھ چھوڑ گئے ہیں اور ان میں سے اکثر وہ تھے جنہوں نے اپنے ذاتی مفاد کی سیاست کرنے کو ترجیح دینا شروع کر دی تھی۔

میرے دوسرے بھائی سیاست سے تو مکمل دور ہیں لیکن سماجی کاموں میں تھوڑی بہت دلچسپی رکھتے تھے لیکن میں نے یہ فیصلہ کیا کہ میں اپنے والد کی سماجی اور سیاسی جدوجہد میں ان کی مدد کیا کروں گا، ان کے ساتھ مختلف تقریبات میں شرکت اور کبھی ان کے مضمون ٹائپ کرنا عادت بنتا جا رہا تھا۔ یوں سمجھ لیں کہ اسی وقت سے میری سیاسی تربیت شروع ہوئی تھی، دوسرے بھائی بھی جہاں ان کی مدد کی ضرورت پڑتی وہ ہمیشہ ہمارے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوتے تھے۔

آج جب پروفیسر صاحب عمر کے اس حصہ میں ہیں کہ وہ انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف اس طرح کام نہیں کر پاتے جیسے وہ کرنا چاہتے ہیں تو میں نے اپنے والد کے اس مشن کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا ہے۔ میں ان سے ہزاروں کلو میٹر دور ضرور ہوں لیکن میں ہر ممکن طریقے سے ان کے مشن کو آگے لے کر جانے کی کوشش کرتا ہوں۔ پروفیسر سلامتؔ صاحب کا اپنی کمیونیٹی اور پاکستان کے ساتھ محبت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ مسئلہ ہو جبری مذہب کے تبدیلی کا یا بھارت کی دھمکیوں کا تو مجھے فون آتا ہے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں، بھارت کو جواب دو۔

ان کی یہ باتیں میرے خون میں رچ بس چکی ہیں اور آج نواز سلامت اپنی کمیونیٹی کے حقوق اور پاکستان کی سلامتی کی بات سب سے پہلے کرنے کے حوالہ سے جانا اور پہچانا جانے لگا ہے۔ ہم پاکستان سے پیار کرنے والے لوگ ہیں اور اپنے اس ملک کے لیے ہم نے بھی اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ بہت قربانیاں دی ہیں اور آئندہ بھی اپنے ملک کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے گریز نہیں کریں گے۔ آخر میں اپنے مسلم بہن بھائیوں سے بھی درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ ہمیں آپ کی سپورٹ کی ضرورت ہے اور امید کرتا ہوں کہ آپ اسلام کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں کو برابر کے حقوق دلوانے اور ان کی جان و مال کی حفاظت کے لیے ہمارے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply