محبت کی راہوں سے اچانک لوٹنے کا کرب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


یار اب پہلے جیسا جوش نہیں رہا۔ پتہ نہیں پہلے تو چوبیس گھنٹے تم سے ہی بات کرنے کو دل کرتا تھا، اب جیسے باتوں کا صندوق خالی ہو گیا ہے۔ تمہارا کوئی قصور نہیں ہے تم تو ایک اچھی لڑکی ہو۔ لیکن کیا کروں یہ جو کم بخت دل ہے ناں یہ تم سے بھر گیا ہے۔ کوئی غلط مطلب نہ نکالنا۔ ہم ہمیشہ اچھے دوست رہیں گے ( لڑکا اور لڑکی دوست! ہاہاہا)

دل اب تمہیں اس حیثیت سے قبول نہیں کر پا رہا ہے۔ مجھے امید ہے تم سمجھ رہی ہو گی۔ یونیورسٹی کی گیلری کے آخری کونے میں باقی لوگوں سے کچھ ہٹ کر دور ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کسی کی خوشیاں لے کر اڑ رہے تھے، کسی کے جذبات کو اپنی تیز رفتاری سے بکھیر رہے تھے۔ فق چہرہ لیے میں اپنی محبت کے سامنے ہمہ تن گوش تھی، جو مجھے اپنے الفاظ کے زہریلے تیر عین نشانے پر مار رہی تھی یا ایسا کہہ لیں جیسے کوئی صور پھونک رہا ہو۔

دو سال بات چیت کر کے، گھوم پھر کر اور مطابقت پیدا کرتے کرتے میری محبت نے یہ نتائج نکالے تھے کہ ہم صرف دوست رہ سکتے ہیں۔

یہ سب تو اس ستم گر کے بہانے تھے، وہ تو اس رشتے کی الوداعی تقریب کی تقریر سوچ کر آیا تھا۔

مجھے سو حیلے بہانے سنائے تھے۔ جن رشتوں کو انسان نبھانا چاہتا ہے ناں، ان میں حیلے بہانوں کی گنجائش نہیں ہوتی، اچھے برے وقتوں میں ایک دوسرے کا ساتھ بغیر کسی مفاد کے دیتے ہیں۔ ایک دوسرے کا احساس کرتے ہیں، رشتے کو اور بہتر بناتے ہیں اور ایک دوسرے سے وقتی اکتاتے بھی ہوں تو دل میں محبت اور عزت وہی رہتی ہے۔

میں نے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری، حلق میں جو درد کا گولا تھا ، اسے نگلا اور بولی:

میں تو تم سے محبت کرنے لگ گئی ہوں، میں تو تمہاری باتوں کی تمہاری شخصیت کی عادی ہو گئی ہوں۔ تم ایسا کیوں کہہ رہے ہو، تم ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہو؟

محبت کے لیے تو تم نے مجھے چنا تھا، میرے راستے میں تم آئے تھے۔ میں تو اپنی زندگی میں مگن تھی۔ محبت کے دروازے تو تم نے مجھ پر وا کیے تھے۔ اب جب میں اس راستے پر اپنے قدم جما چکی ہوں تم کیوں میرے پیروں تلے سے زمین کھینچ رہے ہو؟

تم جذباتی ہو رہی ہو، ہاں تم ٹھیک کہہ رہی ہو کہ میں نے تمہیں چنا تھا لیکن کون جانتا تھا محبت ہو گی بھی یا نہیں۔ یہ تو ایک بے اختیاری عمل ہوتا ہے۔

اتنے عرصے بعد بھی میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہمارے درمیان محبت ہے ، کم از کم میری طرف سے تو نہیں۔ میرا کیا قصور ہے جو میرے دل کو تم سے محبت نہیں ہو سکی۔

جگہ نہیں دے سکتے؟
(آنسو اب شدت سے بہہ رہے تھے )

تم یہ کہہ بھی کیسے سکتے ہو؟ روابط بڑھاتے ہوئے وہ کیا چیز تھی، وہ کیسے احساسات تھے جو تمہیں میرے پاس لائے۔ اس احساس کو کیا نام دو گے جسے میں نے اپنے دل میں جگایا ہے۔ وہ کیا جذبات تھے جن کی عرضی تم میرے پاس لائے تھے۔ میں نے تو اسے محبت سمجھ کر اپنے دل کے دروازے وا کیے تھے۔ میں کہاں جانتی تھی کہ لڑکا اور لڑکی محبت کے علاوہ دوستی اور کشش جیسا ناقابل وضاحت رشتہ بھی اپنے درمیان رکھتے ہیں۔ میں تو بس ایک چیز سے واقف تھی کہ ان کے درمیان محبت ہوتی ہے۔ دو لوگ جب اپنے خول سے باہر آتے ہیں، ایک دوسرے کی پروا کرتے ہیں، ایک دوسرے کو بہت سے یقین دلاتے ہیں تب بھی محبت کے معاملات تک پہنچنے کی گنجائش رہتی ہے؟

میں کیا جانتی تھی کہ اب لوگوں کی آنکھوں نے بھی جھوٹ بولنا سیکھ لیا ہے۔ ہوس اور دل لگی کرنے والوں نے دوستی کے نام پر اپنی آنکھوں کی تپش کو ٹھنڈا کرنا شروع کر دیا ہے۔ آہ! افسوس صد افسوس یہ میں نے کیا کر دیا؟

صحیح رشتہ بنانے کے لیے غلط راستہ چن لیا۔ لڑکے نے نظریں چرائی تھیں ، پتہ نہیں شرمندگی سے یا اس کی باتوں سے تنگ آ کر۔ مجھے بتاؤ میں کیا کروں؟

تم تو ہر رشتے سے انکاری ہو گئے ہو۔ میں اب کیسے کسی اور کو اس دل میں جگہ دے پاؤں گی؟ میں اس زخمی دل کو کس انسان کے پاس لے کر جاؤں؟

کون حوصلہ مند شخص ہو گا جو میری شکستہ روح اور زخمی دل کو قبول کرے گا؟

اف او! تم تو بہت جذباتی ہو رہی ہو۔ محبت درمیان میں کہاں سے آ گئی؟
وہ تو صرف ایک کشش تھی اور وہاں تک نہیں پہنچ سکی جہاں ہم ایک رشتہ ازدواج کا سوچتے۔ وہ بس شاید پہلی نظر کی کشش تھی۔

لمیں چیخ کر بولی تو بتاؤ مجھے وہ کون سا پیمانہ ہے، وہ کون سے اعداد و شمار ہیں جو بتاتے ہیں کہ یہ حد ہے جس کی بعد کشش محبت میں تبدیل ہو جاتی ہے؟

اس نے ایک گہرا سانس لیا اور اس کے کندھے تھامتے ہوئے بڑے رسان سے سمجھانا شروع کیا۔
میری بات غور سے سنو تم!

آج کل کی محبت ایسی ہی ہوتی ہے۔ ”پہلی نظر میں محبت“ کا زمانہ نہیں ہے، ”پہلی نظر میں شکار“ کا دور ہے۔

اس کے قدموں کا رخ اب تبدیل ہو رہا تھا۔
اللہ تمہیں خوش رکھے اور ہمیں اپنی زندگیوں میں ہمارے پسندیدہ ہم سفر ملیں۔
اللہ حافظ!

اور میں جہاں تھی وہیں دیکھتی رہ گئی۔ لوگ بڑھتے گئے، کم ہوتے رہے، باتوں کا شور، قہقہوں کا شور۔ لیکن مجھے ہر چیز سے وحشت ہونے لگ گئی تھی۔

اس دن میں جیسے تیسے بس گھر پہنچ گئی۔ دن رات میں ڈھلا، راتیں دن میں ڈھلتی گئی۔ میں نے ظاہری طور پر خود کو سنبھال لیا لیکن روح کے زخم اتنی آسانی سے جان نہیں چھوڑتے۔
آج بھی تنہا اپنے کمرے میں چھت کو گھورتے ہوئے میں اسی بارے میں سچج رہی تھی۔
اسی شخص کی ہی باتیں میرے ذہن میں گردش کرتی تھیں۔ میرے لاشعور اور شعور کے نتائج کچھ ایسے تھے کہ:

اللہ نہ کرے اب مجھے میرا پسندیدہ شخص ملے کیونکہ وہ تو اب دل توڑ کر جا چکا ہے۔ اللہ بس میں اب کہیں نہ بھٹکوں ،مجھے میرا نصیب ملے اور اسے میرے لیے مبارک ثابت کرے۔

اس دن ایک بات میری سمجھ میں آ گئی ہے ، وہ جیسا بھی تھا لیکن ایک انمول سبق مجھے دے کر گیا ہے۔ وہ یہ کہ محبت اچانک نہیں ہوتی ہو ہی نہیں سکتی۔ یہ کوئی بلب تھوڑی ہے کہ دل کیا بٹن آن کر دیا، دل کیا تو بند کر دیا۔

محبت تو دھیمی آنچ پر پکنے والا ایک ایسا پکوان ہے جس میں اشیاء کی تعداد اور ان کے ماپنے میں حسب ضرورت تبدیلی آتی رہتی ہے۔

شروع شروع میں تجسس، امید اور توقعات کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، پھر کچھ عرصہ بعد احساس، خیال اور ایمان داری ذائقہ بڑھانے میں اپنا اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ اس وقت تک توقعات پک چکی ہوتی ہیں اور وہ پک کر بھروسا کی شکل اختیار کر لیتی ہیں اور پکوان کو ایک اچھا رنگ اور خوشبو دے دیتی ہیں۔

ہر گھر، ہر شخص کے پکوان بنانے کے طریقے الگ ہو سکتے ہیں۔ کوئی اپنا خاص مصالحہ بھی ڈالتا ہے جس سے ذائقے اور دوبالا ہو جاتے ہیں۔ یہ لوگوں کی اپنی ذہانت کے اوپر منحصر ہے۔

میں یہ فیصلہ نہیں کر سکی کہ غلطی پر کون تھا وہ، میں یا صرف میں؟

معاشرے کی لحاظ سے تو میں ہی ہوں گی ۔ لیکن خدا کی عدالت میں مرد عورت کی تفریق نہیں ہے ، وہاں دنیا جیسے فیصلے نہیں ہوتے وہاں ہر کسی کو ایک ہی ترازو میں تولا جاتا ہے۔

چاہے قصور کسی کا بھی ہو انسان کو پروا اپنی ہونی چاہیے ۔ اپنے اعمال، اپنی اقدار کی۔ برائی پر اکسانے والے کو ہی سارا الزام نہیں دینا چاہیے۔ اس نے اسلامی، معاشرتی حدود کا خیال رکھا یا نہیں رکھا، مجھے خود کے لیے شرمندہ ہونا چاہیے کہ میں نے حرام میں سرور تلاش کرنے کی کوشش کی، اپنی اقدار کو بھولا، والدین کی سمجھائی ہر بات کو نظر انداز کیا۔ یہ صرف میری غلطی تھی کہ میں بھی اپنے راستے سے بھٹک گئی۔

میں اس کھیل میں کیے اپنے ہر عمل کی اللہ سے معافی مانگتی ہوں۔
میری نادانی سمجھ کر اللہ مجھے معاف کرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply