صادقین کی شاہکار پینٹنگ پر پردہ کیوں ڈالا گیا؟
صادقین پاکستان کے ایک بہت بڑے پینٹر اور کیلی گرافر گزرے ہیں، انہیں اپنی منفرد تخلیقات کے حوالے سے پوری دنیا میں جانا جاتا ہے۔ بلاشبہ وہ پاکستان کے سب سے بڑے پینٹر اور کیلی گرافر تھے۔
آئی ای آر (انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ) پنجاب یونیورسٹی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ساٹھ کی دہائی کے اوائل میں آئی ای آر کی لائبریری میں بیٹھ کر انہوں نے ایک خوبصورت فن پارہ تیار کیا جو اسی لائبریری کے داخلی دروازے کے اوپر والی دیوار پر آویزاں کیا گیا، یہ ایک انتہائی قیمتی پینٹنگ ہے، جو انسان کے ارتقاء، علم و آگہی کی جستجو اور علم کی روشنی تک رسائی کی عکاسی کر رہی ہے۔
ہمارے پینٹر دوست ”نعیم شہزاد“ کے مطابق:
مذکورہ فن پارے میں تجسس انسانی کو بہترین انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ انسان کے ابتدائی علوم ارضیات، اعداد، فلکیات اور طب کی طرف اشارہ ہے۔ اس مصوری میں دلکش بات اس کے رنگ ہیں۔ اس میں ایک بھی آتشیں رنگ نہیں استعمال ہوا ، آتشین رنگوں(وارم کلرز) سے اجتناب اس بات کی علامت ہے کہ علمی معراج مستقل اور آہستہ رو عمل ہے۔ آتشین رنگ جذباتیت اور سبک روانی کا اشارہ ہوتے ہیں۔ اس کی مثال مشہور زمانہ شاہکار چیخ ہے ”The scream“ ، سائز کے اعتبار سے بھی یہ ایک بہت بڑی پینٹنگ تھی جو لائبریری کی ایک طرف کی پوری دیوار کو کور کر رہی تھی۔
جب ہم یونیورسٹی میں پڑھتے تھے تو اس دیوار پر ہمیشہ ایک کپڑا لگا دیکھا، جس کے ذریعے اس فن پارے کو چھپا دیا گیا تھا، برصغیر کے اس عظیم فنکار کے اس شاہکار پر یہ کپڑا کیوں ڈالا گیا (جو لمبے عرصے تک پڑا رہا) یہ بھی اپنے آپ میں ایک درد ناک واقعہ ہے جو ہماری ذہنی اور اخلاقی پستی کا غماز ہے۔
جی ہاں پنجاب یونیورسٹی میں ایک مخصوص طلبہ کی جماعت (جس کا اثر و رسوخ پنجاب یونیورسٹی پر کئی دہائیوں سے ہے) کے خاص اذہان کو اس میں عریانی اور فحاشی نظر آئی تو یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس فحش نگاری سے پردہ ڈالا جائے، سب کا پردہ کرنا تو ممکن نہ تھا، اس لیے (اپنی عقلوں پر پڑے پردے کی طرح) اسی پر پردہ ڈال دیا گیا جو کئی سال تک پڑا رہا۔
اس دوران یونیورسٹی میں آنے والے ہزاروں طلبہ و طالبات اس پینٹنگ کے نظارے سے محروم رہے، یہ مرحلہ وار جنم لینے والی فرسودہ اور دقیانوسی سوچ کی نہج ہے جس کا آغاز 80 کی دہائی میں ہوا اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس میں کچھ ایسا اضافہ ہوتا ہے جو آپ نے سوچا بھی نہیں ہوتا۔
بعد ازاں اس کپڑے کو ہٹا دیا گیا۔
جب میں پاکستان ٹیلی ویژن میں کام کر رہا تھا تو ایک دن میں اپنی ٹیم لے کر وہاں پہنچا، میرا ارادہ تھا کہ اس عظیم فن پارے کو کیمرے میں قید کر کے کوئی شارٹ ڈاکیومنٹری یا رپورٹ تیار کی جائے، اس وقت کے لائبریرین جو ریٹائرمنٹ کے بالکل قریب تھے (میں ان کا نام بھول رہا ہوں) انہوں نے مجھے بطور اسٹوڈنٹ پہچان بھی لیا اور ہماری بہت آؤ بھگت کی لیکن کچھ آفیشل مجبوریوں کی بنا پر مجھے ریکارڈنگ کی اجازت نہ دی، مذکورہ تمام باتیں مجھے انہوں نے اسی دن چائے کے کپ پر بتائیں، جب صادقین اس پینٹنگ کو بنا رہے تھے تو یہ لائبریرین صاحب نئے نئے بھرتی ہوئے تھے اور ان کی ڈیوٹی صادقین کے ساتھ لگا دی گئی، اس طرح اس پینٹنگ کے تخلیق ہونے اور لائبریری میں آویزاں کیے جانے کے وہ عینی شاہد تھے۔
گزشتہ کئی دہائیوں میں ہماری ہر آنے والی نسل خواہ وہ کسی مدرسے سے فارغ التحصیل ہو یا یونیورسٹی سے، ذہنی و اخلاقی پستی اور انتہا پسندی کے معاملے میں ایک ہی سکول آف تھاٹ کی پیروکار نظر آتی ہے۔
صادقین کے اس فن پارے سے پردہ تو ہٹ گیا لیکن ہماری آنکھوں اور عقلوں پر پڑے جہالت کے اس پردے کے وا ہونے کا انتظار ہے، شاید جس کے بعد ہمارے اندر موجود خدا کا ودیعت کردہ تجسس انگڑائی لے اور ہم حقیقت دیکھنے اور سوال اٹھانے کے قابل ہوں۔



