ہمارا تصور ذات کیسے بنتا ہے؟(قسط 5)


مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ کالج کے زمانے میں جب میں اور میری جماعت کے چند ساتھی سرتوڑ کوشش کررہے تھے کہ میڈیکل کالج میں داخلہ ہو جائے تاکہ ہم والدین کی خواہشات اور معاشرے کی توقعات کے مطابق ڈاکٹر بن جائیں تو ہمارے ایک استاد صاحب نے بڑی کام کی بات کی تھی کہ ”First Deserve Then Desire“

مطلب انہوں نے پھر ہمیں سمجھایا تھا کہ دیکھو ایک ڈاکٹر یا پھر میڈیکل کا طالب علم کتنی محنت کرتا ہے۔ سارا دن کلینک میں گزارنا اور پھر رات کے وقت کوئی سوتے کو جگا کر چیک اپ کروانے آ جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ تو ان کا کہنا تھا کہ اتنی زیادہ محنت آپ لوگ ابھی سے کرنا شروع کر دو یعنی کم از کم ڈاکٹر بننے کی نقل (Pretend) کرو اور پھر دیکھنا تم لوگ ایک دن ڈاکٹر بن ہی جاؤ گے۔

ہم آج اسی حوالے سے بات کریں گے۔ پچھلی قسط میں ہم نے ذکر کیا کہ ہم Self Expression اور Self Presentation کے زیراثر مختلف کام سر انجام دیتے ہیں۔

اگر آپ کے اعمال آپ کے تصور ذات کے مطابق ہیں تم ہم اسے Self Expression کہتے ہیں اور اگر آپ ایسے اعمال سر انجام دے رہے ہیں جو حالات کا تقاضا ہیں اور آپ کے اردگرد لوگوں کی وجہ سے ہیں تو ہم اسے Self Presentation کہتے ہیں۔ اعمال کی وجہ کوئی بھی ہو ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ ہمارے اعمال اور ہمارے رویے ہماری ذات کے تصور کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور اس مظہر کو ہم Self Perception Theory (تفصیل کے لیے پڑھیے قسط اول ) کہتے ہیں۔

ہوتا یہ ہے کہ جب ہم ”Self Expression“ سے کام لے رہے ہوتے ہیں تو ہمارا تصور ذات (Self Concept) مضبوط سے مضبوط ہوتا جاتا ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ ”Self Presentation“ کے تحت کیے جانے والے اعمال ہماری ذات اور تصور ذات پہ کسی طرح اثر انداز ہوتے ہیں؟ یعنی جب ہم ایسے اعمال سرانجام دینا شروع کر دیں جو دراصل ہمارے تصور ذات کے مطابق نہ ہوں۔ مثال کے طور پہ اگر آپ بہت شرمیلے واقع ہوئے ہیں اور یہ شرمیلا پن آپ کے تصور ذات کا حصہ ہے۔ لیکن ایک محفل میں آپ محسوس کرتے ہیں کہ صورت حال کا تقاضا ہے کہ آپ اپنے شرمیلے پن کو پس پشت ڈال کر لوگوں پر کھل جائیں۔

یہاں دلچسپ امر یہ ہے کہ جس طرح دوسرے لوگ جو اس محفل میں موجود ہیں،  آپ کو ایک ملنسار اور زندہ دل گمان کریں گے اسی طرح آپ بھی خود کو شرمیلے پن سے ہٹ کر دیکھنا شروع کر دیں گے۔ یعنی کہ ”Self Presentation“ کا اثر دوسرے لوگوں پہ تو ہوتا ہی ہے ، اس کا اثر آپ کی اپنی ذات بھی قبول کرنا شروع کر دیتی ہے۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ ”رانجھا رانجھا کردی میں آپے رانجھا ہوئی“

یعنی اپنی جو ذات آپ لوگوں کو دکھاتے ہیں آخر کار وہی ذات آپ کی اصل ذات بن جاتی ہے۔ ایک مشہور تجربے میں کچھ طلبہ کو ہدایت کی گئی کہ وہ سٹیج پہ ایسے کردار نبھائیں گے جس سے یہ ظاہر ہو کہ وہ ”Extrovert“ ہیں۔ یہ کردار نبھانے کے بعد ان طلبا نے کچھ مشقوں میں حصہ لیا اور آخر میں نتیجہ یہ نکلا کہ ان کرداروں کی وجہ سے یہ طلبا خود کو زیادہ ”Extrovert“ خیال کرنے لگے ہیں۔

یہ ایسی ہی بات ہے کہ آپ سمجھتے ہیں کہ آپ گانا بالکل نہیں گا سکتے لیکن کسی محفل میں کسی کو متاثر کرنے کے لیے آپ گانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لوگ آپ سے متاثر ہو کر آپ کو داد دیتے ہیں تو یقیناً آپ بھی اس بات سے متاثر ہوں گے کہ واہ میں گا سکتا ہوں۔ اور عین ممکن ہے آپ کا تصور ذات مکمل طور بدل جائے۔ اس حوالے سے حفظ ماتقدم ”Erving Goff man“ کا یہ انتباہ ذہن میں رکھیے۔

Choose your self-presentation carefully, for what starts out as a mask may become your face 

Facebook Comments HS