کرکٹ کی تاریخ کا ایک اور انوکھا آؤٹ جس نے نئی بحث چھیڑ دی
پولارڈ کے اپیل کیے جانے پر گراؤنڈ امپائر کی طرف سے ٹی وی امپائر سے مدد حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے قانون 37 کے مطابق دنوشکا کو آؤٹ قرار دے دیا۔
آئی سی سی کے قانون 37 کے مطابق بیٹسمین کو اس وقت آؤٹ قرار دے دیا جائے گا کہ جب بیٹسمین جان بوجھ کر فیلڈر کے لیے رکاوٹیں پیدا کرے یا اس کی توجہ ہٹانے کی کوشش کرے۔
Out or not?#WIvSLpic.twitter.com/zsFkfr5n69
— ESPNcricinfo (@ESPNcricinfo) March 11, 2021
سابق آسٹریلوی کھلاڑی اور سری لنکن کرکٹ بورڈ میں گزشتہ ماہ بطور ڈائریکٹر آف کرکٹ تعینات ہونے والے ٹام موڈی کا ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ ایسا بالکل نہیں لگتا کہ (دنوشکا کی طرف سے) جان بوجھ کر رکاوٹ ڈالی گئی ہو۔
“Wilful obstruction” no way was that wilful… #shocker #WIvSL
— Tom Moody (@TomMoodyCricket) March 10, 2021
ان کا ٹوئٹ میں مزید کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں اپیل ہی نہ کرتے۔
Don’t think that was willful at all. I wouldn’t appeal but hey 🤷🏿♂️🤷🏿♂️
— Daren Sammy (@darensammy88) March 10, 2021
کرکٹ کی تاریخ میں یہ انوکھا آؤٹ پہلا واقعہ نہیں ہے کہ جب امپائرز کی طرف سے دیے جانے والے فیصلے پر تنقید کی گئی ہو۔
لین ہٹن
جنوبی افریقہ کے 1951 میں انگلینڈ کے دورے کے دوران اوول کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے جانے والے پانچویں ٹیسٹ میچ میں بھی ایک ایسا ہی آؤٹ دیا گیا تھا۔
انگلینڈ کے بیٹسمین لین ہٹن کو اس وقت امپائر نے آؤٹ قرار دے دیا جب ان کے بلے سے گیند لگنے کے بعد وکٹ کو لگنے لگی اور انہوں نے تذبذب میں گیند کو دوبارہ بیٹ سے روک دیا۔
تاہم ان کے غیر دانستہ طور پر کیے گئے اس اقدام سے وکٹ کیپر رسل اینڈین کیچ نہیں پکڑ سکے تھے۔
رمیض راجہ
نومبر 1987 میں پاکستان کے بیٹسمین رمیض راجہ ایک روزہ میچز کی تاریخ میں پہلے بیٹسمین بنے۔
رمیض نے انگلینڈ کے خلاف کھیلے جانے والے ایک روزہ میچ کی آخری گیند پر اپنی سینچری مکمل کرنے کے لیے درکار دو رنز کے تعاقب میں پہلا رن مکمل کرنے کے بعد دوسرا رن لینے اور رن آؤٹ سے بچنے کے لیے گیند کو دوبارہ سے ہِٹ کر دیا۔
رمیض راجہ اس وقت 98 رنز پر کھیل رہے تھے۔ جب کہ پاکستان کو آخری گیند پر 23 رنز درکار تھے۔ تاہم رمیض نے اپنی سینچری مکمل کرنے کے لیے دانستہ طور پر گیند کو دوبارہ سے ہِٹ کیا۔
مہیندرا آمرناتھ
سن 1989 میں بھارت اور سری لنکا کے درمیان کھیلے جانے والے ایک روزہ میچ میں بھارتی بیٹسمین مہیندرا آمرناتھ کو فیلڈنگ میں رکاوٹ ڈالنے پر امپائر کی طرف سے آؤٹ قرار دے دیا گیا تھا۔
انہوں نے گیند کو ٹانگ مار کر اس وقت دوسری طرف پھینک دیا تھا۔ جب سری لنکن فیلڈرز رتنائیکے اور ارجنا رانا ٹنگا انہیں رن آؤٹ کرنے کے لیے گیند پکڑنے جا رہے تھے۔
انضمام الحق
سابق پاکستانی کپتان اور مایہ ناز بیٹسمین انضمام الحق کو 2006 میں بھارت کے خلاف کھیلے جانے والے ایک روزہ میچ میں اس وقت آؤٹ قرار دے دیا گیا جب ان کی کھیلی گئی شاٹ پر بھارتی فیلڈر سریش رائنا نے فیلڈنگ کرتے ہوئے گیند وکٹ کی طرف پھینک دی۔
https://twitter.com/CrapCric/status/1368827386628804609
محمد حفیظ
پاکستانی اوپننگ بیٹسمین محمد حفیظ کو فیلڈ میں رکاوٹ ڈالنے پر مارچ 2013 میں جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلے جانے والے ایک روزہ میچ میں اس وقت آؤٹ قرار دیا گیا جب انہوں نے وکٹس کے درمیان دوسرا رنز لیتے ہوئے اپنی لائن تبدیل کی اور اے بی ڈیویلیئرز کی تھرو انہیں لگی۔

امپائرز کی طرف سے محمد حفیظ کو آئی سی سی کے نئے قوانین کے مطابق آؤٹ دیا گیا۔ جو بیٹسمین کو رنز لیتے ہوئے اپنی لائن تبدیل کرنے سے روکتے ہیں۔
انور علی
اسی قانون کے تحت پاکستانی بیٹسمین انور علی کو 2013 میں جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلے جانے والے دوسرے ایک روزہ میچ میں بھی آؤٹ قرار دیا گیا۔
انہوں نے رن لیتے ہوئے اپنی لائن تبدیل کی۔ جس کی وجہ سے فیلڈر کی تھرو ان کے کندھے پر لگی جو کہ امپائرز کے مطابق رن آؤٹ سے بچنے کے لیے انور علی کی دانستہ کوشش تھی۔
بین اسٹوکس
کرکٹ کے روائتی حریفوں انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان 2015 میں کھیلے جانے والے ایک روزہ میچ کے 26ویں اوور کے درمیان انگلش بیٹسمین بین اسٹوکس کو امپائرز نے اس وقت آؤٹ قرار دے دیا۔ جب آسٹریلوی بولر مچل اسٹارک نے بین اسٹوکس کو کرائی جانے والی بال پر فیلڈنگ کرتے ہوئے انہیں رن آؤٹ کرنے کی کوشش میں گیند سے وکٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ تاہم گیند بین اسٹوکس کے بائیں ہاتھ پر لگی۔ جو کہ اس وقت کریز سے باہر تھے۔

رن آؤٹ کی اس کوشش پر جب آسٹریلوی کھلاڑیوں کی طرف سے آؤٹ کی اپیل کی گئی تو گراؤنڈ امپائرز نے آپس میں گفت و شنید کے بعد فیصلہ تھرڈ امپائر جوئل ولسن کو ریفر کیا۔ جنہوں نے اسٹوکس کو فیلڈنگ میں رکاوٹ ڈالنے پر آؤٹ قرار دیا۔


