چھ مارچ 1953: پہلے مارشل لاء سے جوتوں اور تھپڑوں کی سیاست تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چھ مارچ کو وزیر اعظم نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا۔ اور اسمبلی کی عمارت کے قریب ہی تحریک انصاف کے کارکنان وزیر اعظم پر اپنا اظہار اعتماد کر رہے تھے۔ اسی عمل کے دوران تحریک انصاف کے کارکنان نے مسلم لیگ نون کی ترجمان محترمہ مریم اورنگ زیب صاحبہ پر حملہ کر دیا۔ احسن اقبال صاحب پر جوتا پھینکا گیا۔ مصدق صاحب کو تھپڑ مارا گیا۔ شاہد خاقان عباسی صاحب پر بھی حملہ ہوا۔ جب سابق وزیر اعظم محترم شاہد خاقان عباسی صاحب اور مصدق ملک صاحب نے اس شخص کا پیچھا کیا تومحترمہ مریم اورنگ زیب صاحبہ پر حملہ کرنے والا ”رستم زماں“ بھاگتا ہوا بھی نظر آیا۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔ پہلے بھی دوسری سیاسی پارٹیاں اس قسم کی جوتم پیزار کی مرتکب ہوتی رہی ہیں۔ جوابی پریس کانفرنس میں محترمہ مریم نواز صاحبہ نے تحریک انصاف کو یہ خوش خبری سنا دی کہ ہم نے بھی جوتے پہنے ہوئے ہیں۔ اور ان میں سے بعض جوتے ہیل والے ہیں۔ اور فرمایا کہ ہم اسے بھولیں گے نہیں۔ یعنی یہ بیت بازی جاری رہے گی۔

شاید ملک میں یہ کسی نے یہ محسوس نہ کیا ہو کہ تحریک انصاف کے کارکنان نے یہ کارنامہ 6 مارچ کو سر انجام دیا ہے۔ اور 1953 کو اسی دن پنجاب کے وزیر اعلیٰ ممتاز دولتانہ صاحب اور پاکستان کے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین صاحب کے اختلافات کی وجہ سے لاہور میں مذہبی فسادات شدید سے شدید ترین ہو گئے۔ حالانکہ دونوں کا تعلق مسلم لیگ سے تھا۔ اس وقت پنجاب کی سڑکوں پر بنگالی وزیر اعظم کی تحقیر کے لئے ہر ممکن طریقہ استعمال کیا جا رہا تھا۔

خواجہ ناظم الدین صاحب کے خلاف جو تقریریں کی جا رہی تھیں ان میں یہ لوگ وزیراعظم کی تحقیر و تضحیک کے لئے بھوکا بنگالی، چٹو وٹا، تیل کا کپا، کچھو کمہ، بدھو، لعین، احمق جیسے الفاظ استعمال کر رہے تھے۔ سقوط ڈھاکہ جیسے سانحے ایک دو دن میں رو نما نہیں ہوتے۔ ایک طویل عرصہ پرمحیط غلطیوں کی کوکھ سے اس قسم کے سانحے جنم لیتے ہیں۔

[ملت 18 دسمبر 1953ء ص6، زمیندار 17 جنوری 1953ء ص 1، نوائے وقت 10 اکتوبر 1953ء]

ان فسادات کا یہ نتیجہ نکلا کہ 6 مارچ لاہور میں مارشل لاء لگ گیا۔ یہ پاکستان کا پہلا مارشل لاء تھا۔ کیا پھر یہ سلسلہ رک سکا؟ پھر وزیر اعلیٰ دولتانہ صاحب کو کرسی چھوڑنی پڑی۔ آخر کار کچھ ہی ماہ میں گورنر جنرل غلام محمد صاحب نے وزیر اعظم کو برطرف کر دیا۔ اسمبلی برطرف کر دی گئی۔ اور پھر یہ تاریخ کئی مرتبہ دہرائی گئی۔

فسادات: 1953

کیا یہ معمولی بات ہے؟ چند ممبران پارلیمنٹ پر حملہ ہوا۔ کچھ زد و کوب کیا گیا۔ بس بات ختم ہو گئی۔ اب ہم اس واقعہ کو بھول جائیں۔ کچھ دیسی دانشور اس عمل کی مذمت رہے ہیں کیونکہ وہ وزیر اعظم عمران خان صاحب کی طرح آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ نہیں ہیں۔ حالانکہ تاریخ میں ایسے طرز عمل کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔ اور ان کا انجام بھی واضح ہے۔

ساری دنیا اڈولف ہٹلر صاحب کی خدمات سے واقف ہے۔ انہوں نے بالعموم یورپ اور بالخصوص جرمنی کو بد عنوان سیاستدانوں سے پاک کرنے کے لئے گرانقدر خدمات سرانجام دی تھیں۔ 1929 میں جبکہ ابھی ان کی پارٹی اقتدار کی منزل سے بہت دور تھی اور ان کے پاس تین سو میں صرف بارہ سیٹیں تھیں۔ کہ اس پارٹی کے ایک ممبر نے ایک اور پرانے سیاستدان Heilman کے متعلق کہا تھا کہ ہم ان کو سر عام پھانسی دینے کی حمایت کرتے ہیں۔ اور نازی پارٹی نے ہنس کے اور نعرے لگا کر اس پر اظہار مسرت کیا تھا۔ اور ہٹلر کی نازی پارٹی وعدے پورا کرنا جانتی تھی۔ چنانچہ 1940 میں Heilmanکو قتل کر دیا گیا تھا۔

اور جب 1933 میں اکثریت نہ ہونے کے باوجود ہٹلر صاحب نے جرمنی کے چانسلر کا عہدہ سنبھال لیا۔ اور جرمنی کی پارلیمنٹ میں آگ لگی۔ تو کمیونسٹ پارٹی پر اس کا الزام لگا کریہ شور مچایا گیا کہ حقیقی جمہوریت کو ان سے خطرہ ہے اور ہٹلر کے قابل وزیر داخلہ ہرمین گورنگ نے کمیونسٹ پارٹی کے دفاتر پر ہلہ بول دیا اور چار ہزار سیاسی کارکنان کو گرفتار کر کے ان پر مقدمات چلائے گئے یعنی احتساب کے عمل کو تیز تر کر دیا۔ گلی گلی کمیونسٹ سیاسی کارکنان کے گھروں پر اور ان کے دفاتر پر حملے ہو رہے تھے۔

اس کا مقصد یہ تھا کہ ایک ماہ ہونے والے انتخابات میں وطن دشمن عناصر بھرپور حصہ نہ لے سکیں اور مثبت نتائج حاصل کرتے ہوئے نئی اسمبلی میں زیادہ سے صالحین جن کو اس وقت نازی کہا جاتا تھا ممبر منتخب ہو کر پہنچیں اور ایسا ہی ہوا۔ ہٹلر نے 1937 میں اعلان کیا تھا کہ مجھے دس سال دو تم جرمنی کو پہچان نہیں سکو گے۔ ایک مورخ نے اس پر طنز کیا تھا کہ ہٹلر نے اپنا وعدہ صرف آٹھ سال میں پورا کر دکھایا۔ واقعی جرمنی کو پہچاننا مشکل تھا کیونکہ سارا جرمنی کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا تھا۔

Nov. 10, 1938, the day after the “Kristallnacht” rampage, when Nazi thugs set fire to hundreds of synagogues, looted thousands of Jewish businesses and attacked Jews in Germany and Austria. 

ہٹلر کے ہم عصر اٹلی کے مسولینی اس مضمون کو خوب سمجھتے تھے ملک کی ترقی کے لئے غیر محب وطن بد عنوان سیاستدانوں کا قلع قمع ضروری ہوتا ہے۔ اٹلی میں ایک انتخابات میں مسولینی کی فاشسٹ پارٹی بھاری اکثریت سے ہار گئی اور اس کے صرف چند ہی ممبران اسمبلی میں پہنچ سکے۔ اسمبلی پہنچ کر جب مسولینی نے یہ دیکھا کے اسمبلی بد عنوان سیاستدانوں سے بھری ہوئی ہے تو اسے بہت افسوس ہوا۔ ایک ممبر اسمبلی Misianoنے پہلی جنگ عظیم میں اٹلی کی شرکت کی مخالفت کی تھی۔ مسولینی کے مصاحب ممبران نے ریوالور نکال کر اسے اسمبلی کے احاطے میں اغوا کر کے نکال باہر کیا۔ جلد ہی مسولینی کے ہزاروں کارکنان سیاہ قمیصیں پہن کر سڑکوں پر گھومتے نظر آتے تھے۔

اگر کوئی فاشسٹ پارٹی کے خلاف اخبار بھی لے کر نکلتا تو اس کو گھیرے میں لے لیا جاتا۔

اور اس کے بعد مخالف سیاسی کارکنان کو ہراساں اور زد و کوب کرنا ان کا محبوب مشغلہ بن گیا۔ یہ سب کچھ اس نعرے کے تحت کیا جا رہا تھا کہ وہ اٹلی کی تطہیر کر رہے ہیں۔ اور مختلف ممبران اسمبلی کا اغوا س تطہیر کے عمل کا ایک اہم حصہ تھا۔

(Enter Musslonin by Emilio Lussu)

خلاصہ کلام یہ کہ سیاسی عمل میں جب دلیل کی جگہ جوتوں گھونسوں گالیوں اور تھپڑوں کا استعمال شروع ہو جائے تو پھر یہ سلسلہ یہاں پر رک نہیں جاتا۔ ایک مرحلہ پر گولیاں چلتی ہیں۔ اغوا اور قتل و غارت کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ پھر یہ بد نصیبیاں مارشل لاء، نازی راج اور فاشسٹ راج جیسے عفریتوں کو جنم دیتی ہیں۔

تاریخ شاہد ہے کہ پاکستان کی بقا اور استحکام مسلسل سیاسی عمل سے وابستہ ہے۔ دنیا بھر میں ہر قسم کے اچھے اور برے سیاستدان اسمبلیوں میں پہنچتے ہیں۔ ان پر بد عنوانیوں بلکہ سنگین بد عنوانیوں کے الزامات بھی لگتے ہیں۔ لیکن پاکستان کے علاوہ کسی اور ملک میں یہ نعرہ نہیں لگایا جاتا کہ سیاسی نظام تو ناکام ہو گیا۔ اب ان لوگوں کو سیدھے راستے پر رکھنے کے لئے کوئی اور طریقہ کار استعمال کرنا چاہیے۔ تین دہائیوں کے ناکام تجربات کا نتیجہ یہ ہے کہ ”کوئی اور طریقہ کار“ کبھی کامیاب نہیں ہوا۔

سیاسی عمل کو جاری رکھنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ دلیل کی جگہ جوتے تھپڑ اور گھونسے نہ استعمال کیے جائیں۔ تہذیب کے دائرے میں رہ کر بھی ایک دوسرے سے ہر طرح کا اختلاف بلکہ شدید اختلاف کیا جا سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply