کیا پی ڈی ایم ابھی باقی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وقت بہت ظالم ہے۔ جو لوگ حکومت گرانے نکلے تھے ، آج وہ خود کو بچانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ جو انگلیاں حکومت کی طرف اٹھتی تھیں، آج وہی انگلیاں ایک دوسرے کی طرف اٹھتی دکھائی دے رہی ہیں۔ یہ دنیا مکافات عمل ہے ، کوئی حساب لے نہ لے ، وقت اس کا حساب ضرور لیتا ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن کو آپ نے دیکھا ہو گا کہ وہ کس طرح سے پی ڈی ایم کے جلسوں میں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے نظر آتے تھے لیکن اب انہی فضل الرحمٰن صاحب کا رویہ اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ پی ڈی ایم کے تلوں میں اب تیل باقی نہیں رہا ہے۔

انسان جو بوتا ہے وہی کاٹتا ہے ۔ ماضی میں مولانا فضل الرحمٰن نے سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد (مرحوم) کی استعفوں کی تجویز نہ مانی اور خیبر پختونخواہ کی حکومت بچائی اور آج پیپلز پارٹی نے اپنی سندھ حکومت بچانے کے لیے استعفوں سے انکار کیا ہے۔ اور اب بھی کچھ جماعتیں یہ اصرار کرتی نظر آ رہی ہیں کہ پی ڈی ایم ابھی بھی برقرار ہے اور پیپلز پارٹی کو دو ہفتوں کی مہلت دی گئی ہے ، خوش فہمی یہ ہے کہ وہ دو ہفتوں کے بعد اپنا یہ فیصلہ بدل لیں گے ۔ پیپلز پارٹی اپنا فیصلہ نہیں بدلے گی ، اس نے اپنے استعفے نواز شریف کی وطن واپسی سے مشروط کیے ہیں۔

اب یا تو نواز شریف کو واپس آنا ہو گا یا پی ڈی ایم پیپلز پارٹی کو کھو دے گی۔ اگرچہ پیپلز پارٹی کے پاس پنجاب میں عوام کی حمایت حاصل نہیں ہے لیکن اس کے اثر و رسوخ سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اور ان کے بغیر پی ڈی ایم کا وجود مردہ جسم کی مانند ہو گا۔ اس کے بغیر پی ڈی ایم حکومت کو مشکل سے دوچار کرنے میں ناکام رہے گی۔ مولانا فضل الرحمٰن دینی مدارس کے طلبہ لا کر جلسہ گاہ تو بھر سکتے ہیں لیکن حکومت کو مشکل میں نہیں لا سکتے ، اس کا اندازہ ان کے آزادی مارچ سے لگایا جا چکا ہے۔

اور نون لیگ بھی فضل الرحمٰن سے مل کر حکومت کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ پی ڈی ایم کا حکومت پر دباؤ اس وقت پڑتا ہے جب مولانا فضل الرحمٰن کے دائیں بائیں مریم بی بی اور بلاول ہوں۔ بلاول کے ایک طرف سے ہٹتے ہی پی ڈی ایم سیاسی پلڑا  بے وزن سا ہو کہ رہ گیا ہے۔

نون لیگ نواز شریف کو واپس لانے پر راضی نہیں ۔ پیپلز پارٹی استعفوں کے لیے تیار نہیں اور مولانا نے لانگ مارچ ملتوی کر دیا ہے، پھر بھی اس بات پر اصرار ہے کہ نہیں پی ڈی ایم بالکل بھی تباہ نہیں ہوئی، پی ڈی ایم قائم ہے۔

پنجابی کی ایک کہاوت ہے کہ بندہ مریا نئیں اکڑ گیا اے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply