پی آئی اے پر یورپ کی فضائی حدود بند رہیں گی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


یورپین یونین ایئر سیفٹی ایجنسی نے پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کی طرف سے کیے گئے اب تک کے اقدامات کو ناکافی قرار دیا ہے۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن پر پابندی 31 مارچ تک ہے۔ لیکن اب یہ پابندی مزید کئی ماہ تک برقرار رہی گی۔ یورپین یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے کی پروازوں پر عائد پابندی غیر معینہ تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایاسا کی جانب سے فالو اپ پلان کے ضمن میں پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات تسلی بخش نہیں۔

پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی ابھی تک یہ ثابت نہیں کر سکی کہ اس نے سیفٹی مینیجمنٹ کے نظام کے تمام امور کا مؤثر طور پر اطلاق کیا ہے جو شکاگو کنونشن کے مطابق درکار ہیں۔ اگر پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کی طرف سے تسلی بحش جواب دیا جاتا تو یورپین یونین ایئر سیفٹی ایجنسی کا ایک وفد پاکستان کا دورہ کرتا اور پاکستان کی طرف سے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لینے بعد رپورٹ پیش کرتا لیکن ابھی تک تسلی بخش جواب نہ ملنے کی وجہ سے وفد نے پاکستان کا دورہ نہیں کیا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستانی پائیلٹوں کے جعلی لائسنسوں سے متعلق 24 جون کو پاکستان کے وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان نے پاکستانی پارلیمان کو بتایا تھا کہ ایک تفتیش کے نتیجے میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان میں کام کرنے والے آٹھ سو ساٹھ پائیلٹس میں سے دو سو ساٹھ سے زیادہ پائیلٹس کو حکام نے جو لائسنس جاری کیے ہیں ، وہ دھوکہ دہی کے ذریعے حاصل کیے گئے ہیں۔

وفاقی وزیر ہوا بازی کے بیان کے بعد یورپی یونین نے یکم جولائی 2020 سے 6 ماہ کے لیے پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی عائد کردی تھی ، بعد میں ان پابندیوں میں مزید تین ماہ کی توسیع کر دی تھی اور یہ پابندی 31 مارچ تک بڑھا دی گئی تھی۔ یورپین یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی یورپی ممالک میں ہوا بازی کا ایک مشترکہ نگران ادارہ ہے جو سیفٹی کے معاملات کو دیکھتا ہے۔

یہ ایجنسی یورپی یونین ممالک کے علاوہ دیگر ممالک کی ایئر لائنز کو ایک اجازت نامہ دیتی ہے جسے ’تھرڈ کنٹری آتھرائزیشن‘ یعنی ٹی سی او کہا جاتا ہے۔ ایاسا کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کے مطابق، تمام جعلی لائسنس والے پائیلٹس کو گراؤنڈ کر دیا گیا ہے۔ لیکن، یہ سب کافی نہیں ہے ۔ ایاسا اب بھی لائسنس اجراء کے طریق کار کے حوالے سے مطمئن نہیں۔ ذرائع کے مطابق یورپین یونین ایئر سیفٹی ایجنسی پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کی طرف سے کیے گئے اقدامات سے مطمئن نہیں ہے۔

یورپی ائر سیفٹی ایجنسی نے پائیلٹس کے لائسنس جاری کرنے کے نظام میں اصلاحات لانے کی یقین دہانی مانگی ہے جس میں ’ہیک فری سسٹم‘ بنانے اور غیر ملکی کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کرنے کی بھی تجویز دی گئی تھی جس پر ابھی تک عمل درآمد نہیں نہیں ہو سکا ہے۔ موجودہ حالات اور پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن اور سول ایوی ایشن کی طرف سے کیے گئے ناکافی اقدامات سے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معطلی میں تین ماہ کی مزید توسیع ہو سکتی ہے۔

اگر پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن اور سول ایوی ایشن نے یورپی ایئر سیفٹی ایجنسی کے تحفظات پر سنجیدگی دکھائی تو جون تک پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کو یورپ میں فضائی آپریشن کی اجازت مل سکتی ہے۔ اس حوالے سے جب فرانس میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن فرانس کے چیف ایگزیکٹو سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یورپین یونین ایئر سیفٹی ایجنسی کے تمام اعتراضات سول ایوی ایشن کے حوالے سے ہیں ، اس لیے سول ایوی ایشن ہی اس حوالے سے کوئی جواب دے سکتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply