کوکھ سے جڑے روگ کی کہانی

وہ ایک پرکشش جسم کی حامل خاتون تھی جسے سجنا، سنورنا پسند تھا۔ اسے اچھا لگتا تھا کہ اس کا شوہر اس کے پہنے گئے کپڑوں کی تعریف کرے، اس کے ہونٹوں کی لپ اسٹک کو دیکھ کر پاگل ہو جائے اور اس کے جسم پر فدا رہے لیکن اب اسے یہ بوسے کسی بنیے کے قرض کی طرح وبال لگ رہے تھے جن کی ادائیگی میں شاید وہ خود خرچ ہو جائے لیکن قرض نہ اترے۔ اسے اس قربت

Read more

شیام بنیگل کی دنیا

شیام بنیگل جی رخصت ہوئے۔ انہیں انڈین سینما کی دنیا میں پیرالل یا آرٹ سینما کا بانی مانا جاتا ہے۔ متوازی سینما (Parallel Cinema) دراصل فلمی دنیا میں ایک ایسا رجحان ہے جو روایتی کمرشل فلموں کے برعکس حقیقت پسندی، سماجی مسائل اور انسانی زندگی کے حقیقی پہلوؤں کو پیش کرتا ہے۔ یہ رجحان 1940 اور 1950 کی دہائی میں شروع ہوا اور 1970 اور 1980 کی دہائی میں اپنے عروج پر پہنچا۔ اس کی بنیادیں فرانسیسی نیو ویو (New

Read more

کلون مارکیٹ اور 150 روپے کی تھالی

یہ اس زمانے کے جاڑے کی بات ہے جب وقت تیزی سے نہیں گزرتا تھا۔ شام ہوتی تھی تو پورے اہتمام سے ہوتی تھی اور جب رات آتی تھی تو گلیوں تک سناٹا چھا جاتا تھا۔ اسی سناٹے بھری سردی میں کسی گھر کے عقبی دروازے کی چٹخنی کھلتی اور چادر اوڑھے کوئی جسم اس بازار کا رخ کرتا جو مردار مچھلیوں کے لیے مشہور تھا۔ لوگ ان مچھلیوں کو معجون سمجھ کر کھاتے اور تن کی سردی بھگاتے لیکن

Read more

پنجاب 1984: ستونت کور اور شیوے کی کہانی

کیا آپ کسی ایسی فلم کے بارے میں جانتے ہیں جس میں کام کرنے والے تقریباً سبھی اداکاروں نے اخلاقی طور پر اپنا معاوضہ لینے سے انکار کر دیا ہو اور بعد ازاں وہ فلم اتنی سوپر ہٹ ہوئی ہو کہ لوگوں نے اپنے چھوٹے بچوں سمیت 70، 80 سال کے بزرگوں کے ساتھ بھی سینما جاکر وہ فلم دیکھی ہو۔یہ 2014 ء میں پنجابی ڈائریکٹر انوراگ سنگھ کی ہدایتکاری میں بننے والی فلم ’پنجاب 1984‘ تھی۔ جس میں دلجیت

Read more

پاکستان کا خبرنامہ 2050

ناظرین آپ دیکھ رہے ہیں آکسیجن نیوز، سب سے پہلے ہیڈلائنز! (1) الیکشن کے میدان سے بڑی خبر! آرمڈ روبوٹ الیکشن میں حصہ لینے کے لیے اہل قرار۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ روبوٹکس کی کسی ایک مشینری پر پابندی لگا کے حالیہ الیکشن کو متنازعہ نہیں بنا سکتے۔ تحقیقات کر رہے کہ الیکشن کمیشن کو ایسے روبوٹ پر پابندی لگانے کے حوالے سے کی جانے والی میل کا تعلق کہیں امریکی ٹرانسفارمرز سے تو نہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان روبوٹکس

Read more

کلاس آف سیون: آسٹریلین شو کی کہانی

ویسے تو عمر کے ہر حصے کے تجربات، احساسات، نظریات اور جذبات دلچسپ اور عجیب ہوتے ہیں لیکن ٹین ایج اور سکول لائف کی زندگی ایک ایسی تجربہ گاہ ہے جہاں باقی کی زندگی کے لیے یہ تجربات، احساسات، نظریات اور جذبات اپنی جڑیں مضبوط کرتے ہیں اور آپ کا آپ بناتے ہیں۔ سماج اور سماجی برائیوں سے پہلا تعارف، رشتے کیا ہوتے ہیں اور انہیں کیسے نبھایا جاتا ہے، دھوکے دینے کے کون سے طریقے خود کے لیے نقصان

Read more

فلم ”کلی جوٹا“ کیوں دیکھنی چاہیے

فلم کو سوشل ایشو یا سوشل ایشو کو فلم سے جوڑا جائے تو ایسی فلم کی کہانی سنی سنائی اور دیکھی دکھائی لگتی ہے لیکن اگر کہانی کہنے اور دکھانے کا انداز ڈرافٹ کی بجائے کرافٹ سے نکلا ہو تو پھر ایسی فلم آپ کو اس مسئلے پر بیٹھ کر کتھارسس کرنے اور اسے ڈسکس کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ فلم میڈیم میں ایسے ہی کتھارسس کو سینما کا اصل پرزم ”میڈیم آف رئیل ایکسپریشن“ یا ”حقیقی اظہار کا ذریعہ“

Read more

لاہور میں طلبا دھرنا کیوں دیے بیٹھے ہیں

پنجاب اسمبلی کے سامنے گزشتہ چند روز سے طلباء کا دھرنا جاری ہے جو کہ اپنے مطالبات لیے وہاں خاک نشیں ہوئے بیٹھے ہیں۔ ان میں زیادہ تر طلباء کا تعلق پنجاب یونیورسٹی سے ہے اور اس دھرنے کا آغاز بھی پنجاب ہی کے ایک ضلع پاکپتن کی نمائندہ طلباء تنظیم کی جانب سے کیا گیا ہے۔ جی ہاں! ضلع پاکپتن وہی ضلع ہے جو ہمارے پرائم منسٹر صاحب کا پیر گھرانا ہے۔ یہ ضلع 25 لاکھ نفوس کی آبادی

Read more

ایک سکول کا اپنے طالبعلم کے نام خط

سلام، امید ہے تم خیریت سے ہو گے۔ کل تمھیں پاس سے گزرتے دیکھا تو آنکھوں پر یقین ہی نہیں آیا کہ یہ تم ہی ہو۔ کتنے بڑے ہو گئے ہو۔ کہاں کبھی تم ٹانگوں کی قینچی بنا کر سائیکل چلاتے میرے پاس آیا کرتے تھے اور کہاں اب یہ بڑا سا موٹرسائیکل زناٹے بھرتے پاس سے گزر جاتے ہو۔ محض گزر جاتے تو اور بات تھی لیکن اس خط کو لکھنے کی ایک بڑی وجہ تمھارے چہرے پر پھیلی

Read more

کلموہی

وہ ایک گرم دن تھا۔ ائیر کنڈشنز سے ٹھنڈے کیے گئے کمروں میں سکوت سا تھا، گھڑیال کی سوئیاں بنا آواز کے چپکے سے ایک دوسرے کے تعاقب میں تھیں۔ سڑک پر معمول کی ٹریفک کا شور تھا جبکہ دکانوں کے شیشوں سے ٹکرانے والے گرم ہوا کے تھپیڑے دکان کی اندرونی ٹھنڈک میں ضم ہو کے دم توڑ رہے تھے۔

ایسے موسم میں تو پرندے بھی گھونسلوں سے باہر نہیں نکلتے اور یہ تو پھر حضرت انسان کا علاقہ تھا۔ لوگ اپنے گھروں کے ٹھنڈے کمروں میں آرام فرما رہے تھے اور دور دور تک کسی گاہک کے آثار نہیں تھے ۔ اس وقت اس کی نشیلی آواز نے سناٹا ختم کیا۔

Read more

گاؤں اور فطری ماحول ، انسانوں کی آخری پناہ گاہ

گاؤں کا لفظ سنتے ہی آپ کے ذہن میں سب سے پہلے کون سا خیال جنم لیتا ہے؟ یقیناً لہلہاتے کھیت، کھیلیان، درخت، صاف پانی کے چشمے، تازہ آب و ہوا، ندیاں، کھلے آسمان تلے چارہ چرتے جانور اور قدرت کا خالص پن۔ یہ وہ نقوش ہیں جو کہیں کسی ایسے گاؤں سے گزرتے ہمارے ذہنوں میں نقش ہو گئے اور آج بھی گاؤں کا لفظ سنتے ہی پھر سے ذہن میں ابھر آتے ہیں اور یہی گاؤں انسان کی

Read more

ایک فری لانسر کی بیوی کا اپنی سہیلی کو خط

سلام سیما، کیسی ہو؟ امید ہے نئے گھر میں شفٹ ہونے کی تمام تر تیاریاں مکمل کرلی ہوں گی اور اس بند گلی کے آخری لمبے، ترنگے مکان میں یہ تمھارے آخری دن ہوں گے۔ بہت خوش قسمت ہو بھئی تم کہ تمھیں ایسا شوہر ملا ہے جو تمھاری ہر بات مانتا ہے اور تمھارے مشورے پر عمل کرتا ہے۔ کاش اس جہان کے سبھی مردوں کو اتنی عقل آ جائے لیکن میں نے شادی کے اس تجربے سے ایک

Read more

عظمیٰ، زارا اور ہمارے سوشل میڈیائی عقائد

کرونا وائرس سے لاک ڈاؤن میں گزرے دو ماہ اور اس کے بعد ٹھیک عید سے چند دن پہلے ہونے والے کراچی طیارہ سانحہ نے مجھ سمیت پوری سوشل میڈیائی قوم کو انتہائی جذباتی کر دیا تھا۔ اتنا جذباتی کہ ہم سوشل نیٹ ورکنگ نشستوں پر اس سانحے کو لے کر کئی دنوں تک ماتم کناں رہے۔ ناقابل شناخت لاشوں کے لواحقین اپنے پیاروں کی کسی ایک آنکھ، ناک، کان، انگلی یا ہاتھ کی ہڈی کا نماز جنازہ پڑھنے کے لیے

Read more

روٹی بیمہ پالیسی

سلام چاچا سلیمے۔ یہ میرا بیلی رفیق ہے۔ شہر میں یہ اور میں اکٹھے کالج پڑھتے تھے پھر اس کی نوکری ہوگئی اور میں گاؤں کا ہوکے رہ گیا۔ آج میری طرف گھر آیا تھا دعوت پے، سوچا اسے کھیت دکھا لاؤں۔ والسلام پتر۔ سارے کھیت ہی تیرے اپنے ہیں جہاں مرضی گھوم پھر۔ سلیمے نے دونوں لڑکوں کو گرمجوشی سے سلام کا جواب دیا۔ چچا سلیمے سے ملاقات کے بعد چہرے پر مسکراہٹ سجائے فیصل اور رفیق کھلیانوں میں

Read more

وبائی تنہائی میں مبتلا ایک دن کا احوال

وہ دن اور تھے جو گھڑی کے ہر گزرتے منٹ کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے علی الصبح شروع ہو جاتے اور سورج ڈوبنے تک بغیر کوئی مہلت دیے یوں بھاگتے کہ جیسے شام سے پہلے کہیں اور پہنچنا ہو۔ یہ وبائی تنہائی کے دن ہیں۔ عام تنہائی اور وبا کے دنوں کی تنہائی میں بھی اچھا خاصا فرق ہوتا ہے۔ عام دنوں کی تنہائی کو آپ اکیلے محسوس کرتے ہیں جبکہ وبا کی تنہائی میں آپ کی تنہائی ہر کوئی محسوس

Read more

میرا وچھڑیا پیکا دیس!

فضیلت کی عمر 22 سال ہے۔ رنگ گندمی، قد درمیانہ اور آنکھوں کے گرد سیاہ ہلکے ہیں۔ چہرہ انتہائی بوجھل، اداس اور جوانی میں بوڑھا دکھائی دے رہا ہے۔ آنکھیں تھکی ہوئی ہیں جو ظاہر کرتی ہیں کہ ان سے رونے کا بہت کام لیا گیا ہے جبکہ بالوں کی سیاہی بھی ماند ہے۔ پاوں کی جوتی گھس، گھس کے زمین برابر ہوچکی ہے اور کپڑوں کے رنگ بالکل ایسے ہیں جیسے کسی نے اینڈرائڈ موبائل سے تصویر کھینچنے کے

Read more

شہزادہ ہیری، ملکہ میگھن اور نئی سنڈریلا کی کہانی

برطانوی شہزادہ ہیری اور ان کی ملکہ میگھن نے گزشتہ دنوں خود سے منسوب تمام تر شاہی اعزازات سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا تھا اور آج انہوں نے باقاعدہ طور پر یہ کر دکھایا۔ ان سے تمام تر شاہی اعزازات، فنڈز اور دیگر سہولیات واپس لے لی گئی ہیں۔ شہزادہ ہیری اور ان کی ملکہ اب ایک عام ہیری اور میگھن کی طرح برطانیہ سے دور کسی الگ ملک میں اپنے نوزائیدہ بچے کے ساتھ باقی کی زندگی گزاریں

Read more

ڈئیر زندگی جیسی فلمیں ہمیں کیا سکھاتی ہیں

صبح ہوئی۔ آپ اٹھے۔ دن کے معمولات کو ترتیب دیا اور ان میں جڑ گئے۔ ایک تھکا دینے والا طویل دن۔ الجھن بھری شام۔ ڈھلتی رات۔ تھکاوٹ اور نیند۔ یا دوسری طرف ایک متبادل صبح۔ آپ اٹھے۔ دن کے بے ترتیب کام۔ فراغت بھرا دن۔ آوارہ شام۔ گہری رات، کچھ بیداری اور پھر نیند۔ زندگی کے ان بدلتے، جڑتے معمولات میں بھی زندگی کا خالی پن کہیں نہ کہیں برقرار رہتا ہے جو اس بات کی نشاندہی ہے کہ آپ

Read more

وہ جو اپنے ہی وطن میں پردیس کاٹ رہے ہیں

یہ اپنے، اپنے آبائی شہروں سے آنے والے چار لوگوں کا قافلہ ہے جن کی منزل ایک ہے۔ یہ سب لوگ روزگار کی تلاش میں اپنے آباد گھروں کو چھوڑ کر بظاہر دشت میں نکل آئے ہیں۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ سب کے سب گریجویٹس ہیں لیکن اپنے علاقوں میں نوکریاں نہ ملنے پر گھروں سے سینکڑوں میل دور روزی، روٹی کی تلاش میں سرکرداں ہیں۔

معیز 24 سالہ جواں، چاک و چوبند لڑکا ہے جو ننکانہ صاحب سے ہے۔ بظاہر مذہبی دکھتا ہے لیکن ملتے، جلتے خیالات کا مالک ہے۔ حال ہی میں اس کی نئی، نئی شادی ہوئی ہے۔ گھر میں سب سے بڑا ہے۔ تین چھوٹی بہنیں اور دو بھائی۔ باپ کسی زمانے میں ترکھان تھا لیکن اب بوڑھا ہو چکا ہے لہذا ترکھان نہیں بن سکتا۔ معیز کے سامنے زندگی نے ہمیشہ دو ہی آپشن رکھے۔ میٹرک پھر مزید پڑھائی یا کام، انٹرمیڈیٹ پھر مزید پڑھائی یا کام، گریجویشن پھر مزید پڑھائی یا کام، ماسٹر اور پھر مزید پڑھائی یا کام۔

Read more

مینوں لے چلو اوئے لاہور

2017 ء کے دوران انڈین پنجابی سینما سے ریلیز ہونے والی فلم ”لاہوریے“ کے ایک مشہور ڈائیلاگ ”او مینوں لے چلو اوئے لاہور“ کو لکھتے وقت فلم کے ڈائریکٹر و لکھت امبردیپ سنگھ نے شاید یہ نہیں سوچا ہوگا کہ ان کا لکھا یہ ڈائیلاگ بٹوارے کے درد کی عکاسی کرنے کے ساتھ ساتھ موجودہ دور کی کسی کہانی میں بھی نوحے کا کام کرسکتا ہے۔

Read more

باوفا عاشق، بے وفا شوہر اور اضافی روٹیاں

یہ بات تب شروع ہوتی ہے جب ایک دن سکول جاتے ہوئے اچانک سے وہ اس کے سامنے آگیا تھا۔ وہ ہچکچائی، ڈری اور سہمی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ اس نے آہستہ سے ایک کاغذ کا ٹکڑا اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔ ٹکڑا پکڑنے کی دیر تھی کہ وہ دیکھتے ہی دیکھتے گلی کی آخری نکڑ سے یوں اوجھل ہوا کہ جیسے چند منٹ پہلے وہ یہاں موجود ہی نہیں تھا۔عنبرین کو جنید ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا حالانکہ وہ اس کے چچا کا لڑکا تھا لیکن اس کی کچھ عادتیں تھی ہی ایسی۔ وہ عنبرین کو ہمیشہ یہ باور کرانے کی کوشش کرتا تھا کہ وہ اس کی معشوقہ ہے اور اس کو اسی کے ساتھ شادی کرنی ہے۔ زبانی باتوں تک تو یہ باتیں عنبرین بھی سہتی آرہی تھی لیکن آج یوں جنید کی طرف سے بیچ رستے رک کر رقعہ پکڑانے والی حرکت پر وہ تھوڑا ڈر گئی تھی۔

Read more

سسی آج بھی روتی ہے

اتوار کی چھٹی ان دفتری حضرات کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہوتی جو چھوٹے شہروں سے ہوتے ہیں اور اپنے گھروں سے دور کسی بڑے شہر میں روزی، روٹی کی خاطر تگ و دو میں مصروف رہتے ہیں۔ انہیں کم از کم ایک موقع میسر آجاتا ہے کہ وہ اپنے گھروں کو لوٹ سکیں۔ اپنی فیملی، اپنے دوستوں کے ساتھ ایک دن گزار سکیں اور اگر اس ایک چھٹی کے ساتھ مزید ایک اور رخصت عنایت ہو جائے تو مزہ دوبالا ہو جاتا ہے۔ اس دفعہ بھی ہفتے کے آخر میں دو چھٹیاں اکٹھی آرہی تھیں اور میں نے سوچ رکھا تھا کہ جمعہ کی شام ملتان کو خیرباد کہہ کے فوری گھر کے لیے رخت سفر باندھا جائے گا۔

Read more

ایک جنگ کے بعد کا خواب

میں کہیں بچوں کو سکول چھوڑنے میں لیٹ تو نہیں ہوگیا تھا کیونکہ میری آنکھیں کھلی تھی لیکن آنکھوں کے سامنے اندھیرا تھا جیسے کمرے کی لائٹ ابھی تک آف ہو اور پردے نے کھڑکی کو مکمل ڈھانپ رکھا ہو۔ غنودگی تھی یا کچھ اور سمجھنا تھوڑا مشکل تھا لیکن آہستہ آہستہ کانوں نے کچھ آوازیں سنیں۔ سماعت نے جب دھیان دینا شروع کیا تو کچھ دھندلا منظر نظر آیا۔ کچھ لوگ ایک بھاری بھرکم پتھر کو ہٹانے کے لیے مدد پکار رہے تھے۔ شاید یہ وزنی پتھر ایک اور پتھر کے سہارے میرے اوپر تھا۔

آنکھیں جوں، جوں کھلتی جا رہی تھیں منظر تھوڑا واضح ہو رہا تھا۔ میں ایک کنکریٹ کے بڑے پتھر کے نیچے مٹی میں اٹی سانسوں سے آکسیجن کشید کر رہا تھا۔ ٹانگیں سن لیکن جسم کا باقی حصہ درد سے اتنا چور تھا کہ سمجھ نہیں پا رہا تھا، زیادہ تکلیف جسم کے کس حصے میں ہے۔ میرا سر اس قدر درد سے لبریز جیسے زمین کے ساتھ سلائی کر دیا گیا اور اسے اٹھانے کی کوششیں میں حرام مغز کی کھال کھینچتی محسوس ہو۔ یہ سب کیا تھا، ابھی بھی سمجھ نہیں آرہا تھا۔

Read more

میرے شہر کا ”پرانا شہر“۔

ہر شہر میں کئی ایسے علاقے ہوتے ہیں جو جدت کی نئی دنیا میں نہیں ڈھلتے، وہاں زندگی ہمیشہ سادہ رہتی ہے۔ وہاں کی گلیاں، در و دیوار، رنگ و نور، روشنیاں، شامیں، راتیں غرض ہر ایک چیز متغیراتی عمل کی اس دوڑ میں شامل ہونے سے دور ہوتی ہے جسے وہ مصنوعی سمجھتی ہے اور وہاں کے لوگوں کا رہن سہن ان علاقوں کی روایات کو سالہا سال سے زندہ رکھے ہوتا ہے۔ لوگ نئی شکلوں میں ڈھل جاتے

Read more

تیسری جنس کا انتم سنسکار

اس کے پیدا ہونے پر سب سے زیادہ غصہ اس کے باپ کو تھا جبکہ ماں کے پہلو میں لیٹی وہ ابھی بھی ماں کے پیار کا لمس محسوس کر رہی تھی۔ نرم گذار گالوں کو اپنے ہی نرم و ملائم ہاتھوں سے چھونے پر وہ اس نئی دنیا کو محسوس کرنے کی کوششوں میں تھی۔ ممتا کی خوشبو اس کے پورے جسم سے آرہی تھی اور اس آغوش نے اسے حرارتِ جاں میں رکھا ہوا تھا۔ اس دنیا میں آئے اور

Read more

ایک ریہرسل روم کا احوال

یہ 12X10 کا ایک چھوٹا سا کمرہ ہے جس میں لگا ایک ٹن کا اے سی (AC)دن کے دس بجے اپنی 16 سولہ سینٹی گریڈ والی کولنگ سے یہاں آنے والے لوگوں کا مزاج ذرا ٹھنڈا رکھتا ہے لیکن پھر بھی کبھی کبھی دوپہر کے قریب سخت گرمی میں کمرے کے اندر کی ٹھنڈک ماند پڑ جاتی ہے اور یہاں موجود لوگوں کے درمیان کوئی نہ کوئی تلخ بات ہو ہی جاتی ہے۔ پچھلے چار دنوں سے اندر کا یہ

Read more

جب زمین انسانوں سے چھین لی گئی

2008ء میں ہالی ووڈ کی ایک مووی ریلیز ہوئی جس کا نام "The Day the earth stood still” تھا۔ اس فلم میں دنیا ختم ہونے کے چند مناظر دکھائے گئے اور دکھایا گیا کہ اس سیارے کا خاتمہ دوسرے تمام سیاروں کی مخلوقات ملکر کرنا چاہتی ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ اس زمین نامی سیارے کو انسانوں نے کسی بھی سپی شیز یا جیون جاتی کے قابل نہیں چھوڑا۔ خود انسانوں کے لیے بھی یہ جگہ اب محفوظ نہیں

Read more