یوم خواتین پر ایک نشست

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

8 مارچ کو دنیا بھر میں عالمی یوم خواتین منایا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی ہم یہ دن منانے کا اہتمام کرتے ہیں۔ مختلف سرگرمیوں کا انعقاد ہوتا ہے۔ سیمینار، کانفرنسیں، واک، مذاکرے، مباحثے اور نجانے کیا کیا۔ پہلے پہل ”یوم خواتین“ منانے کا اہتمام فقط لبرل طبقے اور خواتین کی طرف سے کیا جاتا تھا۔ رفتہ رفتہ دیگر حلقوں کو بھی یہ دن منانے کا خیال آیا۔ کچھ برسوں سے تبدیلی یہ آئی ہے کہ قدامت اورا عتدال پرست حلقے، ادارے اور تنظیمیں بھی یہ دن بصد اہتمام مناتی ہیں۔

بہت سی مذہبی تنظیمیں بھی نہایت باقاعدگی سے یہ دن منانے لگی ہیں۔ آٹھ مارچ کا دن آتا ہے تو رنگ برنگی محفلیں سجتی ہیں۔ آزادی اور حقوق نسواں کے مختلف پہلووں پر گفتگو ہوتی ہے۔ صنفی امتیاز کے خاتمے کے نعرے بلند ہوتے ہیں۔ چند برس سے ”عورت آزادی مارچ“ کا بھی خوب چرچا ہے۔ اس مارچ کی خصوصی تشہیر کی جاتی ہے۔ نئے نئے نعرے ایجاد ہوتے ہیں۔ دھوم دھام سے اس مارچ کا اہتمام ہوتا ہے۔ اگرچہ عورت آزادی مارچ کے مثبت پہلو بھی ہیں، لیکن ”میرا جسم، میری مرضی“ جیسے متنازع نعروں کی وجہ سے یہ مارچ پہلے دن سے ہی تنازعات اور تنقید کی زد میں ہے۔ بہرحال اچھی بات یہ ہے کہ آٹھ مارچ کے دن ہر کوئی اپنے اپنے انداز میں خواتین کے حقوق کی بات کرتا ہے۔ خواتین کے ساتھ ہونے والی سماجی نا انصافیوں، جسمانی تشدد اور صنفی امتیاز جیسے معاملات کے خلاف آوازیں بلند ہوتی ہے۔

جماعت اسلامی کا حلقہ خواتین (women wing) بھی عالمی یوم خواتین کے ضمن میں باقاعدگی سے مختلف سرگرمیاں منعقد کرتا ہے۔ ملک کے مختلف شہروں میں اجتماعات کا اہتمام ہوتا ہے۔ ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی اس حوالے سے کافی متحرک رہتی ہیں۔ وہ اور دیگر خواتین مل کر ہر سال ایک بڑی کانفرنس کا انعقاد کرتی ہیں۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے متعلق خواتین کو مدعو کیا جاتا ہے۔ گفت و شنید کی ایک طویل محفل سجتی ہے۔ خواتین کے حقوق پر بات ہوتی ہے۔

اس مرتبہ بھی جماعت کے حلقہ خواتین نے ”یوم خواتین“ کے حوالے سے ایک نشست کا اہتمام کیا۔ حسب معمول مجھے بھی بطور مقرر شرکت کی دعوت موصول ہوئی۔ پنڈال چھوٹی بچیوں، لڑکیوں اور خواتین سے بھرا ہوا تھا۔ بیشتر خواتین حجاب میں تھیں۔ اگرچہ پردہ یا حجاب میرے معمولات کا حصہ نہیں، لیکن سچ یہ ہے کہ دوپٹے، پردے اور حجاب میں لپٹی خواتین مجھے ہمیشہ اچھی لگتی ہیں۔ چھوٹی چھوٹی معصوم بچیاں بھی حجاب پہنے خوبصورت نظر آتی ہیں۔

جب بھی ایسی کسی محفل میں جاتی ہوں تو خیال آتا ہے نجانے کیوں حجاب اور پردے کو کچھ حلقوں نے قدامت پسندی سے جوڑ رکھا ہے۔ اس سال کی کانفرنس کا موضوع تھا ”مضبوط خاندان، محفوظ عورت اور مستحکم معاشرہ“ ۔ پینل میں پروفیسر، صحافی، کالم نگار، ڈاکٹر، عالم دین، کاروباری اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والی معروف خواتین موجود تھیں۔ سب نے نہایت مثبت گفتگو کی۔ عورت کی آزادی، حقوق، اور حدود کا تذکرہ کیا۔

شرکاء نے خاص طور پر مضبوط خاندان کی اہمیت اور ضرورت بیان کی۔ عورت کی مضبوطی کے لئے خاندان کی اہمیت پر زور دیا۔ یہ تذکرہ بھی ہوا کہ کس طرح مغرب ہمارے خاندانی نظام کے درپے ہے۔ اسے تباہ و برباد کر دینا چاہتا ہے۔ میری باری آئی تو میں نے بھی مختصر اظہار خیال کیا۔ مضبوط خاندان کی اہمیت بیان کرنے کے بعد عرض کیا کہ ہماری نوجوان نسل کو معلوم ہونا چاہیے کہ آزادی نسواں ہمارے لئے کوئی نئی چیز نہیں ہیں۔ ہمارا مذہب اسلام چودہ سو سال پہلے خواتین کو حقوق دے چکا ہے۔

بہت اچھی بات ہے کہ آج پاکستانی خواتین بزنس کرتی ہیں۔ افواج پاکستان کا حصہ ہیں۔ دیگر شعبوں میں متحرک ہیں۔ مگر ہماری بچیوں کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ چودہ سو سال پہلے بھی حضرت خدیجہؓ بزنس کیا کرتی تھیں۔ اس زمانے میں بھی صحابیات جنگیں لڑا کرتی تھیں۔ بڑے بڑے جید صحابہ کرامؓ اس زمانے میں بھی حضرت عائشہ صدیقہؓ سے احادیث کی تصدیق کے لئے تشریف لاتے تھے۔ ہمیں اپنی قومی اور سیاسی تاریخ بھی معلوم ہونی چاہیے۔ نوجوان بچیوں کو 1947 سے پہلے خواتین کے کردار سے آگہی ہونی چاہیے۔

انہیں پتہ ہونا چاہیے کہ اس زمانے میں خواتین نے تحریک آزادی میں بھرپور کردار ادا کیا۔ قائد کا پیغام گھر گھر پہنچایا۔ قید ہوئیں۔ جیلوں میں گئیں۔ ان کا پردہ بلکہ شٹل کاک برقعہ بھی ان کی راہ کی دیوار نہیں بنا۔ لہٰذا ہمارے لئے عورت کی آزادی کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ ہماری اسلامی اور سیاسی تاریخ مسلمان خواتین کے متحرک کردار سے بھری پڑی ہے۔

گفتگو جاری تھی کہ امیر جماعت اسلامی، سراج الحق صاحب چلے آئے۔ ایک جانب بیٹھے خواتین کی گفتگو سنتے رہے۔ آخر میں خطاب فرمایا۔ کہنے لگے کہ جماعت اسلامی خواتین کے سماجی، معاشی اور سیاسی حقوق کی حامی ہے۔ ہم خواتین کے ووٹ کے حق کی حمایت کرتے ہیں۔ نہایت لطیف انداز میں ووٹ چوری کا تذکرہ کیا۔ کہنے لگے کہ ویسے تو ووٹ ڈالنے کے معاملے میں مرد بھی مظلوم ہیں۔ ووٹ ڈالتے وہ کسی کو ہیں، لیکن ڈبے سے وہ ووٹ نکلتا کسی اور کے نام سے ہے۔

دفاتر میں کام کرنے والی خواتین کا انہوں نے خصوصی تذکرہ کیا۔ کہنے لگے ہم چاہتے ہیں کہ خواتین دفاتر میں نوکریاں کریں، لیکن انہیں مردوں سے زیادہ سہولیات حاصل ہوں۔ کاروکاری، ونی اور قرآن سے شادی جیسی رسومات کے خاتمے کی بات کی۔ آخر میں انہوں نے کچھ سیاسی باتیں بھی کیں۔ موجودہ حکومت کے لتے لئے۔ ملکی معیشت کی تباہ حالی کا ذکر کیا۔ مہنگائی کی وجہ سے غریب آدمی کی کمر ٹوٹنے کا نوحہ پڑھا۔

اس کے بعد یہ تقریب اختتام پذیر ہوئی۔ اس تقریب کے دوران ہونے والی مثبت باتیں سنتے ہوئے مجھے خیال آتا رہا کہ ہمارے معاشرے میں عدم برداشت بڑھتی جا رہی ہے۔ ہم ایک دوسرے کا نقطہ نظر سننے اور برداشت کرنے پر آمادہ نہیں۔ مختلف نقطہ ہائے نگاہ کے مابین خلیج حائل ہے۔ ایک طرف ایک خاص لبرل طبقہ کی نمائندہ خواتین ہیں، جو لٹھ لے کر مردوں کے پیچھے دوڑتی نظر آتی ہیں۔ دوسری طرف مذہب کے نام پر عورت کو گھر کی چار دیواری میں مقید رکھنے والا طبقہ ہے۔

سچ یہ ہے کہ یہ دونوں نقطۂ نظر انتہا پسندی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس مجلس میں ہر طرح کی خواتین موجود تھیں۔ نقاب، حجاب، برقعہ، پہنے ہوئے۔ سر پر دوپٹہ اوڑھنے اور کاندھے پر دوپٹہ ٹکائے رکھنے والی خواتین بھی۔ انتہائی پڑھی لکھی اور کم پڑھی لکھی بھی۔ دفاتر میں کام کرنے والی اور گھریلو خواتین بھی۔ سچی بات یہ ہے کہ مجھے خواتین کی آزادی اور حقوق کے حوالے سے ہونے والی ساری گفتگو میں کوئی سخت اور انتہا پسندانہ موقف سنائی نہیں دیا۔ اور یہی اس تقریب کی اصل خوبصورتی تھی۔

بشکریہ روزنامہ نئی بات

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *