نواز شریف کو الطاف حسین بنانے کی دھمکی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یوں تو وزیر اطلاعات شبلی فراز اور وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے آج اسلام آباد میں اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات سمیت وسیع تر سیاسی ایجنڈے پر مل کر کام کرنے کی دعوت دینے کے لئے پریس کانفرنس منعقد کی تھی لیکن اس میں مخالف سیاسی لیڈروں کو توہین آمیز القابات سے نوازنے اور دھمکیاں دینے کا سلسلہ جاری رہا۔ فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ اگر نواز شریف نے ایم کیو ایم کے بانی لیڈر الطاف حسین کی طرح رویہ اختیار کیا تو ان کا انجام بھی ویسا ہی ہوگا۔

حسب معمول اور توقع کے عین مطابق وفاقی وزیروں نے سینیٹ کے چئیرمین اور ڈپٹی چئیرمین کا انتخاب جیتنے کو تحریک انصاف کی شاندار کامیابی قرار دیا اور کہا کہ اب پارٹی اپنے منشور کے مطابق عوام کو سہولتیں فراہم کرنے کا کام شروع کرے گی۔ اس طرح یہ پہلی حکومت ہے جو اقتدار میں نصف مدت گزارنے اور سیاسی و معاشی معاملات کو تباہی کے کنارے تک پہنچانے کے بعد عوامی بہبود کے منصوبے شروع کرنے کا اعلان کررہی ہے۔ نعروں، جھوٹ اور تضاد پر کھڑی کسی ایسی حکومت کے نمائیندوں سے اور کیا توقع کی جاسکتی ہے۔ وہ کسی ایک اصول پر قائم رہنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ یوسف رضا گیلانی کی سینیٹر کے طور پر جیت پاکستانی انتخابی تاریخ میں ’ووٹوں کی خرید و فروخت‘ کا سب سے بڑا واقعہ تھا اور تحریک انصاف اور اس کے چئیرمین عمران خان اس قدر اصول پرست ہیں کہ انہوں نے 2018 میں سینیٹ میں ووٹ دینے کے لئے روپے لینے پر خیبر پختون خوا میں اپنے 20 ارکان کو پارٹی سے نکال دیا تھا۔

 تاہم جب عمران خان کو قومی اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ لینے پر مجبور ہونا پڑا تو وہ 16 ارکان اسمبلی بھی عمران خان کو ’چہیتے‘ ہو گئے جنہوں نے ان کے بقول روپے لے کر حفیظ شیخ کے مقابلے میں یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دیا تھا۔ یہ معاملہ تحریک انصاف الیکشن کمیشن میں بھی لے جا چکی ہے اور وزیر اعظم نے قومی اسمبلی کے فلور سے الیکشن کمیشن کو مشورہ بھی دیا تھا کہ سینیٹ انتخاب میں خرید و فروخت کی تفصیل جاننے کے لئے اسے ایجنسیوں سے خفیہ بریفنگ لینی چاہئے۔ حالانکہ اگر الیکشن کمیشن کو مفت مشورے بانٹنے کی بجائے وزیر اعظم، اپنی پارٹی کے پارلیمانی اجلاس میں دو ٹوک الفاظ میں کہہ سکتے تھے کہ جن لوگوں نے ان کی مرضی کے خلاف یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دیا تھا، وہ چھ مارچ کو انہیں اعتماد کا ووٹ نہ دیں۔ ایسے ’غلیظ‘ ووٹوں سے ان کی شفاف حکومت داغدار ہوجائے گی۔ لیکن اس وقت عمران خان اپنے ان ساتھیوں کے آنسو پونچھنے میں مصروف رہے جو حفیظ شیخ کی شکست پر سخت کبیدہ خاطر تھے۔

چئیرمین سینیٹ کے انتخاب میں جب ’خفیہ ووٹنگ‘ کا فائدہ سرکاری امیدوار کو ہؤا تو اسے تحریک انصاف کے لئے باعث شرم واقعہ قرار دینے کی بجائے شبلی فراز بڑے فخر سے اعلان کر رہے ہیں کہ دراصل مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی کی سیاسی حکمت عملی سے شدید اختلاف کے باوجود کبھی اپنے ارکان کو اپوزیشن کے امیدوار کو ناکام کروانے کی اجازت نہیں دے سکتی تھی۔ تحریک انصاف کی حکومت کے ساتھ اختلاف کی موجودہ نوعیت میں مسلم لیگ (ن) عمران خان کو کوئی سیاسی رعایت نہیں دے گی۔ شبلی فراز اور ان کے باس عمران خان ضرور یہ جانتے ہیں کہ یہ رعایت کن عناصر نے کس قیمت پر ان کی جھولی میں ڈالی ہے۔ مانگے کی اس کامیابی پر شرمندہ ہونے اور کسی بھی طرح اس موضوع پر بحث ختم کرنے کی بجائے، دونوں وفاقی وزیروں نے انتہائی ڈھٹائی سے ’احتساب اور شفافیت‘ کو اپنی حکومت کے بنیادی اصول قرار دیا ہے۔ تحریک انصاف کی انصاف پسندی، شفافیت اور احتساب کی زندہ مثال، دھوکے اور زور زبردستی کی بنیاد پر صادق سنجرانی کی کامیابی کی صورت میں سامنے آ چکی ہے۔ اس کے بعد میر کی زبان میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ تو تو نہ بول ظالم، بو آتی ہے دہاں سے۔

چئیرمین سینیٹ کے لئے اپنے امیدوار کو منتخب کروانے میں ’مدد‘ لینے کا جو بوجھ وزیر اعظم عمران خان کو اٹھانا پڑا ہے، آنے والے دنوں میں ان کی حکومت اسے ادا کرنے کے لئے ’اقدامات‘ کرتی رہے گی۔ شبلی فراز اور فواد چوہدری کی پریس کانفرنس کو یہ بوجھ اتارنے کی پہلی قسط سمجھنا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ جو وزیر اعظم اپوزیشن ارکان سے ملنے، اپوزیشن لیڈر سے انتہائی ضروری پارلیمانی امور میں مشاورت کرنے اور سیاسی مخالفین کے بارے میں دشنام طرازی کے علاوہ منہ کھولنے کا قائل نہ ہو، اس کے وزیر اب اسی اپوزیشن کو سیاسی اصلاحات اور خاص طور سے انتخابی اصلاحات کے لئے مل کر کام کرنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ لیکن جیسا کہ کہتے ہیں کہ بکری مینگنیوں کے بغیر دودھ نہیں دیتی بعینہ تحریک انصاف طعنے دینے، الزامات عائد کرنے اور دھمکیاں دیے بغیر اپوزیشن کو بات چیت کی دعوت بھی نہیں دے سکتی۔ آج بھی یہی دیکھنے میں آیا۔ اب ’ایک پیج‘ کے جو عناصر عمران خان پر سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کے لئے دباؤ ڈال رہے ہیں، وہ خود ہی اپنے انتخاب کے کارنامے دیکھ کر سر دھن رہے ہوں گے۔

کرپشن، این آر او نہ دینا اور اپوزیشن کی عاقبت نااندیشی کی باتیں تو اب معمول بن چکی ہیں اور کوئی بھی وزیر اعظم اور ان کے ساتھیوں کی ایسی باتوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ لیکن وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نے مریم نواز کو ملنے والی دھمکیوں اور اس پر آنے والے رد عمل کے جواب میں نواز شریف کو ایم کیو ایم کے الطاف حسین کے ساتھ ملانے کی افسوسناک کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے بھی اگر الطاف حسین والا لب و لہجہ اختیار کیا تو ان کا حشر بھی ان جیسا ہی ہوگا۔ اگرچہ تجربہ کار سیاسی کارکن کے طور پر فواد چوہدری نے اپنی ہی بات کوسنبھالنے کے لئے یہ اضافہ بھی کیا کہ جیسے الطاف حسین جلاوطن ہیں، ویسے ہی نواز شریف بھی کبھی وطن واپس نہیں آ سکیں گے۔ تاہم یہ حوالہ دیتے ہوئے دراصل یہ بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ جیسے الطاف حسین کی سیاست کو کراچی میں ’دفن‘ کر دیا گیا اور الطاف حسین کے سابق وفاداروں کو راتوں رات ایم کیو ایم پاکستان بنا کر ’ریاست‘ کے ساتھ مل کر چلنے اور تحریک انصاف کی حکومت کو کندھا دینے کے لئے استعمال کیا گیا تھا، وہی حال نواز شریف کے نام سے قائم مسلم لیگ کے ساتھ بھی کیا جا سکتا ہے۔

کہتے ہیں کہ انسان کو فرعونی لہجے میں بات نہیں کرنی چاہئے۔ بعض اوقات اس کا کہا ہی سامنے آجاتا ہے۔ جیسے فواد چوہدری آج الطاف حسین کو نشان عبرت بنانے کی بات تو کر رہے ہیں لیکن اپنے سابقہ محسن اور باس پرویز مشرف کے عبرت ناک انجام کے بارے میں منہ نہیں کھول سکتے۔ اگر الطاف حسین غدار تھا تو اس غدار کی مدد سے مئی 2007 میں کراچی میں قتل و غارت گری کروانے والے پرویز مشرف کو کیا نام دیا جائے گا۔ ایک خصوصی عدالت عمران خان اور فواد چوہدری کے اس ممدوح کو آئین شکنی کے الزام میں موت کی سزا دے چکی ہے۔ حکومت اس فیصلہ کو تسلیم کرنے سے منکر ہے حالانکہ اقتدار کی دوڑ میں شامل ہونے سے پہلے عمران خان، پرویز مشرف کے منہ زور ناقد تھے۔ دیانت کے ایسے کرشموں سے عمران خان اور فواد چوہدری دونوں کا دامن مالا مال ہے۔

نواز شریف اس وقت پنجاب کے سب سے مقبول لیڈر ہیں۔ متعدد غیر جانبدار تجزیہ نگار برملا کہتے ہیں کہ اگر تحریک انصاف کی معاشی اور انتظامی ناکامیوں کا سلسلہ جاری رہا اور پنجاب بدستور عمران خان کے چہیتے ’وسیم اکرم پلس‘ کے ہاتھوں بدحال رہا تو آئندہ انتخابات میں تحریک انصاف کو ٹکٹ دینے کے لئے امید وار نہیں ملیں گے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ کے لئے ابھی سے تگ و دو شروع ہے۔ فواد چوہدری اپنے موجودہ قائد کے جس ’ویژن‘ پر اترا رہے ہیں، وہ ان کا گھمنڈ اور نااہلی ہے جس کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوٹ چکا ہے۔ پنجاب کے مقبول لیڈر کو ’الطاف حسین‘ بنانے کی کوششیں تو عمران خان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے شروع کردی تھیں۔ تاہم تحریک انصاف کے لیڈروں کی بدکلامی اور اس کی حکومتوں کی پے درپے ناکامی نے نواز شریف کو عوام کی واحد امید بنا دیا ہے۔ اب اگر وفاقی وزیر عوام کو یہ بتائیں گے کہ وہی طاقتیں جنہوں نے الطاف حسین کو پاکستانی سیاست میں ہیرو سے زیرو بنا دیا ہے، وہ نواز شریف کے خلاف بھی سرگرم ہو سکتی ہیں اور ان کا سیاسی متھ ختم کیا جا سکتا ہے تو بہتر ہے کہ وہ اپنی رائے پر نظر ثانی کر لیں۔

نواز شریف تین بار اس ملک کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ وہ پنجاب کے مقبول ترین لیڈر کی حیثیت سے مسلمہ سیاسی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان کی حب الوطنی پر شک کرنے والے کی عقل کا ماتم کرنا پڑے گا۔ پنجاب نے آج تک اسٹبلشمنٹ کے خلاف آواز بلند نہیں کی۔ یہی صوبہ مقتدر حلقوں کی اصل طاقت ہے۔ اس صوبے کی مقبول قیادت کو نشان عبرت بنانے کے دھمکی نما دعوؤں سے سیاسی صورت حال خراب ہو گی۔ حکومت اور ان کے پشت پناہ جس قدر نواز شریف کو مسلمہ ریاستی حکمت عملی کے خلاف اٹھنے والی آواز قرار دینے کی کوشش کریں گے، اتنا ہی ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا۔ یہ درست ہے کہ نواز شریف کی سیاسی زندگی کا آغاز جنرل ضیا کی آمریت میں ہؤا لیکن گزشتہ دو دہائی سے انہوں نے خود مختار اور جمہوری سوچ رکھنے والے لیڈر کے طور پر اپنی پہچان راسخ کروائی ہے۔

تحریک انصاف ایک پیج کا نام لے کر سیاست کرتی ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ فوج اس کے سیاسی فیصلوں میں شریک ہے۔ یہی بات نواز شریف بھی کہتے ہیں۔ نواز شریف یہی کہتے ہیں کہ سیاست میں فوج کی مداخلت ختم ہونی چاہئے۔ اگر حکومتی نمائندے ان کے مؤقف کی تائید کریں گے تو انہیں خود سوچنا چاہئے کہ وہ کس کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ نادان دوست سے عقل مند دشمن بہتر ہوتا ہے۔ نہ نواز شریف، الطاف حسین ہیں اور نہ ہی انہوں نے کبھی ملک اور ریاست کے خلاف کوئی ہرزہ سرائی یا سازش کی ہے۔ نہ انہوں نے پیشہ ور قاتلوں کے ذریعے مخالف آوازوں کو دبانے کا کام کیا ہے۔ انہوں نے اسٹبلشمنٹ کے سیاسی کردار کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔

اب یہ آواز پاکستانی عوام کے دل کی آواز ہے۔ اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود نواز شریف اور مریم نواز اس آواز کے نمائندہ ہیں۔ ان دونوں کو کوئی بھی نقصان پہنچانے کی کوشش عوام کو مشتعل کرنے اور ان کے خوابوں کو چکنا چور کرنے کا سبب ہوگی۔ ہوسکتا ہے کہ زور زبردستی کا ایک مزید دور بالادست عناصر کے ہاتھ رہے لیکن اگر تشدد استعمال کرنے کی غلطی کی گئی تو نواز شریف اور مریم نواز ملک میں جمہوریت کی لازوال علامت کے طور پر بہرحال زندہ رہیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1811 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply