پی ڈی ایم کے اگلے اہداف اور کپتان کی حکمت عملی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سینیٹ الیکشن کا ہنگام اختتام پذیر ہوا مگر بیانات کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سینیٹ انتخابات میں دارالحکومت کی نشست پر برسراقتدار جماعت کو شکست دینے والے پہلے امیدوار بن گئے۔ بلاشبہ یہ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ درحقیقت یہ کامیابی ایک ایسی حکومت کے خلاف ہے جس کے بارے میں عمومی تاثر ہے کہ یہ اسٹیبلشمنٹ کی منظور نظر ہے۔ حکومتی اکابرین خود بھی مقتدر قوتوں کے ساتھ ایک صفحے کی گردان کرتے نظر آتے ہیں۔

سینیٹ انتخابات چاروں صوبوں میں تھے مگر مرکز نگاہ اسلام آباد کی وہ نشست تھی جس پر سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور مختلف حکومتوں میں وزیرخزانہ رہنے والے وفاقی وزیر عبدالحفیظ شیخ مدمقابل تھے۔ اس نشست پر جیت اور ہار سے حکومت اور پی ڈی ایم پر الگ الگ اثرات مرتب ہونا تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ایک نشست پر سینئر کالم نگار اور تجزیہ کار کالمز اور ٹی وی سکرینوں پر اپنے اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے۔ مختلف توجیہات کی بنیاد پر سینئر تجزیہ کاروں کی اکثریت کا خیال تھا کہ گیلانی صاحب فتحیاب نہیں ہوں سکیں گے مگر کچھ ایسے بھی تھے جو پہلے دن سے پراعتماد تھے کہ جیت یوسف رضا گیلانی کی ہی ہو گی۔ انہی میں سے ایک ہمارے ہر دلعزیز ’وسی بابا‘ بھی ہیں۔

وسی بھائی کا اعتقاد نامزدگی کے دن سے نتیجہ آنے تک گیلانی صاحب کی جیت کے حوالے سے بندھا رہا۔ ناچیز کا شمار سینئر تجزیہ کاروں میں تو نہیں ہوتا مگر کچھ وجوہات کی بنا پر مجھے بھی مصمم یقین تھا کہ گیلانی صاحب ہی فتحیاب ہوں گے اور اس کا اظہار میں اپنے ٹویٹس میں بھی کرتا رہا ہوں۔

یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ حزب اختلاف کی اس کامیابی نے حکومت کے مضبوط قلعہ میں ایک بھرپور دراڑ ڈال دی ہے۔ اس کامیابی نے سیاسی صورتحال میں نشیب و فراز کو ڈرامائیت میں بدل دیا۔ حالیہ ضمنی انتخابات میں حکمران اتحاد کی شکست کے بعد سینیٹ کی یہ سیٹ مرکز نگاہ تھی۔ گیلانی صاحب کی جیت نے اس تاثر کو تقویت بخشی کہ حکومت اندر سے کھوکھلی ہو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شکست کا تاثر اور لہجے کی لرزش زائل کرنے کے لئے وزیراعظم عمران خان کو قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینا پڑا ہے۔ اپنے ہی ممبران سے اعتماد کا ووٹ حاصل کر کے وزیراعظم عمران خان نے منصب تو بچا لیا مگر حکومتی ساکھ متزلزل ہو چکی ہے۔

پی ڈی ایم کی حکمت عملی پر غور کریں تو گمان ہوتا ہے کہ وہ یکلخت حکومت گرانے کی بجائے اسے مرحلہ وار کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے اگلے اہداف چیئرمین سینیٹ کی نشست جیتنا، پنجاب حکومت گرانا اور اسپیکر قومی اسمبلی کی سیٹ پر نظر آ رہے ہیں۔ کراچی میں فیصل واوڈا کے استعفیٰ سے خالی ہونے والی نشست این اے دو سو انچاس (NA 249 ) بھی حکومت کے لئے درد سر بنتی نظر آ رہی ہے۔ یہ سیٹ واپس جیتنا وفاقی حکومت کے لئے آزمائش کی وہ منزل ہے جس تک پہنچتے پہنچتے شاید انھیں دانتوں پسینہ آ جائے۔ ڈسکہ میں مسلم لیگ (ن) کی جیت حکومت پر مزید دباؤ بڑھانے کا سبب بن سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اپوزیشن یہ اہداف کیسے حاصل کرے گی۔

اپوزیشن اتحاد کی ڈرائیونگ سیٹ پر اس وقت پیپلز پارٹی براجمان ہے۔ آصف زرداری اپنی حکمت عملی سے نہ صرف تمام قائدین کو قائل کر رہے ہیں بلکہ مطلوبہ نتائج بھی حاصل کر رہے ہیں۔ بزرگ سیاستدان جاوید ہاشمی نے کہا تھا کہ زرداری صاحب کی سیاست سمجھنے کے لئے پی ایچ ڈی کرنی پڑے گی۔

دو کشتیوں کا سوار منزل پر نہیں پہنچ پاتا مگر آصف زرداری بیک وقت کئی کشتیوں میں سفر کر رہے ہیں۔ وہ سندھ حکومت میں بھی ہیں، ان کے موجودہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بھی اچھے روابط ہیں اور اپوزیشن اتحاد میں بھی انھیں نمایاں مقام حاصل ہے۔ دوسری جانب مولانا فضل الرحمٰن اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی سیاسی بصیرت سے کسی کو انکار نہیں۔ اہداف کے حصول کے لئے ان سب کی سیاسی حکمت عملی بہت دلچسپ ہے۔ ایک طرف کچھ قائدین اسٹیبلشمنٹ پر نشانہ لگا کر حکومت کو الجھاتے ہیں اور دوسری طرف کچھ قائدین ہدف کے حصول میں مصروف نظر آتے ہیں۔ اسلام آباد کی نشست اس حکمت عملی کا عملی ثبوت ہے۔

اسلام آباد کی نشست کے بعد چیئرمین سینیٹ کا معرکہ حکومت اور اپوزیشن کے لئے نیا امتحان ہے۔ سینیٹ میں اس وقت حزب اختلاف کو معمولی برتری حاصل ہے مگر حکومت بھی اسلام آباد کی شکست کا داغ دھونے کو بے چین ہے۔ اس نشست پر اپوزیشن جماعتوں کی کامیابی ہچکولے کھاتی حکومتی کشتی میں گہرا شگاف ڈال دے گی۔ بیساکھیوں پر چلتی حکومت سیاسی عدم استحکام کا شکار ہو جائے گی۔

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ کے مصداق حالیہ شکست منقسم مزاج عمران خان کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ نرگسیت کے شکار عمران خان کا مشکل وقت شروع ہو چکا ہے۔ ضروری ہے کہ وہ انتقامی کارروائیوں کی بجائے گورننس میں بہتری کے اقدامات پر توجہ دیں۔ انھیں یہ سمجھنا چاہیے کہ نہ صرف اقتدار کا ہما ان کے سر سے اڑنے کے لئے پر تول رہا ہے بلکہ ان کے پیروں تلے اقتدار کی زمین بھی سرک رہی ہے۔ راج شاہی کی وہ کرسی جو ان کے لئے پھولوں کا سنگھاسن تھی اب ان کے لئے وہ کانٹوں کا بستر بننے والی ہے۔ حبیب جالب نے ایسے ہی لوگوں کے لئے کہا ہے

تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا
اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا

آج سوئے ہیں تہ خاک نہ جانے یہاں کتنے
کوئی شعلہ کوئی شبنم کوئی مہتاب جبیں تھا

اپوزیشن کی کامیاب حکمت عملی سے اسٹیبلشمنٹ اس حکومت کو اپنے لئے بوجھ سمجھ رہی ہے۔ اس شکست سے انھیں سبق سیکھنا ہو گا کہ وہ واحد انتخاب نہیں رہے ہیں۔ وقت ان کی مٹھی سے ریت کی مانند سرک رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اگر اس شکست سے سبق نہ سیکھا تو کمزور ہوتی حکومت آخری ہچکیوں تک پہنچ جائے گی۔ اپوزیشن نہ صرف اپنے تمام اہداف حاصل کر لے گی بلکہ بلاول پاکستان کے کم عمر ترین وزیراعظم بھی بن سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply