عورت مارچ: نسوانیت کے ساتھ مذکر اور مونث


میں فطری طور پر ریلیوں جلسوں اور دھرنوں کے حق میں نہیں ہوں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہزاروں یا لاکھوں افراد کا مجمع سڑک پر جمع کر کے اسے بند کر دینا کہاں کی انسانیت ہے؟ اس سے سڑک پر سفر کرنے والوں کا وقت اور توانائی بے جا ضائع ہوتی ہے۔ ہمارے عزیر وزیراعظم نے ماضی میں 126 دن کا دھرنا دے دیا مگر پی ٹی وی کی دیواروں سے زیادہ کچھ نہ پھلانگ سکے۔

یہ دھرنے احتجاج ایک مہذب معاشرے کا طریقہ ہیں جہاں اخلاقی جرأت موجود ہوتی ہے ۔ ہمارے ہاں جرأت تو ہے لیکن اخلاقیات کی بستی اجاڑ ہے۔

عورت، یہ لفظ ہمیں ماں، بہن، بیٹی، ہمشیرہ اور زوجہ کی درجہ بندی میں تو قبول ہے مگر اس کی اپنی اور ذاتی شناخت سے ہمیں چڑ ہے۔

یہ ایک ضد ہے،  مرد ماننے کو تیار نہیں کہ عورت بے اختیار ہے اور عورت کا ماننا ہے کہ مرد اس کی آزادی کا خواہش مند نہیں۔ بستی میں لگی آگ کو مٹی کے تیل سے بجھایا نہیں جا سکتا۔ ویسے یہاں مٹی کے تیل سے مراد خلیل الرحمان قمر کو بھی لیا جا سکتا ہے اور کمال یہ ہے کہ جن کو حق چاہیے وہ بول نہیں رہیں ، لیکن ان کے لئے یہ سب بول کر اپنا چورن بیچ رہے ہیں۔

اس معاشرے کی دانائی کا اندازہ یہاں سے لگایا جا سکتا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر کئی ایسے ڈرامے نشر ہوتے ہیں کہ جن میں عورتوں کی منفی تصویر پیش کی جاتی ہے ، یہاں قابل تعریف وہ ڈرامہ بنا جس میں عورت نے بے وفائی کی اور مرد کہتا رہ گیا کہ میرے پاس تم ہو۔

حل یہ نہیں کہ ایک قدم عورت چلے اور ایک قدم مرد ، ایسے تو اختلافات پیدا ہوتے رہیں گے ۔ حل یہ ہے کہ دونوں ایک مٹھی کی طرح برابر قدم بڑھائیں۔ مذہبی عقیدے کے مطابق اگر حوا کو آدم کی پسلی سے پیدا کیا گیا تو حوا نے ہابیل اور قابیل کو عالم وجود میں لا کر حساب برابر کیا۔ بات کا خلاصہ یہ کہ مرد نے عورت کے ساتھ سونا سیکھا جاگنا نہیں۔

اس مارچ میں چند مرد بھی شامل تھے پھر بھی عورت مارچ چند خواتین کے ٹولے سے منسوب کرنا مناسب نہیں۔ کوئی شک اور ابہام نہیں کہ مختلف پلے کارڈ کے سبب یہ تحریک متنازع بنی۔ مثال کے طور پر ایک پلے کار جس پر لکھا تھا ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ اس پر مہذب معاشرے کو اعتراض تھا ۔ اگر یہ سلوگن میرا جسم میری مرضی کی بجائے ’’میرا جسم تمہاری نظریں‘‘ ہوتا تو شاید کسی کو اعتراض کا جواز نہ ملتا۔  اس طرح دیکھنے والوں کئی نظروں کا اعتراض بھی ختم ہو جاتا۔

دنیا بھر میں جس ملک کا انٹرنیٹ پر فحش مواد سرچ کرنے میں اول نمبر ہو، اس کے عوام کا عورت کے ہاتھ میں حقوق نسواں پر مبنی تحریروں اور تصویروں والے پوسٹرز دیکھ کر اعتراض بلاجواز ہے۔ عورت مارچ میں حصہ لینے والی عورتوں کو اگر یہاں ’کوٹھے والی‘ بھی کہا جاتا ہے تو یہ بھی مان لیں کہ اگر عورت کوٹھا چلا سکتی ہے تو وہ دنیا کا ہر کام کر سکتی ہے۔

اردو بھی کیا خوش ذائقہ زبان ہے جو سننے والوں کے کانوں میں شہد کا رس گھول دیتی ہے۔ اردو زبان میں عورت سے مرد کی آزادی کو طلاق اور عورت کی مرد سے آزادی کو خلع کہتے ہیں مگر پھر بھی یہاں سب عورتیں طلاق یافتہ ہیں۔

جب آواز کو دبایا جائے تو وہ چیخ بن کر ابھرتی ہے اور جب چیخ گونجتی تو سننے والوں کے کانوں میں چبھتی ہے۔

Facebook Comments HS