اکیسویں صدی میں جینے والے پرانے لوگ
بیس لاکھ سال پہلے آپ کو انسان کی وہی مانوس خصوصیات مل جاتی ہیں جو کہ آج بھی ہے۔ جیسا کہ بچوں کے لئے فکر مند مائیں، بے فکر کھیلتے کھودتے بچے، بوڑھے بزرگ جو صرف نصحیت حد تک رہ گئے ہوں اور سماجی پابندیوں سے الجھتے ہوئے نوجوان جو کہ ہر جگہ حسیناؤں کو متاثر کرنے کے لئے بے چین ہوں۔ قدیم انسان بھی اس طرح زندگی گزرتا تھا۔ رشتے نبھانا، دوستیاں رکھنا، اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا اور برتری حاصل کرنے کے لئے کوشش کرنا۔ لیکن یہ سب کچھ کرنا کوئی بڑی بات نہیں، کیونکہ ایسی بہت ساری خصوصیات تو جانوروں میں بھی پائی جاتی ہے۔ جانوروں کو بھی مصبیت کے وقت میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم ایک بہت بڑے خاندان کے افراد ہیں۔ وقت کی رفتار کے ساتھ ساتھ ہم نے باتیں کرنا سیکھا تاکہ ایک دوسرے سے خیالات کا اظہار کر سکیں۔ پھر رفتہ رفتہ ہم ان چیزوں کے بارے میں سوچنے لگے جن سے ہمیں سہولت میسر ہو۔ پتھروں سے آگ جلائی اور پتوں سے بدن ڈھانپنے کا سلسلہ شروع کیا۔
دور تک رابطے کے لیے پہاڑوں کی چوٹیوں پر آگ جلائی یا ڈھول بجائے۔ دوست اور دشمن کی شناسائی ہوئی۔ ہم گروہوں کی شکل میں رہنے لگے تاکہ دشمن سے محفوظ رہیں۔ لیکن اس وقت کے ان قدیم لوگوں کی زندگی میں کچھ رکاوٹیں اور مفروضے ایسے شامل ہوئے جن کے اثرات ابھی تک برقرار ہیں۔ ان میں سے سب سے اہم عناصر ثقافت اور مذہب ہیں۔
قدیم دور کے انسان نے جن چیزوں سے خوف محسوس کیا انہیں اپنا خدا تسلیم کر لیا۔ کوئی سورج سے خوفزدہ ہوا تو کسی نے آگ کو اپنا خدا مان لیا۔ آہستہ آہستہ مذاہب وجود میں آنا شروع ہوئے۔ کوئی سورج کی پوچا کرنے لگا تو کوئی آگ کی پرستش کرنے لگا اور بعض تو پتھر سے بھی متاثر ہوئے۔ آگے جا کر عبادات کا سلسلہ بھی ایک عجیب انداز میں شروع ہوا جو کہ مثال کے ساتھ زیادہ واضح ہو جائے گا۔
ایک شخص مخصوص حالت میں سورج کے سامنے بیٹھا ہے اور کچھ طلب کرتا ہے تو وہ شے اس کو میسر آ جاتی ہے تو اس کی سوچ یہیں اٹک کر رہ جاتی ہے کہ یہ چیز مل جانے کی وجہ سورج کے سامنے منفرد انداز میں بیٹھ کر طلب کرنا ہے، اس طرح وہ اس عمل کو عام کر دیتا ہے اور یوں عبادات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
جب کوئی دوسرا یہی عمل دہراتا ہے تو نتیجہ حسب توقع نہیں نکلتا پھر وہ نا امیدی کا شکار ہو جاتا ہے اور پہلے والے کے پاس چلا جاتا ہے۔ اس کے لئے پہلے والے کے مانگنے سے وہ چیز میسر ہو جاتی ہے تو وہ پہلا والا بابا یا پیر کا درجہ حاصل کر لیتا ہے اور وہ اس پوزیشن کا فائدہ اٹھا کر پیسے بھی طلب کرنا شروع کر دیتا ہے۔
اس عمل سے ہمیں محدود حد تک ترقی یا اطمینان تو مل جاتا ہے لیکن یہ لوگ ان کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں، جہنوں نے وقت کی رفتار کو جانچ لیا اور آگے بڑھتے گئے۔ گو کہ یہ محدود سطح تک سوچنے والے تعداد میں زیادہ ہیں لیکن یہ لوگ اعتماد کی کمی، خوف و ڈر اور لالچ میں مبتلا ہیں۔ پھر بیچ میں کئی صدیاں گزر گئیں۔ انسان اکیسویں صدی میں پہنچ گیا۔ انسان نئے دور میں وہ کچھ کر گیا جس کا تصور بھی ایک زمانے میں مذاق سمجھا جاتا تھا۔
زندگی کے ہر شعبے میں انسان نے خود کو سہولیات سے آراستہ کیا اور چاند تک رسائی ممکن بنائی۔ لیکن اس کے باوجود ایسے فرسودہ خیالات اور نظریات ابھی بھی قائم ہیں، جنہیں دیکھ کر یہ کہنا مشکل لگتا ہے کہ ہم اکیسویں صدی کے لوگ ہیں۔ کبھی کبھی تو یہ لگتا ہے کہ ہم آئے نہیں بلکہ کسی نے ہمیں گھسیٹ کر اکیسویں صدی میں لایا ہیں۔

