کیسی زمیں! کیسا آسماں!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امتیاز کارڈف رائل انفرمری میں بوڑھوں کے وارڈ کا رجسٹرار تھا۔ آج کل جاب کی صورتحال بہت خراب ہے۔ دس سال پہلے پاکستان انڈیا کے ڈاکٹروں کو گھر بیٹھے بیٹھے جاب مل جایا کرتی تھی۔ وہ اچھا وقت تھا۔ نہ کوئی امتحان تھا اور نہ کوئی مقابلہ۔ انگلینڈ کے ڈاکٹر پاس ہوتے تھے تو امریکا، کینیڈا اور آسٹریلیا چلے جاتے تھے اور انگلینڈ کے ہسپتال چلانے کے لیے ایشیا اور افریقہ سے ڈاکٹر آیا کرتے تھے۔ مگر اب صورتحال ہر جگہ خراب تھی۔

امریکا جانا اب آسان نہیں ہے لہٰذا انگریز ڈاکٹر انگلینڈ میں ہی رہتے ہیں اور اب تو نوکری ملنا بھی آسان کام نہیں ہے۔ اچھے ہسپتالوں میں نوکری ملتی ہی نہیں ہے۔ دوسرے اور تیسرے درجے کے ہسپتال جہاں انگریز ڈاکٹر نہیں جاتے وہاں نوکری کرنی پڑتی ہے۔ امتیاز ہمیشہ سے اچھا طالب علم تھا۔ خدا نے غریب بنایا تھا مگر ذہانت خوب دی تھی۔ میڈیکل کالج سے پاس ہونے کے بعد کچھ دوستوں، کچھ رشتہ داروں کی مدد سے وہ لندن پہنچ گیا تھا۔

لندن کا امتحان بہت آسانی سے پاس ہو گیا تھا، اس کے فوراً ہی بعد میڈیسن کی پرائمری بھی پاس ہو گئی تھی، اس کے بعد نوکری تو مل گئی تھی مگر ایسی جگہ ملی تھی جو اچھی نہ تھی۔ چھ مہینے وہاں کام کرنے کے بعد اس کا قرض تو اتر گیا مگر اس نے سیکھا کچھ نہ تھا۔ دوسری جاب بھی ایک کاؤنٹی ہسپتال میں ملی تھی جس سے کراچی میں ماں اور بہنوں کی زندگی بہتر ہو گئی تھی۔ مگر وہ کچھ ایسی چیزیں نہیں سیکھا تھا جو اس نے پہلے نہ دیکھی ہوں۔

بچپن ہی سے اس کی خواہش تھی کہ دل کی بیماریوں کا ڈاکٹر بنے۔ خواہش مضبوط سے مضبوط تر ہوتی گئی تھی۔ جب وہ میڈیکل کالج میں تھا اس کے ابا جان کا انتقال دل کی بیماری سے ہی ہوا تھا۔ اس وقت اس نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ دل کی بیماریوں کا ماہر بنے گا۔ کراچی میں ایسے ماہر تھے ہی کتنے۔ گنے چنے، اتنے کہ انگلیوں پر گن لو اور جن کی فیس اتنی کہ معاذ اللہ۔ غریب اگر بیمار پر گیا تو برسوں کی بچت ہفتے میں برابر۔ یہی کچھ اس کے ابا جان کے ساتھ ہوا تھا۔

وہ خود میڈیکل کالج میں تھا لہٰذا کسی پروفیسر نے اس سے تو فیس نہ لی تھی مگر ہسپتال کے اخراجات نے تھوڑے ہفتوں میں ہی مقروض بنا دیا تھا اور پروفیسر کی ماہرانہ صلاحیتیں، ہسپتال کی تمام سہولتیں، مہنگی مہنگی دوائیں اور ماں بہنوں کی بے انتہا دعائیں کچھ بھی ابا جان کی جان نہ بچا سکی تھیں۔ آخری دن، آخری شام اور آخری سورج غروب ہونے کے بعد مرنے سے تھوڑی دیر پہلے انہوں نے آنکھوں آنکھوں میں ہی کہا تا کہ بیٹا اگر دل کی بیماری کے ماہر بننا تو ایسا علاج نہ کرنا کہ دل کو تو بچا لو مگر زندہ رہنے سے خوف زدہ کردو کہ یہ قرض کہاں سے پورا ہوگا۔ اور اسی وقت اس نے پکا فیصلہ کیا تھا کہ وہ دل کی بیماری کا ماہر بنے گا۔

لندن آ کر دل کی بیماریوں کے ہسپتال میں تو نوکری نہ مل سکی تھی مگر بوڑھوں کے بیماریوں کے وارڈ میں نوکری مل گئی تھی اور خواب صرف خواب ہی بن کر رہ گیا تھا۔ اب وہ امتحان کے دوسرے حصے کی تیاری کر رہا تھا، اس امید کے ساتھ کے شاید ایم آر سی پی پاس ہونے کے بعد کسی اچھے ہسپتال کے کورونری کیئر یونٹ میں کام کرسکے تو کچھ سیکھ لے گا اور پھر وطن واپس جا کر شاید کسی کے کچھ کام آ سکے۔ یہاں ڈاکٹروں کی تنخواہ اچھی تھی۔ پچھلے تین سال کے عرصے میں امتیاز نے نہ صرف یہ کہ قرضے چکائے تھے بلکہ دو بہنوں کے ہاتھ بھی پیلے کر دیے تھے اور اب سب سے چھوٹی بہن رہ گئی تھی جس کی شادی بھی اس کی امی جان سال ڈیڑھ سال کے اندر کر دینا چاہتی تھیں۔ وقت دھیرے دھیرے، تیزی کے ساتھ گزر رہا تھا۔

جمعرات کا دن مصروف تھا۔ صبح کو کلینک تھی، دوپہر کو بڑا راؤنڈ اور آج تو وہ رات کو بھی کام کر رہا تھا۔ کلینک بہت مصروف گزری۔ مسٹر براؤن نے بیس منٹ لے لیے تھے، مسٹر جان آدھے گھنٹے بیٹھے رہے تھے، 72 سالہ ارتھر مور کو پندرہ منٹ دینے کے بعد داخل کرنا پڑگیا تھا۔ 70 سالہ جم ملکرنی کے السر میں پھر درد شروع ہو گیا تھا، 65 سالہ ایلزبتھ گل کو پریشانی تھی کہ اس کے بال گرنا شروع ہو گئے ہیں، 67 سالہ رابرٹ گلیور کے جوڑوں میں پھر درد اٹھنا شروع ہو گیا تھا جس کی وجہ سے اس کے جوگنگ کے پروگرام میں خلل پڑ گیا تھا۔ بڈھوں کے درمیان رہتے رہتے کبھی کبھی اسے احساس ہوتا تھا کہ اپنی جوانی کے باوجود وہ ان تمام بڈھوں سے زیادہ عمر کا ہے کیونکہ یہاں کے بڈھے بھی جوانوں سے کم نہیں تھے۔

وارڈ راؤنڈ معمول کے مطابق ہوا تھا۔ وہی روزانہ کے دستور کے مطابق بڈھے جم کو پچھلے سات ہفتے سے کوئی دیکھنے نہیں آیا تھا۔ فلپ پر پھر افسردگی کا دورہ پڑ گیا تھا۔ مائیکل کے بیڈ کی وہی صورتحال تھی۔ مالدار میری کے رشتہ دار اسی امید میں تھے کہ وہ جلد ہی مر جائے گی۔ مختلف شکلیں روز آتی جاتی رہتی تھیں۔ کسی کو سائیکائٹرسٹ کو دکھانا تھا۔ کسی کے لیے فزیوتھریپی کا بندوبست کرانا تھا۔ کسی کو سرجن کے پاس بھیجنا تھا تو کسی کو آنکھوں کے وارڈ میں ٹرانسفر کرنا تھا۔ پورا دن کلینک اور راؤنڈ کی نظر ہو گیا تھ۔ اس ملک کے بوڑھوں کو کتنا آرام میسر تھا، وہ اکثر سوچتا تھا کہ بڑھاپے میں انگلینڈ آ کر رہ جائے گا۔ کسی ہسپتال میں لاوارث کی موت مرنا اچھا ہے۔ بہ نسبت اس کے کہ اپنے ملک میں تمام وارثوں کی موجودگی کے باوجود سکون کی موت نہ آئے۔

رات کے بارہ بجے تھے کہ آپریٹر نے اسے فون کیا، ڈاکٹر تمہارے لیے ایک ٹیلی گرام ہے۔ لفظ ٹیلی گرام ایک خطرناک لفظ ہے۔ ہزارہا خیالات ایک طوفان کی طرح دماغ پر حملہ کر دیتے ہیں۔ کانپتے ہاتھوں سے اس نے پیلے رنگ کے لفافے کو کھولا تھا۔ امی کی طبیعت بہت خراب ہے جلد آجائیں، حامد۔ ایک پتلی سی لائن تھی، چند جملے تھے، خبر تھی نہ جانے کیا تھا۔ کراچی، بچپن، ابو، امی، بہنیں سب کے سب ایک فلم کی طرح اس کے ذہن کے پردے پر آنے لگے تھے۔

امی کو بلڈپریشر کی پرانی تکلیف تھی، خاص کر ابو کے انتقال کے بعد سے انہیں مستقل طور پر یہ دوائیں کھانی پڑ رہی تھیں۔ ہر ایک خط میں وہ لکھتا تھا کہ بلڈ پریشر کا خیال رکھیں، پچھلی دفعہ جب وہ کراچی گیا تھا تو اپنے جگری دوست نسیم کو تاکید کر کے آیا تھا کہ جب بھی موقع لگے گھر آ کر امی کا بلڈ پریشر چیک سپل برگ اور امی کے خط سے اسے پتہ لگتا رہتا تھا کہ وہ ٹھیک ہیں۔ انہیں اس بات کی بہت فکر تھی کہ ثریا کی شادی ابھی تک نہیں ہو سکی ہے اور امتیاز پر بہت زیادہ بوجھ ہے۔

اس نے کئی دفعہ انہیں لکھا تھا وہ کسی بات کی فکر نہ کریں، وہ خوش ہے اور جس طرح سے دو بہنوں کے فرض کو اس نے نبھایا ہے اسی طرح سے تیسری بہن کے فرض سے بھی سبکدوش ہو جائے گا، مگر ساتھ ہی اسے احساس تھا کہ وہ دل ہی دل میں دھیرے دھیرے اس کے لیے جل رہی ہیں۔ اس نے بے اختیار ہو کر میز پر رکھی ہوئی ماں کی تصویر کو بانہوں میں لے لیا، سینے سے لگایا، دھیرے سے چوما ”ارے، امی ایسا نہ کرنا۔ میرا انتظار تو کرنا تھا۔

میں آ رہا ہوں۔ ”اور بے اختیار اس کی آنکھوں سے آنسو نکل پرے تھے۔ اب کیا ہوا ہوگا، شاید یکایک بلڈ پریشر بڑھ گیا ہوگا، پھر نہ جانے کیا ہوا ہوگا، فالج، بے ہوشی، گردوں کا ناکارہ ہونا بلڈ پریشر سے بڑھنے والی تمام بیماریاں ایک کے بعد ایک اس کے ذہن میں آنے لگیں۔ اس نے فوراً ہی آپریٹر کو نسیم کا نمبر دیا کہ کم از کم نسیم سے تو بات ہو۔ جلد ہی نسیم سے بات ہوئی، اس نے بتایا کہ وہ سول ہسپتال کے میڈیکل وارڈ میں داخل ہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *