گاؤں اور فطری ماحول ، انسانوں کی آخری پناہ گاہ



گاؤں کا لفظ سنتے ہی آپ کے ذہن میں سب سے پہلے کون سا خیال جنم لیتا ہے؟ یقیناً لہلہاتے کھیت، کھیلیان، درخت، صاف پانی کے چشمے، تازہ آب و ہوا، ندیاں، کھلے آسمان تلے چارہ چرتے جانور اور قدرت کا خالص پن۔

یہ وہ نقوش ہیں جو کہیں کسی ایسے گاؤں سے گزرتے ہمارے ذہنوں میں نقش ہو گئے اور آج بھی گاؤں کا لفظ سنتے ہی پھر سے ذہن میں ابھر آتے ہیں اور یہی گاؤں انسان کی اب تک کی بقاء کی آخری پونجی ہیں کیونکہ اگر یہ نہ رہے تو زندگیاں نہیں رہیں گی۔

سماجی سائنسدان ایک بڑی پرانی کہانی سناتے ہیں کہ انسان نے گھنے جنگل کے عین بیچ و بیچ ادھ کھائے پھلوں کو زمین میں دبا دیا تاکہ لمبے شکار کی مسافت سے واپسی پر وہ انہی پھلوں کو پھر سے کھا سکے لیکن جب چند روز بعد واپسی ہوئی تو کیا دیکھا کہ جہاں پھل دبائے گئے تھے وہاں ایک ننھا پودا سر نکالے کھڑا تھا۔

تجسس اور حیرت ہوئی کہ یہ ایک بڑے سے درخت کی طرح نظر آنے والا ننھا سا درخت بالآخر ہے کیا؟ لیکن پھر جواب نہ بن پانے کی صورت میں اسے وہیں چھوڑ کر جنگل کی آدم بستی میں واپس لوٹ گیا۔

کئی مہینوں بعد جب دوبارہ اس رستے سے کہیں گزرنے کا اتفاق ہوا تو دیکھا کہ جیسا پھل اس زمین میں دبایا گیا تھا ویسے کئی پھل اس تنے کی گھنی شاخوں پر موجود تھے اور اب وہ چھوٹا سا پودا ایک تناور درخت بن چکا تھا۔

اس سے حضرت انسان کو کچھ جادوئی باتیں سمجھ آئیں اور ساتھ میں یہ بھی پتا چلا کہ اب سیر ہو کر پھل کھانے کے ساتھ زیادہ پھل جمع کیے جائیں گے اور پھل حاصل کرنے کے بعد باقی ماندہ درخت سے اتنا ایندھن میسر آ جائے گا کہ سردی سے بچنے کے لیے رات کو سورج تلاش نہیں کرنا پڑے گا بلکہ انہی لکڑیوں کو جلا کر رات میں دن کا اہتمام کر لیا جائے گا۔

سماجی سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ یہیں سے اس ملاوٹ کی کہانی شروع ہوئی جس نے انسان سے اس کا خالص پن چھین لیا۔ اب وہ اسی زمین سے حاصل کردہ وسائل پر مسلط اور قابض ہے۔

انسان اب زمین کے سر کو کاٹ کر دھوئیں کی فیکٹریوں اور گدلے پانی والے شہر بنا رہا ہے۔ زرخیز مٹی میں ملاوٹی زرخیزی کی کھادیں ڈال کر اسے بانجھ کر رہا ہے۔ پلاسٹک کو کھانے کی اشتہاء میں شامل کر کے اسے مرغوب غذا بنا رہا ہے اور جنگلوں کو ختم کر کے کنکریٹ کے درخت بنا رہا ہے اور انہی وسائل کے بے دریغ استعمال و لاپروائی کے بعد بالآخر اس نہج پر پہنچ چکا ہے جہاں اس کے حصے میں اب محض چند ایسے گاؤں ہی بچتے ہیں جو اس کی آخری جمع پونجی ہیں اور ایک دن یہ وسائل بھی ختم ہو جائیں گے اور پھر ان سب کے بعد موسمیاتی تبدیلیوں کا ایک ایسا لامتناہی سیلاب ہو گا جو شاید اپنے ساتھ ان گنت زندگیوں کو بہا لے جائے۔

ایسے میں اگر کوئی کہیں امید کا پودا موجود ہے تو ہے اس معاشرے کا وہ متحرک نوجوان جو یہ سوچتا اور سمجھتا ہے کہ یہ غلط ہو رہا ہے اور اسی سوچ کو شعور دے کر پروان چڑھانے اور دوسروں تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔

یہ صبح کا وقت ہے۔ گاؤں کے داخلی رستے سے اڑتی ہوئی گرد میں سے ایک گاڑی قریبی عوامی ہال کی جانب بڑھ رہی ہے۔ ہال میں علاقے کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں موجود ہیں جنہیں اس ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے مثبت سوچ کو پروان چڑھانے اور اس میں باقی کے علاقے مکین کو شامل کرنے کے لیے ”تبدیلی کا معمار“ سمجھا گیا ہے۔

یہ سرگرمی شام پانچ بجے تک چار دن کے لیے جاری رہے گی جس میں مختلف نظریات اور خیالات کے مختلف نوجوان بشمول لڑکے اور لڑکیاں اپنی آراء سے حضرت انسان کی اس آخری جمع پونجی کو محفوظ بنانے کے لیے اپنا حصہ ڈالیں گے۔ یہ سب مل کر اس سدھار کی کوشش کر رہے ہیں جس سے آگے کا رستہ اگلی نسلوں کے لیے خوشگوار ہو گا اور اس پر آنے والی نسلیں یقیناً ان کی شکر گزار تو ہوں گی ہی ، لیکن شاید قدرت بھی مسکراتے ہوئے انہیں لمبی عمروں کی دعائیں دے۔

Facebook Comments HS