عورت مارچ یا غارت مارچ
مارچ کا مہینہ شروع ہوتے ہی عورت مارچ کا بول بالا شروع ہو جاتا ہے۔ کوئی اس کے حق میں بولتا دکھائی دیتا ہے تو کوئی اس کے خلاف۔ اس امر میں کوئی ممانعت نہیں ہے کہ عورتوں کو ان کے حقوق ملنے چاہئیں۔ ہمارا مذہب اسلام وہ مذہب ہے جس میں تمام مذاہب سے زیادہ عورتوں کے حقوق پر زور دیا گیا ہے۔ جو ہمیں عورتوں کا احترام اور ان کے حقوق پورے کرنے کا درس دیتا ہے۔ عورت معاشرے کی عزت ہے ، اس کے بغیر معاشرہ نہیں چل سکتا۔ اس لیے عورت مارچ پر اعتراض نہیں البتہ عورت مارچ کے طریقۂ کار پر اعتراض کیا جاسکتا ہے۔
اگر عورتوں کو ان کے حقوق کے لیے مارچ کرنا ہے تو ضرور کریں ، ہم جس ملک میں رہ رہے ہیں اس کے کچھ معاشرتی اصول اور اقدار بھی ہیں۔ اسلام نے اس کے لیے طریق کار بھی وضع کیے ہیں۔ لیکن عورت مارچ میں جس طرح کے نعرے لگائے جاتے ہیں وہ اسلامی اقدار و اصول کو روندنے کے مترادف ہیں۔ جو لوگ عورت مارچ کے لیے ایجنڈا اور منشور وضع کرتے ہیں وہ درحقیقت عورت کے حقوق کی مخالفت کر رہے ہیں۔ عورت مارچ میں جس قسم کے نعرے لگائے جاتے ہیں ان کو بیان کرنابھی مشکل ہے۔
جہاں اسلام نے عورتوں کو اتنے حقوق دیے ہیں وہیں انہیں پردے کا حکم بھی دیا ہے لیکن کیا یہ ”میرا جسم میری مرضی“ کا نعرہ لگاتی ہوئی اپنے حقوق کا حصول چاہتی ہیں۔ یہ ”عورت مارچ“ نہیں بلکہ ”غارت مارچ“ ہے جو معاشرے کو اس تباہی کی جانب دھکیلنے کی طرف گامزن ہے جس کا ہمیں اندازہ نہیں ہے۔ کیا اس طرح سے یہ سڑکوں پر حیاء کے پردے کو داغدار کر کے اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گی؟
نہیں! اور کیا یہ عورتیں پورے پاکستان کی عورتوں کے لیے ایسا کرتی ہیں؟ نہیں! یہ وہ چند عورتیں ہیں جو مغربی اقدار کو ہمارے اسلامی اصولوں پر فوقیت دینا چاہتی ہیں اور وہ اس میں ناکام رہیں گی۔ اور یہ سارے معاملات ان عورتوں کے ساتھ پیش آتے ہیں جو اپنا دین، ثقافت، روایات سے بہت دور جا چکی ہیں اور ایسے مطالبات اور قوانین کے حصول کے لیے اس طرح سے باہر نکلتی ہیں ، میری رائے میں یہ سب مطالبات اسلامی اقدار و اصول سے ہٹ کر ہوتے ہیں۔
ہمارے ملک میں عورتوں کے حقوق کی آئین پاکستان نے بھی ضمانت دے رکھی ہے۔ ان حقوق کے استحصال کو روکنے کے لیے مزید سخت قوانین کو نافذ کیے جانے کے مطالبے کے لیے عورت مارچ کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے لیے بھی ایک مخصوص طریق کار اپنایا جانا چاہیے جو معاشرے میں اخلاقی، اصلاحی، معاشرتی، اسلامی اقدار کو پروان چڑھانے میں معاون ثابت ہو سکے۔


