جب تحریک انصاف نے تبدیلی کا رستہ روک لیا
اگر میں کہوں کہ تبدیلی اور انصاف کے نعرے پر اقتدار میں آنے والی تحریک انصاف نے اپنے سیاسی بیانیے اور نعروں کے برعکس تبدیلی کے مواقع کو برباد کر دیا ہے، تبدیلی کے روشن امکانات کو مایوسی اور نا امیدی کے کالے سیاہ بادلوں میں کہیں غرق کر دیا ہے تو ہو سکتا ہے کہ خان صاحب کے جانثار جیالوں کے منہ سے فرط جذبات میں جھاگ ٹپکنے لگے، گردن اکڑ جائے، آنکھوں میں سرخی نمایاں ہونے لگے اور وہ ٹھنڈے دماغ سے حقیقت کا ادراک کرنے کی بجائے دشنام طرازی پر اتر آئیں جیسا کہ اختلاف یا حق بات کہنے پر تمام نام نہاد سیاسی جماعتوں اور قائد ین کے جیالے اسی طرح کے ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہیں اور بدقسمتی سے تحریک انصاف گالم گلوچ کے کلچر کو پروان چڑھانے میں دیگر روایتی جماعتوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
ہمارے ہاں اکثریت میں لوگ یہ سوچ کر سچ لکھنے یا بولنے سے گریزاں ہیں کہ سچ کوئی سننا نہیں چاہتا اور سچائی کا پرچار بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف ہے لیکن کسی قسم کے خوف کی وجہ سے حق اور سچ سے دستبردار ہو جانا بھی ایسی خودکشی کے مترادف ہے جس میں بندے کی سانسیں تو چلتی رہتی ہیں لیکن ضمیر رحلت فرما جاتے ہیں۔ امید ہے کہ تحریک انصاف کے کارکنان اور قائدین خفگی کے بجائے اس تحریر کو بطور اصلاح لیں گے۔
ویسے تو کرکٹ سے کنارہ کشی کے چار سال بعد ہی عمران خان صاحب نے اپنی سیاسی جماعت تحریک انصاف کی بنیاد رکھ دی تھی لیکن تحریک کو پذیرائی اکتوبر 2011 میں لاہور کے تاریخی مقام مینار پاکستان پر ایک کامیاب جلسے کے بعد ملنا شروع ہوئی۔ یہ ایک عظیم الشان عوامی اجتماع تھا، عوام کا جوش و جذبہ دیدنی تھا، خان صاحب نے ٹانگے والوں، رکشے والوں، ریڑھی والوں، کسانوں، مزدوروں کو سٹیج سے خوش آمدید کہا تھا۔ انہوں نے ببانگ دہل کہا کہ میں آج یہاں سے نئے پاکستان کا آغاز کرنے جا رہا ہوں پھر انہوں نے وہ تمام مسائل اور ان کی وجوہات بھی گنوا دیں جنہوں نے عوام کا جینا اجیرن کر رکھا تھا۔
مثلاً یہ کہ میں لوگوں کو تھانہ کلچر سے نجات دلاؤں گا پولیس کو غیر سیاسی بناؤں گا، گاؤں کے غریب لوگ جو با اثر لوگوں کی غلامی میں جکڑے ہوئے ہیں انہیں اس غلامی سے نجات دلاؤں گا، بلدیاتی اداروں کو مضبوط بناؤں گا، ملک کا پیسہ لوٹ کر باہر لے جانے والوں کا کڑا احتساب کروں گا اور دیگر کئی حقیقی مسائل کی نشاندہی کر کے انہوں نے عوام کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا تھا جس سے لوگوں کو یہ لگنے لگا کہ یہ بندہ ہمارے لئے نجات دہندہ ثابت ہو سکتا ہے۔
اس جلسے کے بعد لوگ جوق در جوق تحریک انصاف میں شامل ہونے لگے۔ خاص طور پر نوجوان تبدیلی کے نعرے کو لے کر خاصے پرجوش تھے۔ خان صاحب نے اپنی تقریروں میں عدل و انصاف، میرٹ، روزگار اور لٹیروں کے احتساب کی باتوں سے نوجوانوں کا لہو گرما دیا تھا۔ لوگ یہی سوچ رہے تھے کہ کرکٹ کی دنیا میں ملک کا نام روشن کرنے کے بعد یہ بندہ اب ملکی سیاست میں بھی عوام کو مایوس نہیں کرے گا۔ روایتی سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کے طرز سیاست سے اکتائے ہوئے لوگوں کو تحریک انصاف کی صورت میں ایک امید نظر آنے لگی، انہیں یہ لگنے لگا کہ شاید اب ان کے ووٹ کا تقدس پامال نہیں ہو گا، انصاف کا بول بالا ہو گا اور ایک درست سمت میں سفر کی شروعات ہو گی۔
دن گزرتے گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے تحریک انصاف قومی سطح پر ایک قومی جماعت کی حیثیت سے ابھرنے لگی۔ تحریک کی مقبولیت کو دیکھ کر دوسری جماعتوں کے موقع پرست کھلاڑیوں نے بھی تحریک انصاف کی ٹرین میں کودنا شروع کر دیا اور ستم دیکھیں کے خان صاحب نے ان موقع پرستوں کو تبدیلی کی ٹرین کی فرنٹ سیٹ پر اپنے ساتھ بٹھانا شروع کر دیا۔ شاید کسی نے خان صاحب کو یہ بات باور کرا دی تھی کہ دوسری جماعتیں چھوڑ کر آنے والے جیتنے کی صلاحیت رکھنے والے یہ نسلی گھوڑے انتخابی سیاست میں تحریک کے لئے قیمتی اثاثہ ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ لوگ ووٹروں کی صورت میں اپنے اپنے حلقوں سے ”جہیز“ بھی لے کر آئیں گے اور انتخابی انویسٹمنٹ کے لئے ان کے پاس مال و دولت بھی بہت ہے۔
پھر کیا تھا کسانوں مزدوروں کی بات کرنے والے خان صاحب نے یکسر پینترا بدل لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے تحریک انصاف سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کی ایک مضبوط جماعت بن گئی۔ دو ہزار اٹھارہ کے عام انتخابات میں بیشتر انہی لوگوں کو پارٹی ٹکٹ جاری کیے گئے جنہوں نے ماضی میں کئی جماعتیں بدلنے کے بعد تحریک انصاف میں پڑاؤ ڈالا تھا ان میں بیشتر لوگ پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے تھے۔ دو ہزار اٹھارہ کا انتخابی معرکہ سر کرنے کے بعد یہی لوگ خان صاحب کی کابینہ کا حصہ بنے۔
تحریک کے قائدین نے اپنے کارکنوں اور جیالوں کو بھی یہ باور کرانا شروع کر دیا کہ تحریک اگر نسلی گھوڑوں پر انحصار نہ کرے تو فرشتے کہاں سے آئیں گے اور ویسے بھی ٹیم کا کپتان اگر اچھا ہو دیانت دار ہو تو ٹیم اچھا ہی کھیلتی ہے اس لئے لوگوں کو زیادہ گہرائی میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس سب کا نتیجہ یہ ہوا کہ روایتی کھیل کے عادی کھلاڑیوں نے کپتان کو فلاپ کرا دیا۔ اگر کپتان نے اچھا کھیلنے کی کوشش کی بھی تو ٹیم نے اس کا ساتھ ہی نہیں دیا، کپتان نے اگر اچھی گیند بازی کا مظاہرہ کیا بھی تو فیلڈرز نے ساتھ نہیں دیا، کپتان نے اگر اچھی بلے بازی کا مظاہرہ کرنا چاہا بھی تو جوڑی داروں نے اسے رن آؤٹ کرا دیا یہاں تک کہ میچ میں انتہائی ناقص کارکردگی کپتان کے لئے سبکی کا باعث بن گئی۔
دوسری طرف تحریک انصاف کے جوشیلے کارکن غلط پالیسیوں پر قیادت کی گرفت کرنے کی بجائے، اس پر جائز سوالات اٹھانے کی بجائے سوشل میڈیا پر ان کے ہر اچھے برے اقدام کا دفاع کرنے لگے۔ ان میں بیشتر نوجوانوں کا تعلق کھاتے پیتے امیر گھرانوں سے ہے جو شہروں میں رہائش پذیر ہیں جبکہ اکثریت میں غریب آبادی کا تعلق دیہاتوں سے ہے جن کو صیح معنوں میں تبدیلی اور ریلیف کی ضرورت ہے۔
میں سمجھتی ہوں کہ اگر خان صاحب پارٹیاں بدلنے والے موقع پرست عناصر پر انحصار نہ بھی کرتے، اگر وہ سرمایہ داروں یا جاگیرداروں پر انحصار نہ بھی کرتے تو عوام کی حمایت اور اعتماد ان کے لئے اصل سرمایہ ثابت ہو سکتا تھا اور اس طرح پارٹی منظم اور متحد بھی رہ سکتی تھی کیونکہ ویسے بھی لوگوں کو پیپلز پارٹی اور لیگز سے ہٹ کر کسی تیسرے آپشن کی تلاش تھی لیکن تحریک انصاف نے روایتی طرز سیاست قبول کر کے جماعت کو اس درجے کی جماعت بنا ڈالا جہاں پیپلز پارٹی، نون لیگ اور تحریک انصاف میں فرق کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ تحریک انصاف پر سرمایہ داروں کی گرفت مضبوط دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ خان صاحب نے تبدیلی کا جو وعدہ کیا تھا وہ تبدیلی عوام کے لئے نہیں بلکہ طبقہ ”خواص“ کے لئے لائی گئی ہے کیونکہ عوام دشمن نظام کو مزید تقویت ملی ہے۔
گزشتہ دنوں سینٹ کے انتخابی معرکے میں بظاہر عددی اکثریت کے باوجود تحریک انصاف کا امیدوار عبدالحفیظ شیخ جب متحدہ اپوزیشن کے امیدوار یوسف رضا گیلانی سے ہار گیا تو خان صاحب اس پر خاصے برہم نظر آئے۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہ ان کے کچھ بندوں کو خریدا گیا ہے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا اعلان کر دیا۔ اگرچہ وہ اعتماد کا ووٹ جیت چکے ہیں اور ان کی وزارت عظمی بحال رہے گی لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ وہ خود کو اپنے ضمیر کے کٹہرے میں کھڑا کر کے خود سے پوچھیں کہ جب سیاست کا اخلاقیات سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں، جب سیاست خرید و فروخت، حرام خوری اور منافع خوری کا ہی دھندا ہے تو سیاست کے جوے میں اپنا بندہ ہار جانے پر ان کو اس قدر دھچکا کیوں لگا؟
اپنے نظریاتی کارکنوں کو نظرانداز کر کے جن موقع پرستوں کو انہوں نے نام نہاد تبدیلی کی ٹرین کی فرنٹ سیٹ پر بٹھایا تھا ان سے وہ یہ توقع کیسے کر رہے تھے کہ یہ ان کا آخری پڑاؤ ہو گا؟ بدبودار سیاست کی گنگا میں اشنان کے بعد وہ اجلی اور صاف ستھری سیاست کی توقع کیسے کر سکتے ہیں؟ اچھا ہوا کہ وزیراعظم صاحب نے اسمبلی کے اندر اعتماد کا ووٹ جیت لیا لیکن کاش وہ باہر کے حالات سے بھی واقف ہوتے، کاش انہیں اندازہ ہوتا کہ مہنگائی اور مسائل کے مارے لوگوں کا اعتماد بری طرح سے ڈگمگا رہا ہے، کاش انہیں اس بات کا اندازہ ہوتا کہ تحریک انصاف کی حکومت کی انتہائی مایوس کن کارکردگی نے انتہائی نامقبول پی ڈی ایم جماعتوں کے لئے رائے عامہ بدل کر رکھ دی ہے اور انہیں ایک بار پھر عوامی حلقوں میں پذیرائی ملنا شروع ہو گئی ہے، کاش خان صاحب خود کو ضمیر کے کٹہرے میں کھڑا کر کے یہ پوچھیں کہ انہوں نے حقیقی تبدیلی لانے کے بجائے تبدیلی کا رستہ کیوں روکا ہے؟


