میں کہیں بچوں کو سکول چھوڑنے میں لیٹ تو نہیں ہوگیا تھا کیونکہ میری آنکھیں کھلی تھی لیکن آنکھوں کے سامنے اندھیرا تھا جیسے کمرے کی لائٹ ابھی تک آف ہو اور پردے نے کھڑکی کو مکمل ڈھانپ رکھا ہو۔ غنودگی تھی یا کچھ اور سمجھنا تھوڑا مشکل تھا لیکن آہستہ آہستہ کانوں نے کچھ آوازیں سنیں۔ سماعت نے جب دھیان دینا شروع کیا تو کچھ دھندلا منظر نظر آیا۔ کچھ لوگ ایک بھاری بھرکم پتھر کو ہٹانے کے لیے مدد پکار رہے تھے۔ شاید یہ وزنی پتھر ایک اور پتھر کے سہارے میرے اوپر تھا۔
آنکھیں جوں، جوں کھلتی جا رہی تھیں منظر تھوڑا واضح ہو رہا تھا۔ میں ایک کنکریٹ کے بڑے پتھر کے نیچے مٹی میں اٹی سانسوں سے آکسیجن کشید کر رہا تھا۔ ٹانگیں سن لیکن جسم کا باقی حصہ درد سے اتنا چور تھا کہ سمجھ نہیں پا رہا تھا، زیادہ تکلیف جسم کے کس حصے میں ہے۔ میرا سر اس قدر درد سے لبریز جیسے زمین کے ساتھ سلائی کر دیا گیا اور اسے اٹھانے کی کوششیں میں حرام مغز کی کھال کھینچتی محسوس ہو۔ یہ سب کیا تھا، ابھی بھی سمجھ نہیں آرہا تھا۔
Read more