سائنس کی دنیا سے کچھ نئی اور دلچسپ خبریں

1۔ ناسا کی خلائی گاڑی ”پرزروینس روور“ مریخ کی سطح پر کامیابی سے لینڈ کر گئی ہے اور اس نے سرخ سیارے کی غیر معمولی تصاویر بھیجنا شروع کر دی ہیں۔

2۔ یوکے میں اپنی نوعیت کی ایک منفرد تحقیق میں نوجوان صحت مند لوگوں کو کورونا وائرس سے متاثر کرنے کی منظوری دی گئی ہے جس سے وائرس کے خلاف نئی ادویات کی تیاری میں مدد ملنے کی امید ہے۔

3۔ ایک تحقیق کے مطابق فائزر کی کورونا وائرس کے خلاف ویکسین پہلی ڈوز کے بعد 85 فیصد تک مؤثر ثابت ہوئی ہے۔ ان نتائج کے مطابق ویکسین کی دوسری خوراک کو لمبے عرصے تک مؤخر کیا جا سکتا ہے۔

4۔ سائنس دانوں نے نابود ہونے کے خطرے سے دوچار جانور ”سیاہ پایہ فیرٹ“ کو تیس سال پہلے مر چکے فیرٹ کے جینز کا استعمال کرتے ہوئے کامیابی سے کلون کر لیا ہے۔

5۔ ایک دلچسپ تحقیق میں سائنس دانوں نے محو خواب لوگوں کے ساتھ رابطہ استوار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے جس کے مطابق ایسے لوگ خواب دیکھنے کے دوران ہاں یا نہ میں جواب دے سکتے ہیں۔

6۔ سائنس دانوں نے درختوں سے ایک نئی قسم کا پلاسٹک حاصل کیا ہے جس کو 96 فیصد کامیابی کے ساتھ ری سائیکل کیا جا سکتا ہے۔

7۔ بحرمنجمد کے نیچے برف کی تہہ ”پرما فراسٹ“ میں 60 ارب ٹن میتھین کے ذخائر ہیں جو اس گرین ہاؤس گیس کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

8۔ سائنس دانوں نے حادثاتی طور پر انٹارکٹیکا کے آخری سٹیشن سے سینکڑوں میل دور آدھا میل برف کی تہہ کے نیچے زندگی کے لیے انتہائی ناموافق دباؤ، درجہ حرارت اور بظاہر سمندری خوراک کی عدم موجودگی میں پنپتی ہوئی آبی حیات دریافت کی ہے۔

9۔ سائنس دانوں نے ایک نرم اور لچکدار جلدی چپکنے والا آلہ بنایا ہے جو بیک وقت خون کا دباؤ، دل کی رفتار اور دوسرے وائٹل سائنز مانیٹر کر سکتا ہے۔

10۔ تحقیق نے ظاہر کیا ہے کہ آج سے 42 ہزار سال پہلے زمین کا مقناطیسی میدان یکسر پلٹ گیا تھا جس کی وجہ سے زمینی ماحول میں انتہائی تبدیلیاں رونما ہوئی ہوں گی اور کئی طرح کی زمینی حیات نابود ہو گئی ہو گی۔

11۔ امریکی ادارے ایف ڈی اے نے جانسن اینڈ جانسن کمپنی کی کورونا وائرس کے خلاف ایک خوراک پر مبنی ویکسین کی منظوری دے دی ہے۔

12۔ مریضوں کے اپنے سٹیم سیلز کا استعمال کرتے ہوئے زخمی حرام مغز کو بحال کیا گیا ہے جس کی وجہ سے کئی مریض دوبارہ چلنے اور اپنے اعضاء کو حرکت دینے کے قابل ہو گئے ہیں۔

13۔ ایک منفرد تحقیق نے ظاہر کیا ہے کہ سمندری گھونگے ”کون سنیل“ کا زہر ”کونوٹاکسن“ ملیریا کے خلاف دوا کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

14۔ انٹارکٹیکا سے مین ہٹن کے سائز سے 20 گنا بڑا برفانی تودہ ٹوٹ کر علیحدہ ہو گیا ہے۔

15۔ ماہرین حیاتیات نے انسانی جسم میں 70 ہزار نئے وائرسز کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے جو انسانی نظام انہضام میں موجود بیکٹیریا پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ ان وائرسز کی افادیت پر مزید تحقیق جاری ہے۔

16۔ شہد کی مکھی کی ایک نادر قسم سو سال کے بعد دوبارہ آسٹریلیا میں نظر آئی ہے۔

17۔ سائنس دانوں نے 44 لاکھ سال پرانا ڈھانچہ دریافت کیا ہے جس کے مطالعے سے یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ پہلی انسان نما مخلوق نے سیدھا کھڑا ہو کر چلنا کب اور کیسے شروع کیا تھا۔

18۔ ماہرین فلکیات نے خیال ظاہر کیا ہے کہ بہت بڑے بلیک ہولز کہکشاؤں کے مرکز میں تاریک مادے کے مرتکز ہونے سے وجود میں آئے ہوں گے۔

19۔ ماہرین فلکیات نے انٹارکٹیکا کی سطح سے ٹکرانے والے ایک منفرد بھتنہ ذرے ”نیوٹرینو“ کا مشاہدہ کیا ہے۔ یہ نیوٹرینو 750 ملین نوری سال کے فاصلے پر ایک بلیک ہول سے ٹکرا کر فنا ہونے والے ستارے کا حصہ تھا۔ واضح رہے کہ نیوٹرینو تقریباً صفر کمیت کے حامل روشنی کی رفتار سے سفر کرنے والے ذرات ہوتے ہیں۔

20۔ استعمال شدہ فیس ماسک روڈ بنانے کے کام آ سکتے ہیں۔ آدھا کلومیٹر دو رویہ روڈ بنانے میں تقریباً تین ملین ماسک استعمال ہوتے ہیں۔

21۔ ماہرین نے طبیعات نے چار نئے سب اٹامک پارٹیکلز دریافت کیے ہیں جو قدرت کے سربستہ رازوں کو کھولنے میں معاون ثابت ہوں گے۔

22۔ انسان کی قریب ترین حیاتیاتی نوع نینڈرتھالز میں انسانی گفتگو کو اخذ کرنے اور دہرانے کی صلاحیت موجود تھی۔

23۔ دو انجنیئرز نے سٹار ٹریک اور سائنس فنکشن فلموں میں دکھائے جانے والے ”وارپ ڈرائیو“ کا ایک قابل عمل ماڈل پیش کیا ہے جو زمان و مکان کو سکیڑ کر روشنی سے بھی زیادہ رفتار حاصل کر سکتا ہے۔ یہ ماڈل 1994 میں ”اورکبئیر ڈرائیو“ کے نام سے پیش کیے جانے والے روشنی سے بھی تیز رفتار حاصل کرنے کے تصوراتی نظریہ کی ایک قابل عمل شکل ہے جو شاید انسان کے خلاء میں روشنی سے زیادہ رفتار سے سفر کرنے کے خواب کو عملی جامہ پہنا سکتا ہے۔

24۔ ایک سو ستر سال سے نابود خیال کیا جانے والا ایک نایاب پرندہ بورنیو کے جنگلات میں دوبارہ نظر آیا ہے۔

25۔ آکٹوپس نہ صرف جسمانی بلکہ جذباتی طور پر بھی درد محسوس کر سکتے ہیں۔
26۔ ماہرین فلکیات میں قطب شمالی کے اوپر پہلی دفعہ پلازما خلائی طوفان کا مشاہدہ کیا ہے۔
27۔ ناسا کی مریخ پر موجود خلائی گاڑی پرزروینس روور نے اپنی 21 فٹ طویل پہلی ڈرائیو مکمل کرلی ہے۔

28۔ اسپیس ایکس کا پروٹوٹائپ اسٹار شپ SN 10 تجرباتی پرواز کے بعد کامیابی سے زمین پر اتر تو گیا لیکن اترنے کے آٹھ منٹ بعد ہی پھٹ گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words