ہم سب کے لکھنے والوں سے مدیر کی معروضات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”ہم سب“ کے سب لکھنے والے محترم ہیں۔ ان کی ہر تحریر ہمارے لئے باعث تکریم ہے۔ چند نکات عرض گزار کرنا چاہتا ہوں۔

ہمارے بیشتر لکھنے والے نوجوان ہیں اور ان کی تعلیم انگریزی زبان کے غالب اثر میں ہوئی ہے۔ کسی کو الزام دینا مقصود نہیں۔ ناگزیر طور پر کچھ غلطیاں ہماری اردو میں چلی آئی ہیں۔ درویش کو لسانی ناسخیت یعنی بال کی کھال اتارنے کا شوق نہیں۔ یہ بھی واضح ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہر زبان کا لہجہ بدلتا رہتا ہے۔ زبان اپنے عہد کی شناخت بھی تو ہوتی ہے۔ کچھ غلطیاں البتہ ایسی در آئی ہیں جنہیں اگر معمولی توجہ دے دی جائے تو کوئی ہرج نہیں۔ یہ غلطیاں محض بدلتے ہوئے زمانے کی علامت نہیں، ایسی غلطیاں ہیں جن کا دفاع ممکن نہیں۔ آپ سے مرصع زبان کا تقاضا نہیں لیکن زبان کم از کم درست تو ہونی چاہیے۔

بہت سے عزیز ”کہ“ اور ”کے“ میں فرق نہیں کرتے۔ معمولی سا معاملہ ہے۔ اگر آپ ذرا سی توجہ دیں تو ایڈٹ کرنے والے کا کام آسان ہو جائے گا۔ اگر آپ کسی کو بتائیں نہیں تو ایڈٹ کرتے وقت میری زیادہ توجہ دو نکات پر ہوتی ہے۔ مذہب کے بارے میں کوئی غیر محتاط جملہ نہ ہو۔ قومی سلامتی کے اداروں کے بارے میں کوئی قابل گرفت بات نہ کہی جائے۔ ایسے میں ”کہ“ اور ”کے“ جیسی غلطیاں درست کرنے پر جو وقت صرف ہوتا ہے اس سے کوفت ہوتی ہے۔

”نذر“ اور ”نظر“ دو مختلف لفظ ہیں۔ خدا جانے کس شمس العلما نے نذر آتش کو نظر آتش لکھنے کی روایت رائج کی۔ ممکن ہے آپ اسے معمولی سمجھتے ہوں لیکن ہم سب کو بہت سے حقیقی عالم فاضل افراد بھی پڑھتے ہیں۔ سبکی کا اندیشہ رہتا ہے، ہمیں ایسی سامنے کی غلطی درست کرتے ہوئے وقت اور توانائی کے زیاں کا احساس ہوتا ہے۔ مضبوط کو ”مضبوط“ ، طنز کو ”تنز“ اور فائز کو ”فائض“ لکھنا آپ جیسے صاحبان علم کو زیب نہیں دیتا۔ گردن زدنی کا مطلب ہے جس کی گردن مارنا واجب ہو۔ ”قابل گردن زدنی“ کوئی ترکیب نہیں۔ ”استفادہ کرنا“ درست ہے۔ ”استفادہ حاصل کرنا“ لاحاصل اور لایعنی ہے۔

عوام اسم جمع اور مذکر ہے۔ جن سیاسی رہنماؤں اور دفاعی تجزیہ کاروں کی جوانی بھارتی فلمیں دیکھتے گزری ہے وہ اگر عوام کو جنتا کی طرح اسم واحد مونث کہتے اور لکھتے ہوں تو انہیں معاف کر دینا چاہیے۔ لیکن درست یہی ہے کہ عوام کہتے ہیں۔ ”عوام کہتی ہے“ لکھنا اور بولنا غلط ہے

ایک خرابی کچھ گناہ آلود ضمیر رکھنے والے دانش وروں کے طفیل در آئی ہے۔ لکھتے ہیں، میرا خدا، میرا وطن۔ خدا اور وطن پر کسی کا ذاتی اجارہ نہیں۔ اور اس طرز بیان سے ناجائز خود ستائی بلکہ خود آرائی کی بو آتی ہے۔ ہمارا خدا اور ہمارا وطن لکھنا بہتر ہے۔

سیاسی اور معاشرتی مکالمہ ہم سب کی ذاتی ثقافتی، مذہبی اور لسانی شناخت سے ماورا ہوتا ہے۔ سیاسی اور معاشرتی معاملات پر رائے دیتے ہوئے اگر مذہبی دلائل سے اجتناب کیا جائے تو یہ تہذیب سے قریب تر ہے۔ ہمیں ایسا فرض کرنے کا کوئی حق نہیں کہ پڑھنے والا یا پڑھنے والی ان عقائد کے ماننے والے ہیں جو ہمارے لئے حکم کا درجہ رکھتے ہیں۔ آپ کو اپنے عقائد کو درست سمجھنے اور اور ان پر عمل پیرا ہونے کا پورا حق ہے لیکن سیاسی اور معاشرتی امور پر رائے دیتے ہوئے مذہبی دلائل سے اجتناب بہتر ہوتا ہے۔ اس سے ایمان کی تقدیس مجروح ہونے کا اندیشہ بھی ہوتا ہے کیونکہ اگر پڑھنے والوں کے عقائد مختلف ہوئے تو ہماری تقدس مآب دلیل اپنا وزن کھو بیٹھے گی۔ معاشرے میں ناگزیر طور پر عقائد کی رنگا رنگی پائی جاتی ہے۔ چنانچہ عوامی مکالمے میں عقائد کے بیان سے غیر ضروری تلخی کا اندیشہ رہتا ہے۔ سیاسی اور معاشرتی امور میں دوسروں کے ایمان پر بھروسا کرنے کی بجائے قابل مکالمہ منطق اور قابل تصدیق شواہد کو بروئے کار لانا بہتر ہوتا ہے۔

ایک درخواست یہ کہ لکھنے کے بعد ایک دفعہ اپنی ہی تحریر کو دوبارہ پڑھ لیا کریں۔ املا، امالہ اور استدلال کی بیشتر غلطیاں آپ خود ہی ٹھیک کر لیں گے۔ آپ کو ایک تحریر لکھنا ہوتی ہے۔ ایڈٹ کرنے والے کو دن میں 40 سے 50 تحریریں دیکھنا ہیں۔ اگلے روز ایک قابل احترام خاتون نے عجب بانکپن میں لکھ دیا کہ ”کیا ایڈٹ کرنا ادارے کی ذمہ داری نہیں؟“ نامعلوم انہوں نے یہ اصول کس کتاب سے اخذ کیا۔ اگر تحریر واقعاتی طور پر محل نظر ہو، گرامر کے اعتبار سے مخدوش ہو، املا کی غلطیوں سے لبریز ہو اور سب سے بڑھ کر یہ کہ استدلال کمزور اور بیان بے ربط ہو تو ایسی تحریر بغیر کسی تردد کے ردی کی ٹوکری میں ڈال دینا ادارے کا حق ہی نہیں، فرض بھی ہے کیونکہ پڑھنے والوں کے صبر کا امتحان لینا کہاں کی شرافت ہے؟

آخری گزارش یہ کہ ہم سب کو اپنی تحریروں سے عزت دیتے رہیے۔ ادارہ ہم سب اپنے سب لکھنے والوں کے تعاون کا شکر گزار ہے۔ ”ہم سب“ کی توقیر آپ جیسے مہربان لکھنے والوں ہی کے طفیل استوار ہوتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply