خواتین کا عالمی دن اور اسلام میں خواتین کی اہمیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر سال 8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن خواتین کی سماجی، معاشی، ثقافتی اور سیاسی کامیابیوں کو منانے کے لئے منایا جاتا ہے۔ آخر 8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن کیوں منایا جاتا ہے؟ خواتین کے عالمی دن کو ایک صدی سے زیادہ عرصے سے منایا جاتا ہے۔ اس کی پہلی جھلک 1909 میں دیکھی گئی جب امریکہ کی سوشلسٹ پارٹی نے 15 ہزار خواتین نے نیویارک شہر میں طویل کام کے اوقات، کم تنخواہ اور ووٹنگ کے حقوق کے فقدان کے خلاف مظاہرہ کیا۔

1910 میں، کوپن ہیگن میں محنت کش خواتین کی بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی۔ اسی جگہ پر اس خیال کی تجویز جرمنی میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے لئے خواتین کے دفتر کی رہنما، کلارا زیٹکن نے پیش کی تھی۔ 1913 اور 1914 کے درمیان روس میں خواتین نے اپنا پہلا یوم خواتین 23 فروری کو منایا۔ بعد ازاں یہ فیصلہ کیا گیا کہ 8 مارچ کو عالمی سطح پر منایا جانا چاہیے۔ تب سے اب تک ہر سال تمام ممالک میں 8 مارچ کا دن بطور خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔

آخر خواتین کا عالمی دن منانے کی ضرورت کیوں پڑی؟

تاریخ گواہ ہے کہ ایک عرصہٴ دراز سے عورت مظلوم چلی آ رہی تھی۔ یونان میں، مصر میں، عراق میں، ہند میں، چین میں، غرض ہر قوم میں ہر خطہ میں کوئی ایسی جگہ نہیں تھی، جہاں عورتوں پر ظلم کے پہاڑ نہ ٹوٹے ہوں۔ لوگ اپنے عیش و عشرت کی غرض سے اس کی خرید و فروخت کرتے ، ان کے ساتھ حیوانوں سے بھی برا سلوک کیا جاتا تھا، حتیٰ کہ اہل عرب عورت کے وجود کو موجب عار سمجھتے تھے اور لڑکیوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے۔

ہندوستان میں شوہر کی چتا پر اس کی بیوہ کو جلایا جاتا تھا۔ اسے حقیر و ذلیل نگاہوں سے دیکھا جاتا تھا۔ اس کے معاشی و سیاسی حقوق نہیں تھے، وہ آزادانہ طریقے سے کوئی لین دین نہیں کر سکتی تھی۔ وہ باپ کی ، پھر شوہر کی اور اس کے بعد اولاد نرینہ کی تابع اور محکوم تھی۔ اس کی کوئی اپنی مرضی نہیں تھی اور نہ ہی اسے کسی پر کوئی اقتدار حاصل تھا، یہاں تک کہ اسے فریاد کرنے کا بھی حق حاصل نہیں تھا۔

دنیا میں مذہب اسلام کی آمد عورت کے لیے غلامی، ذلت اور ظلم و استحصال کے بندھنوں سے آزادی کا پیغام تھی۔ اسلام نے خواتین کو اتنے حقوق دیے ہیں جو شاید ہی دنیا کے کسی اور مذہب میں دیے گئے ہوں۔ مرد و عورت کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر کا استحقاق برابر قرار پایا۔ ان دونوں میں سے جو کوئی بھی کوئی عمل کرے گا، اسے پوری اور برابر جزا ملے گی۔ ارشاد ربانی ہے : ”ان کے رب نے ان کی التجا کو قبول کر لیا (اور فرمایا) کہ میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کروں گا، چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔ تم سب ایک دوسرے میں سے ہی ہو۔“ (القرآن، آل عمران، 3 : 195 )

معاشرے میں عورت کی عزت و احترام کو یقینی بنانے کے لیے اس کے حق عصمت کا تحفظ ضروری ہے۔ اسلام نے عورت کو حق عصمت عطا کیا اور مردوں کو بھی پابند کیا کہ وہ اس کے حق عصمت کی حفاظت کریں:

” (اے رسول مکرم! ) مومنوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ ان کے لیے پاکیزگی کا موجب ہے۔ اللہ اس سے واقف ہے، جو کچھ وہ کرتے ہیں o“ (القرآن، النور، 24 : 30 ) اور پھر اسی طرح ارشاد فرمایا ”اور (اے رسول مکرم! ) مومنہ عورتوں سے کہہ دو کہ (مردوں کے سامنے آنے پر) وہ اپنی نظریں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت و آرائش کی نمائش نہ کریں سوائے جسم کے اس حصہ کو جو اس میں کھلا ہی رہتا ہے۔“ (القرآن، النور، 24 : 31 )

خدا تعالیٰ نے کس قدر خوبصورتی سے مردوں اور عورتوں کو ایک دوسرے کی عزت و عصمت کے بارے میں حکم فرما دیا۔ اسلام نے قانون کے نفاذ میں بھی عورت کے اس حق کو مستحضر رکھا۔ خلفائے راشدین کا طرز عمل ایسے اقدامات پر مشتمل تھا جن سے نہ صرف عورت کے حق عصمت کو مجروح کرنے والے عوامل کا تدارک ہوا بلکہ عورت کی عصمت و عفت کا تحفظ بھی یقینی ہوا۔

مگر انتہائی افسوس سے کہنا پڑرہا ہے کہ آج کے پاکستان کے اسلامی معاشرے میں کیا کچھ ہو رہا ہے؟ ادھر دو گروپ بنے ہوئے ہیں ۔ ایک عورت مارچ کے نام سے جانا جاتا ہے اور ایک حیا مارچ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے دونوں گروہ ایک دوسرے کو برا کہنے میں مصروف عمل ہیں، کبھی سڑکوں پر ایک دوسرے کے خلاف نظر آتے ہیں اور کبھی میڈیا چینلز پر گالم گلوچ کرتے نظر آتے ہیں ، رہی سہی کسر سوشل میڈیا پر پوری ہو جاتی ہے اور حقیقی طور پر خدا اور اسلام نے جو بنیادی اور مساوی حقوق خواتین کو دیے ہیں ، وہ سب کچھ نظر انداز کر دیے گئے ہیں۔

یہ دونوں گروہ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے میں مصروف ہیں۔ مرد عورت کو گالی دیتا ہے اور عورت مرد کو وحشی تصور کرتی ہے ۔ کوئی بھی اپنے گریبان میں نہیں دیکھتا۔ ایک مشہور پنجابی بول کا مفہوم ہے کہ پانی کو گندا کہنے سے پہلے اپنے ہاتھ کی میل کو دیکھ لینا چاہیے۔ اگر مرد اور عورت ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں اور اگر کوئی ایک کچھ غلط کرتا ہے تو صبر یا درگزر کر کے آگے چلنے کی کوشش کی جائے تو ایک بہترین معاشرہ بن سکتا ہے۔

آئیں ہم مرد اس بار خواتین کے عالمی دن پر اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ ہم اس معاشرے میں رہنے والی تمام خواتین کو سماجی، معاشی، ثقافتی اور سیاسی طور پر مردوں کے شانہ بشانہ مقام دینے کے لیے جدوجہد کریں گے اور ان کی حوصلہ افزائی کریں گے تاکہ ایک مثالی معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *