مان کر چلنے میں عافیت ہے
کچھ زیادہ پرانی بات نہیں ، محض پانچ برس قبل ہی کی بات ہے جب جدید مواصلاتی ذرائع ہونے کے باوجود روایتی خط و کتابت سے بات چیت کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔ بات خوشاب کے مضافاتی علاقوں سے گھومتی ہوئی جب دانائے راز کی ذات تک پہنچی تو ایک بات ضمناً وہاں لکھی تھی، آج موقعے کی مناسبت سے یاد آ گئی۔
خط کا متن تو کچھ اور تھا لیکن اس میں سے ایک اقتباس کچھ ہوں تھا کہ:
محبت اپنے آپ میں اک عجیب جذبہ ہے ، جس سے محبت ہو جائے اس کے آگے اپنا آپ نہ صرف کھلی کتاب کی مانند ہو جاتا ہے بلکہ دل چاہتا ہے کہ اپنے محبوب کو اپنے سے منسلک ہر بات، ہر چیز ، ہر جگہ اور ہر واقعہ بتایا جائے، دکھایا جائے۔ ایسا ہی اللہ کریم نے 27 رجب کی شب کو اپنے محبوب کو اپنی عظمت و بزرگی کی نشانیاں دکھانے کے لئے سفر معراج کا اہتمام کیا تھا۔
کہاوت مشہور ہے کہ سفر وسیلہ ظفر است۔ شاید اسی لئے دانائے راز بتاتے ہیں کہ جب دل اکتانے لگے ، اس فانی دنیا میں تنگی کا احساس ہونے لگے، قدم بوجھل پڑنے لگیں تو قدرے مختصر زاد سفر کے ساتھ کسی نئی انجانی ان دیکھی منزل کا رخ کرو۔ دیکھنے، سیکھنے کو بھی نیا ملے گا اور دل و دماغ میں فرحت بخش کشادگی کا احساس بھی ہو گا۔ انہی رستوں میں شاید کہیں آپ کے حصے کا فیض بھی آپ کو مل جائے۔ فیض بھی تالی کی طرح دو طرفہ ہوتا ہے ، یہ صرف لیا اور سمیٹا ہی نہیں جاتا بلکہ اپنے اپنے حصے کا فیض آگے تقسیم بھی کرنا ہوتا ہے۔
سفر معراج کی جزئیات تو کم و بیش سب کو معلوم ہیں کہ سفر کہاں سے اور کیسے شروع ہوا ، مسجد اقصیٰ تک کے پہلے پڑاؤ میں کیا کیا واقعات رونما ہوئے۔ مسجد اقصیٰ میں انبیاء کی امامت کے بعد دوسرے پڑاؤ کی طرف سفر کس شان سے شروع ہوا اور سدرۃ المنتہیٰ پہنچ کر وہاں کے مکیں کو بھی احساس ہوا کہ ساتھ آنے والے کے لئے یہ مقام منزل نہیں بلکہ محض ایک سنگ میل ہے، اصل منزل تو اس سے بھی آگے کی بات ہے۔ طور پہ موسیٰ علیہ السلام کا ننگے پاؤں جانا اور محبوب کبریا کو نعلین مبارکہ سمیت عرش پہ بلانا اور قاب قوسین کے ذکر پہ تو کئی باب باندھے گئے کہ قربت و محبت کی تشریح ہو سکے۔
ہر مکتب فکر نے اس الوہی محبت کو اس کے شایان شان انداز سے بیان کیا ہے لیکن جیسا کہ دانائے راز بتا چکے کہ اگر تمام پانی سیاہی بن جائے اور تمام درختوں کی قلم بن جائے تو بھی ان کے ذکر کا احاطہ ممکن نہیں ، لیکن اسی کے دیے ہوئے علم و گیان سے چند الفاظ جوڑ کر ان کی شان بیان کرنا بھی تو کسی سعادت سے کم نہیں۔ اس سارے واقعے میں حضرت ابوبکرؓ کے جملے نے عشق کو ایسی اٹھان بخشی کہ خود تو ‘صدیق’ کہلائے اور پیچھے آنے والوں کے لئے راہ متعین فرما دی۔
کفار نے پوچھا کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ رات کے ایک پہر کے مختصر سے حصے میں کوئی شخص زمین و آسمان کا سفر کر کے آ جائے تو فطری جواب ہی ملا کہ بظاہر ممکن نہیں لگتا ، فوراً اگلا حملہ ہوا کہ آپ کے پیغمبر ایسا فرماتے ہیں تو وہی جواب کچھ یوں پلٹا کہ ’’اگر انہوں نے کہا تو میں قسم کھاتا ہوں کہ سچ کہا ہے اور اس سفر کی تصدیق کرتا ہوں ’‘۔ محبوب اور محبوب بھی جو محبوب کبریا ہو ، کی زباں سے نکلا ہوا ہر ایک لفظ صرف اور صرف سچ ہی سے کشید کیا ہوا تو ہوتا ہے۔ اس کو تصدیق کی ضرورت نہیں۔ اس عمل سے معلوم ہوا کہ ماننا ضروری ہے، جاننا نہیں۔
آسانی میں رہیے ، مان کر چلنے ہی میں عافیت ہے۔ کیونکہ جو جان جاتے ہیں ان کی نہج بدل جاتی ہے۔ ان کے لئے قوانین بدل جاتے ہیں۔ ان کے لئے صبر و شکر کے مقام بدل جاتے ہیں۔


