عورت مارچ میں کیا خرابی ہے؟
آٹھ مارچ کو عورت مارچ اور میرا جسم میری مرضی ایسے الفاظ اور سلوگنز پر اچھا خاصا چرچا ہوتا ہے۔ ہم سب کو معلوم ہے کہ ہم یہ دن کیوں مناتے ہیں۔ یہ دن آٹھ مارچ کے دن کیوں منایا جاتا اس کی اپنی ایک تاریخ ہے۔
آٹھ مارچ امریکہ کی ان خواتین کارکنوں کی یاد میں منایا جاتا ہے جو نا گفتہ بہ حالات میں گارمنٹس کے کارخانوں میں کام کرتی تھیں اور وہاں اکثر آگ لگنے کی وجہ سے سینکڑوں کی تعداد میں اپنے جان سے جاتی تھیں۔
اس دن کو خواتین کے عالمی دن کے طور پر پوری دنیا میں منایا جاتا ہے اور ملک بھر میں تحریک نسواں اور انسانی حقوق کے لوگ، تنظیمیں اور سرگرم گروہ خواتین کے حقوق، اور ان سے جڑے مسائل کی پرچار کے لیے مختلف مجالس منعقد کرتے ہیں۔
عورت مارچ کچھ سالوں سے ایک ایسی سرگرمی کے طور پر مشہور ہوا جس پر میرا جسم میری مرضی کے سلوگن کی ایسی چھاپ ہو گئی ہے جیسے اس جملے نے آٹھ مارچ یا خواتین کا عالمی دن کی جگہ لے لی ہو۔
میرا جسم میری مرضی کے سلوگن میں کیا برائی ہے کہ اس پر نہ صرف مرد حضرات اعتراض کرتے ہیں بلکہ کافی عورتیں اور حتیٰ کہ سرگرم کارکن جو کہ خود سے اس دن کی اہمیت کو مانتی ہیں لیکن اس دن مارچ منعقد کرنے کے انداز سے اختلاف رکھتی ہیں۔
معاشرتی زندگی میں اختلاف رکھنا ایک خدا داد (تحفہ) ہے اور بہت سارے لوگ اسی کی وجہ سے یہ سمجھتے ہیں کہ انسانوں کی سماج میں ترقی ممکن ہوئی ہے کیونکہ یہ انسان کو منطق کا استعمال سکھاتا ہے، دلائل سے اپنا نکتہ بیان کرنے اور دوسروں کو اپنی بات کا قائل کرنے اور سماج کو بہتر کرنے کی راہیں دکھاتا ہے۔ لیکن خاص طور پر اعتراض اس سلوگن پر کیوں؟
کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ یہ الفاظ عورت کے منہ سے نکلے ہیں۔ اگر یہ کسی مرد نے کہہ دیے ہوتے تو ممکن تھا اس پر اعتراض نہ کیا جاتا۔ وہ خواتین جو عورت مارچ کے اس انداز میں منانے کو اچھا نہیں سمجھتی ہیں شاید ان کا بھی نکتہ نگاہ یہ ہے کہ عورت گھر میں اچھی لگتی ہے اور سڑکوں پر اس طرح کے نعرے بازی سے شاید اس کے احترام میں کمی آ سکتی ہے۔ یا اس خیال نے بھی ذہن پر غلبہ جمایا ہوا ہے کہ مرد اس پر ردعمل کے طور پر ایک نئے انداز میں حملہ آور ہو سکتے ہیں اور تحریک نسواں جس کے بارے میں عمومی رائے یہ ہے کہ اچھی اور مدبر خواتین کے ہاتھوں میں ہے ، اس طرح کرنے سے اس تحریک کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
میرا جسم میری مرضی کہیں اتنا طاقت ور تو نہیں ہے کہ اس نے اس مائنڈ سیٹ کو چیلنج کر دیا ہے اور بہت سارے جو اس مائنڈ سیٹ کے ساتھ جڑے ہیں ، وہ اس سلوگن اور مارچ سے اپنی ہار محسوس کرتے ہیں۔ ایک مشہور فیمنسٹ کے الفاظ یاد آتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں ”کس نے کہا کہ مرد اپنی عزت عورت کے پلو میں باندھے“ ۔ کیونکہ ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ مردوں کو گندے الفاظ (گالی) سے کچھ نہیں ہوتا لیکن اگر یہی الفاظ ان کے گھر کی عورت کے لیے استعمال ہوں تو جلدی غصے اور طیش میں آ جاتا ہے اور لڑائی کے تیار ہو جاتا ہے۔
عورت واقعی ہمیں اتنی عزیز ہے اور اس کے احترام میں ہمارا احترام ہے تو اس کا مظاہرہ تو اس کو اپنے برابر رکھ کر بھی تو کیا جا سکتا ہے لیکن جہاں گھر کے بڑے فیصلوں کی بات آتی ہے ، وہاں عورت کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ عورت کو احترام دینا ہے تو معاشرتی اور گھر کے دیگر معاملات میں اس کی رائے پوچھ لیں کہ وہ کیا چاہتی ہے۔ اس کی مرضی گھر میں پوچھیں تو وہ یہ سوال لے کر سڑک پر نہیں آئے گی۔
محسوس ہوتا ہے کہ عورت کے اسٹیریوٹائپڈ کردار سے ہم مرد اور بہت ساری خواتین خوش ہیں اور اس کو ہی ایک معاشرتی رویہ کے طور پر اچھا سمجھتے ہیں۔ مثال کے طور پر مرد سڑک پر گالی دے سکتا ہے لیکن خواتین کے لیے گھر کے اندر ہنسنا بھی منع ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام میں مرد اور عورت دونوں ایک مال کے طور پر دیکھا جاتا ہیں لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سرمایہ دارانہ نظام اپنی جگہ لیکن ہم نے جو معاشرتی قدغنیں لگا رکھی ہیں ، وہ ہمارے معاشرتی رویے ہیں۔ کہتے ہیں کہ خراب حالات اور شدید غربت کی حالت میں اگر سب سے زیادہ تکلیف کی حالت میں کوئی ہے تو وہ ایک عورت ہے لیکن آج عورت ہمارے رویوں کے بدلنے کی بات کرتی ہے تو اسے بری عورت قرار دیا جاتا ہے۔


