میرے والد کی برسی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

2

آج صبح میں عجیب کشمکش میں تھی۔ سرد ہوا میرے بدن سے ٹکراتی تو عجیب طرح کی سنسناہٹ پیدا کرتی آج چھٹی حس بیدار تھی ، وہ کسی حادثے کے ہونے کا پتا دے رہی تھی ، فون کی گھنٹی بجی۔ وہ فون نہیں موت کا پیغام تھا۔

آج میرے والد کو گزرے پچیس برس بیت چکے ہیں ، ایسا لگتا ہے جیسے کل کی بات ہو۔ وہ دن قیامت سا تھا ، ایسا لگا میرے پاؤں کے نیچے جیسے کسی نے زمین کھینچ لی ہو۔ میں آج بھی نہیں بھولی ، وہ 11 مارچ کی صبح جب میرے والد کو حادثاتی طور پر گولی لگی ، وہ جانبر نہ ہو سکے۔

میرے والد ریلوے میں سرکاری ملازم تھے۔ میرے والد رات کے زخمی تھے ، صبح شہر پہنچے۔ والد کے دیرینہ دوست نے ٹیلی فون پر بتایا۔ والدہ محترمہ مجھے پڑوس میں چھوڑ کے گئیں۔ اس دن میرا دل ڈوبا جا رہا تھا ، کچھ کھانے کو من نہیں کر رہا تھا۔ مشکل سے ایک دو نوالے روٹی کے کھائے،  میں بہت کرب سے دو چار تھی۔

والدہ مجھے لینے آئیں۔ والد سے میری آخری ملاقات تھی۔ انہیں آپریشن تھیٹر لے جایا گیا لیکن مجھے کیا معلوم تھا قیامت آنے والی ہے ، والد کو جب کمرے میں لایا گیا تو وہ جانبر نہ ہو سکے ۔ انہوں نے میری اور والدہ کی طرف دیکھا کلمہ پڑھا اور جان دے دی۔ ایسا محسوس ہوا کہ میرے سر سے کسی نے چھت کھینچ لی ہو۔ میرے لئے یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا کہ میرے والد مجھ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جدا ہو گئے ہیں ، وہ ہمارا ساتھ چھوڑ کر چل دیے ہیں ، میں اس وقت محض 14 برس کی تھی۔

آج زندگی کے ہر قدم پر ان کی کمی کا شدت سے احساس ہوتا ہے۔ کوئی بھی کامیابی حاصل کرتی ہوں تو انھیں بہت یاد کرتی ہوں ، میرے والد وہ سایہ تھے جس سے میری زندگی گل و گلزار تھی۔ ان کی یادیں آج بھی میرے سینے میں دفن ہیں۔ ماضی کے جھروکوں کو جب دیکھتی ہوں تو 11 مارچ میری زندگی کا سیاہ ترین دن تھا ، جب سب کچھ تہس نہس ہو گیا تھا۔

میں ان کی واحد اولاد تھی۔ انہوں نے مجھے کبھی بیٹی ہونے کا احساس نہیں دلایا۔ وہ مجھے پڑھانا چاہتے تھے ، اعلیٰ مقام پ دیکھنا چاہتے تھے۔ اچھا انسان بنانا چاہتے تھے ، آج وہ حیات ہوتے تو مجھے اس جگہ پا کر بہت خوشی محسوس کرتے۔ وہ نہایت سخی تھے۔ دیانت داری اور وفاشعاری ان میں کوٹ کوٹ کے بھری تھی،  دوستوں میں وہ اپنی دریا دلی کی وجہ سے مشہور تھے۔ والدہ محترمہ نے بھی مجھے بہت پیار دیا حوصلہ دیا۔ لیکن وہ کہتے ہیں ناں کہ ہر رشتے کی اپنی اپنی جگہ ہوتی ہے ۔ یہ کمی تو عمر بھر پوری نہیں ہو پائے گی ، یہ وہ زخم ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اور گہرا ہوتا جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *